Voice of Asia News

بیانیہ،نظریہ،سمجھوتہ اور مصلحت:سیف اعوان

انگریزی زبان میں بیانیہ کوNarrativeکہتے ہیں۔جبکہ بیان Narrationکہلاتا ہے۔ بسا اوقات بیان کو ہم Statement کے معنی میں بھی لیتے ہیں اور Narrationکو بیانیہ کا نام بھی دیتے ہیں۔ بیانیہ اور بیان(Narration ۔and Narrative.)آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی بغیر بیان کے بیانیے پر کوئی ڈسکورس، گفتگو، مکالمہ یا مباحثہ قائم ہوہی نہیں سکتا۔کسی بھی شخص کو اپنا بیانیہ بنانے کیلئے بہت مشکلات کا سامنا اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔بیانیہ بننے کے بعد اس بیانیے پر قائم رہنا جو بیانیہ بنانے سے بھی ایک مشکل کام ہے۔آپ نے اکثر و بیشتر ایسے لوگ لوگ دیکھے یا ان کے بارے میں سنا ہوگا کہ ایک شخص نے قوم کو بیانیہ دیا اور پوری قوم کی تقدیر بدل گئی۔بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ بیانیہ دینے والا شخص کن حالات میں زندگی گزاررہا ہوتاہے۔کیونکہ اس بیانیے کی وجہ سے اس کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔اس شخص کیلئے سب سے مشکل ترین کام لوگوں کو اپنے بیانیے پر قائل کرنا ہوتا ہے ۔اگربیانیہ کامیاب ہو جائے تو اس شخص کا نام صدیوں تک قائم دائم رہتا ہے ۔ہاں یہاں ایک اور سب سے اہم بات بتاتا چلوں کہ بیانیے کو قائم دائم رکھنے کیلئے بیانیہ دینے والے شخص کے بعد اس کے بیانیے کے جانشین اور حمایتی اگر مضبوط ارادوں کے مالک ہوں اور اس کے ساتھ مخلص ہوں تو بیانیہ کامیابی سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے اور اگر جانشین اور حمایتی کمزور پڑ جائیں تو بیانیہ خود ہی اپنی موت مر جاتا ہے۔
نظریہ اصل وہ اصول یا رائے ہوتی ہے جو معاشرے کے افراد کی سمجھ میں آسانی سے آسکے ۔اس رائے یا اصول پر آزدی سے بحث کی جاسکے اسکے مثبت اور منفی پہلوؤں کی وضاحت کی جا سکے۔اگر کسی رائے یا اصول پر بحث کی پابندی ہویا شک تک نہ کرنے کی پابندی ہوتو یہ کوئی آفاقی عقیدہ ہی ہوسکتا ہے نظریہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔زیر نظر سطور کا مقصد سیاسی نظریے کی وضاحت کرنا ہے۔جیسا کہ پہلے یہ نظر یہ ہماری قوم کو ذوالفقار علی بھٹو نے دیا جوکہ بہت کامیاب بھی ہوا۔ذوالفقار علی بھٹو شہید کا نظریہ آج بھی سندھ میں پوری کامیابی سے چل رہا ہے اور بھٹو کے فالورز اپنے لیڈر کے نظریے پر قائم دائم ہیں۔بھٹو شہید کے بعد ایک نظر یہ میاں نوازشریف نے قوم کو دیا ۔لیکن اس نظریے کو بھٹو جیسی پذیرائی نہ مل سکی اس کی سب سے بڑی وجہ نوازشریف کے نظریے کو آگے لے کر چلنے والے جانشین اور حمایتی کمزور پڑ گئے ۔اگر نوازشریف کی بیٹی مریم نواز نے نظریے کو آگے بڑھانے کا علم اٹھایا تو ان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔مریم نواز کو دو مرتبہ جیل جانا پڑا اور خاموش کروادیا گیا ۔
سمجھوتہ عام معنوں میں اپنے اصولوں ،ارادے،نظریے اور مشن کو نامکمل سمجھتے ہوئے ہتھیار ڈال دینا یا مزید نقصان اور ہزیمت سے بچناسمجھوتے کے معنوں میں آتا ہے۔لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والے لوگ کبھی ناکام نہیں ہوئے۔سمجھوتہ کرنا کوئی بری چیز نہیں ہاں اگر آپ نے ایسے وقت پر سمجھوتہ کیا جب آپ کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچاتو اس سمجھوتے پرآپ کے اپنے قریبی لوگ ،دوست اور آپ کے چاہنے والے ضرور تنقید کریں گے۔بعض اوقات کچھ سمجھوتے وقت سے پہلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر آپ ایسے سمجھوتے کرنے میں تاخیر کرتے ہیں تو اس کا یقینا آپ کو ازالہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ایک اور اہم بات ہے کہ کچھ سمجھوتے اگر مشکلات کے بعد بھی انسان کرلیتا ہے تو اس کی باقی زندگی باقدر سکون سے گزر جاتی ہے ۔لیکن اس سمجھوتے سے قبل اور بعد میں پیش آنے واقعات انسان کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں ۔میرے دادا جی کہتے تھے بیٹا برے وقت کو یاد نہیں کرتے ،برا وقت گزرنے کے بعد اچھا وقت ضرور آتا ہے اب یہ بندے کے اپنے اختیار میں بھی ہوتا ہے کہ وہ اس اچھے وقت کو کب تک برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
الخوارزمی نے مصلحت کی تعریف یوں کی ہے کہ مصلحت سے مراد شرعی مقاصد کا تحفظ ہے، یعنی انسانیت سے مفاسد کو دفع کرنا۔ امام غزالی مصلحت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں مصلحت سے مراد کسی کار آمد اور نفع بخش چیز کی تعریف کرنا یا کسی ضرر رساں چیز کو دفع کرنا ہے۔ لیکن اس سے ہمارا مقصد واضع نہیں ہوتا ہے، کیوں کہ منفعت کی تلاش اور مضرت کا دفعیہ ایسے مقاصد ہیں کہ خلقت کے لحاظ سے ان کا مقصد نیکی کا حصو ل ہے اور یہ بھلائی ہے۔جس میں پانچ چیزیں شامل ہوتی ہیں، دین کا تحفظ، زندگی کا حفاظت، عقل و دانش کا تحفظ، اخلاق و مال کا تحفظ۔ جو کچھ ان پانچ اصولوں کے تحفظ کا یقین دلائے وہی مصلحت ہے اور جو ان کے تحفظ میں ناکام رہے وہ مفسد ہے اور اس کو دفع کرنا مصلحت ہے۔مصلحت دنیا کا سب سے خوبصور ت ترین عمل ہے۔مصلحت پسند شخص کمزور اور طاقتور دونوں کیلئے پسندیدہ شخصیت کا درجہ رکھتا ہے۔جیسے اس وقت قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف مصلحت پسند شخصیت ہیں ۔عوام،فوج،اداروے اور بیوروکریٹس سمیت ہر کوئی ان کی بات کو سننا پسند کرتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ شہبازشریف کا انداز گفتگو اور تعلقات بنانے کا فن ہے۔شہبازشریف سب کو ساتھ لے کر چلنے کے حامی ہیں چاہے وہ سیاسی مخالفین ہوں یا فوج ۔جبکہ وزیراعظم عمران خان کا مصلحت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔عمران خان ہر وقت انتقام اور بدلہ لینے کے بہانے تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔جناب وزیر اعظم صاحب آپ بائیس کروڑ عوام کے وزیراعظم ہیں ۔اپنے ہی
ملک کے سیاسی مخالفین ،میڈیا مالکان اور بزنس مین سے انتقام اور بدلہ لینے کا مشن اب ختم کردیں کیونکہ آپ کے اس مشن نے نہ آپ کوکو ئی فائدہ دیا نہ اس ملک کو کوئی فائدہ دیا ہے۔بلکہ انتقام اور بدلے کی آگ نے معیشت کمزور،پارلیمنٹ کو بے توقیر اور عوام کو فقیر کردیا ۔جناب وزیر اعظم صاحب آپ بھی شہباز شریف کی طرح مصلحت پسند بن جائیں ۔اپوزیشن سے دوریاں ختم کریں ،میڈیاکی آزادی کو برقرار رکھیں دل بڑا کریں اور میر شکیل الرحمن کو رہا کریں ۔مصلحت پسند لوگ اﷲ تعالی کے پسندیدہ لوگ ہیں ۔جناب وزیر اعظم صاحب کیا یہ آپ کی خواہش نہیں کے اﷲ تعالیٰ آپ کو پسند کریں؟
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے