Voice of Asia News

ہمارے مندر اور گردوارے۔۔ حسنین جمیل۔۔

 وطن عزیز کے سبز ہلالی پرچم میں سفید رنگ اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کا ہے قومی پرچم میں اقلیتوں کو نمایندگی دینے کا مقصد ہر جگہ ہی ہوتا ہے۔ انکو اس بات کا احساس ہو اس ملک پر ان کا بھی اس قدر حق ہے جس قدر اکثریت کا ہے ۔تاہم بات صرف پرچم میں رنگ دینے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اقلیتوں کے بنیادی آسانی حقوق کا تحفظ بھی بہت ضروری ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا پاکستان میں تمام اقلیتیں اپنے مندروں گرجوں اور گردواروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں ۔قیام پاکستان کے فوراً بعد ایک ادارہ متروکہ وقف املاک بورڈ سی مقصد ہی تھا کہ ہندوں اور سکھیوں کے چلے جانے کے بعد جو مندر اور گردوارے ویران ہو گہے ہیں ان کی دیکھ بھال کی جاے انکی تزہن و آرائش کی جاے تاکہ یہاں رہ جانے والے ہندو اور سکھ اپنی مذہبی رسومات آزادی سے ادا کر سکیں۔ ادھر بھارت میں قاہم متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیرمین ہمشہ مسلمان کو بنایا جاتا ہے بدقسمتی پاکستان میں اسیا نہیں ہؤا وزیراعظم عمران خان نے پہلی بار کسی ہندو کو متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیرمین بنانے کا عندیہ دیا مگر افسوس کہ اقلیتوں کے اندرونی تضادات ابھر کر سامنے آئے اور سکھیوں نے ہندو کو متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیرمین بنانے پر احتجاج شروع کر دیا جس کے بعد حکومت نے اس جھگڑے کو حتم کرنے کے لیے مسلمان کو ہی متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیرمین بنا دیا یوں اقلیتوں کے اندرونی تضادات کے باعث ایک سنہری موقع گنوا دیا گیا ۔پچھلے ڈیرھ سال میں متروکہ وقف املاک بورڈ نے وہ مندر اور گردوارے جو بند پڑے تھے انکی تزہن و آرائش کر کے ان کو فعال کرنے کا اعلان کیا ہوں انکی بحال کا پروگرام شروع کر دیا گیا  ۔سب تک 14 مندر اور 18 گردوارے بحال کہے جا چکے ہیں ان کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے  کر دیا گیا ہے اور پوجا پاٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اگر مندروں کی بات کی جائے تو ان میں کرشنا مندر روالپنڈی ۔کٹاس راج مندر چکوال۔کرشنا اور بالک رام مندر لاہور ۔سادھو بالا مندر سکھر ۔گرو گرپت مندر حیدرآباد ۔لال مندر کراچی ۔بابا بھگت مندر ۔تان داس مندر۔تلسی مندر .گرو رام مندر۔یہ سب مندر دادو میں ہیں اسکے علاہ کالی باری مندر مانسہرہ ۔شوالہ مندر سیالکوٹ ۔شامل ہیں اس کے جو 18 گردوارے بحال کہے گہے ہیں ان میں نیکانہ صاحب کے 7 گردوارے جن میں جنم استھان۔پٹیی صاحب ۔بتو صاحب بالا صاحب۔پنچ صاحب۔اور کاہترہ صاحب ۔فاروق آباد میں سچا سودا ۔اہمن آباد میں روٹری صاحب۔لاھور کے ڈیرہ صاحب اور شہید گنج ۔نارووال کے دربار صاحب۔حسن ابدال کا پنجا صاحب۔پشاور کے بابا سنگھ بھای جویا سنگھ ۔سیالکوٹ کا بابا دی باری ۔کو مکمل طور پر پوجا پاٹ کے لہے کھول دیا گیا ہے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اس کام کی جس قدر بھی تعریف کی جاے کم ہے اس کو دہر آمد درست آمد سمجھا جائے اور مزید بہتری کی گنجائش رکھنی چاہیے اگر مذہبی رواداری کے اس عمل کا داہرہ کار پورے سماج میں پھیلایا جاے اور ہماری سیاسی جماعتوں کو آپنا فرض بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہیے اپنے اندر اقلیتی ونگ حتم کرکے اقلیتوں کو کلیدی عہدوں پر فائز کر کے ان کو قومی دھارے میں شامل کرنا چاہیے ۔وفاقی کابینہ میں ایک بھی غیر مسلم وزیر نہیں ہے جو غلط بات ہے دینا کو غلط پیغام جا رہا ہے جسے کرتار پور بنا کر مثبت پیغام دیا گیا ہے اسی طرح وفاقی کابینہ میں ایک غیر مسلم وزیر ضرور شامل ہونا چاہیے  یہاں متروکہ وقف املاک بورڈ کی توجہ گوجرانولہ میں ایک تاریخی مندر کی دالنا چاہتا ہوں اس مندر میں پولیس تھانہ قاہم ہے اس کو فورا حتم کرنا چاہیے 90 کی دہائی میں جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا اس کے ردعمل میں لاہور میں موجود تاریخی جین مندر کو بھی گرا دیا گیا تاریخ سے نابلد اس ہجوم کو یہ نہیں پتہ تھا کہ جین مت ایک الگ مذہب ہے اس کا ہندو مت سے کوی تعلق نہیں وہ مندر بالکل تباہ کر دیا گیا ا
وہاں ایک اور عمارت بن چکی ہے جین مندر کی یادگار بنانی چاہیے ۔چوک کا نام بابری چوک رکھ دیا گیا ہے اس کو جین مندر چوک نام بحال کیا جاے متروکہ وقف املاک بورڈ کو یہ سب کام بھی ضرور کرنے چاہیے ہمیں اپنے سماجی رویے اقلیتوں کے حوالے سے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے بات صرف ہندؤں سکھیوں اور مسیحوں  تک نہیں ہے اس شہر میں بہاہی اور پارسی بھی آباد تھے ریلوے اسٹیشن کے پاس آسٹریلیا مسجد کے سامنے ایک پارسی ڈاکٹر جمیشد ڈنشاہ کا کلینک ہوتا تھا جو اب  وہاں نہیں کچھ عرصہ قبل میری ان سے فون پر بات ہوی تھی۔ انہوں نے بتایا وہ کراچی شفٹ ہو گیے ہیں لاھور میں رہہنا مشکل ہو گیا تھا۔ تاریخی طور ایک سیکولر شہر لاہور کا یہ روپ افسوس ناک ہے آخر میں وزیراعظم عمران خان کو کرتار پور میں بناے نہے گردوارے کی عمارت کو حال ہی میں جو  ٹوٹ پھوٹ ہوی اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور تحقیات کروانی  چاہیے کہ نہی عمارت اتنی جلدی کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے