Voice of Asia News

مسلمان جنات کی اکثریت روزہ رکھتی ہے:رپورٹ: محمد قیصر چوہان

جنات خالق کائنات کی ایسی تخلیق ہیں جو ہر دور میں انسانوں کے بہت قریب رہے ہیں۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق سے سوا لاکھ برس قبل پیدا کی جانے والی یہ مخلوق طویل عرصے تک اﷲ رب العزت کی عبادت میں مشغول رہی۔ مگر شیطان کی نافرمانی اور تکبر کے بعد یہ مخلوق بھی دو الگ الگ طبقات یعنی جنات اور بد شیاطین میں تقسیم ہو گئی۔ جنہوں نے نیکی کی راہ اختیار کی وہ جنات انبیا اور نیکو کاروں کی صحبت میں رہے اور جو جنات گناہوں میں ڈوبے، شیطا ن کے ہمنوا یعنی شیاطین کہلائے۔ انسانوں کی طرح جنات کو بھی رب کائنات نے نیکی یا بدی کی راہ اختیار کرنے کی مکمل آزادی دی ہے۔ نیک جنات، پاک جگہوں پر رہتے اور پاک محافل میں شرکت کرتے ہیں اور بد شیاطین پلید جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔ نیکی کی راہ اختیار کرنے والے جنات نماز، روزہ اور تراویح کا اہتمام کرتے اور عمرہ و حج کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے برعکس وہ جنات جو بدی کی راہ اختیار کر کے شیاطین کے گروہ کا حصہ بن جاتے ہیں وہ نیکو کار لوگوں اور پاکیزہ جنات کو راہ نجات سے بھٹکانے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔رمضان المبارک کے رحمتوں والے مہینے میں جنات سحر و افطار میں کیا اہتمام کرتے ہیں اور ماہ صیام میں ان کی عبادات کیا ہوتی ہیں۔ زیر نظر تحقیقی رپورٹ میں ان معاملات پر جامع معلومات قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
رب ذوالجلال نے فرمایا: ترجمہ ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔‘‘ اس آیت مبارکہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اﷲ رب العزت نے انسانوں کی طرح جنات کو بھی اپنے اعمال میں آزادی عطا فرمائی ہے اور جنات کو تقویٰ اور پرہیز گاری ’’اختیار‘‘ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ یعنی کہ جن انسانوں اور جنات نے پرہیز گاری اختیار کی انہوں نے فرمانبرداری کی راہ اپنائی اور جو بدی کے راستے پر چل نکلے وہ شیطان کے ہمنوا کہلائے اور درد ناک عذاب کے مستحق قرار پائے۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور عاملین سے ہونے والی سیر حاصل گفتگو میں جنات کی زندگی کے بارے میں حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ہیں۔جنات کو نور سموم یعنی شروالی آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ان کا جسم آگ اور ہوا سے مرکب ہے۔مادہ کی اطاعت کے ارتبار سے اس مخلوق کا جسم انسان کی روح ہوائی کی طرح لطیف ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا جسم مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔جنات کے جدِامجدحارج اور مروجہ ہیں ۔جبکہ ان کے قبائل بنو الجان ،بنو عباس اور بنو ہاشم ہیں۔ عامر بن عمیر مارد بن الجان اور صاعق بن ماعق بن الجان جنات کے نبی تھے۔وادی نخلہ میں سب سے پہلے حسا ،مسا،شامرہ ،ناصرہ ،ابن الارب ،الامین اور اخضم نامی جنات نے اسلام قبول کیا تھا۔جنات اور انسانوں میں محض جسمانی فرق ہے۔ جنات کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خود کو انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھ سکتے ہیں اپنی جسمانی ساخت کو تبدیل کر سکتے ہیں اور برق رفتاری سے دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی جانب سفر کر سکتے ہیں۔ جنات کی بنیادی طور پر تین اقسام ہوتی ہیں ایک عابدہ زاہد جنات، دوسرے شیاطین جنات اور ان کی تیسری قسم عفریت کہلاتی ہے۔ اول الذکر قسم ہر اس مقام پر پائی جاتی ہے جہاں ویران مساجدوں،حمد، ذکر و نعت کی روح پر ور محافل ہوں۔پاک مقامات ہوں یا صاف ستھرے بھرے پرے گھر ہوں۔ ان کے مطابق نیکو کار جنات ہر وہ عمل کرتے ہیں جو نمازی پرہیز گار اور متقی مسلمان کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے مسالک کی طرح جنات کے بھی ویسے ہی مسالک ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں سجنے والی انسانوں کی دینی محافل میں نیک جنات کثرت سے شریک ہوتے ہیں۔ فرض نمازوں کے دورا ن بالخصوص صلوٰۃ التراویح میں جنات کی پوری پوری جماعتیں شرکت کرتی ہیں۔
جنات بھی انسانوں کی طرح روزے رکھنے اور سحر و افطار کرتے ہیں۔ جنات جس معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اسی کی طرز پر اپنی زندگی اور ماحول کو ڈھال لیتے ہیں۔ نیک و کار جنات پاکیزگی کو اس حد تک پسند کرتے ہیں کہ جو لوگ پاکیزگی کا اہتمام رکھتے ہیں ان کی صحبت اختیار کر لیتے ہیں اور ان پاکیزہ نفوس کے دوست بن جاتے ہیں۔ جناب جب کسی پاکیزہ شخص کی دوستی اختیار کرتے ہیں تو اس کی مشکلات میں بھی غیبی طور پر مددگار بن جاتے ہیں۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ ماہ صیام تک جنات کا پسندیدہ ترین مہینہ ہوتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں جنات ذوق و شوق سے عبادات کا اہتمام کرتے ہیں اور مساجدی میں سجائی جانے والی دینی محافل میں جوق در جوق شرکت کرتے ہیں جنات کی سحر و افطاری بھی انسانوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ جنات کی خوراک کے بارے میں احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی خوراک جانوروں کی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ ایک مقام پر نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہڈیوں کو خوب صاف کیا کرو کیونکہ وہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے‘‘ رحمت عالم حضور اکرمؐ کے اس ارشاد مبارک کی روشنی سے پتہ چلتا ہے کہ جنات کو مسلمانوں کے بھائی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے نیک جنات عبادت گزار مسلمانوں کی صحبت اختیار کر نا پسند کرتے ہیں۔جنات کے روزوں کا احوال بھی مسلمانوں جیسا ہوتا ہے۔ بدلتے دور کے ساتھ جنات بھی اپنا طرز زندگی بدلتے رہتے ہیں۔عاملین کے مطابق جنات ہڈیوں کے علاوہ سحر و افطار میں کھجور اور دودھ بھی شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ علماء عاملین میں اس نقطے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ جنات قرآن اور حدیث کی تعلیمات انسانی شکل اختیار کر کے عام مساجد اور مدارس میں حاصل کرتے ہیں۔ جنات انسانی روپ میں ہی دینی محافل میں شرکت کرتے ہیں اور بازاروں سے اشیا خریدتے ہیں۔ مگر اس معاملے پر علما اور عاملین کوئی مدلل جواب نہیں دیتے کہ اگر جنات بازاروں سے انسانی شکل میں خریداری کرتے ہیں اور خریداری کیلئے ملک میں رائج کرنسی استعمال کرتے ہیں تو اس کے لیے رقم کا بندوبست کہا ں سے کرتے ہیں۔ کچھ عاملین کا کہنا ہے کہ جنات انسانی شکل میں کام کاج کر کے حاصل ہونے والی رقم کو استعمال کرتے ہیں۔ دین دار جنات چوری چکاری سے بہت دور رہتے ہیں اور جائزذرائع سے ہی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ بعض علما کے نزدیک یہ توجیح درست نہیں بلکہ حدیث مبارکہ کی روشنی میں یہی بات درست لگنی ہے کہ جنات کی خوراک بچی کھچی جانوروں کی ہڈیاں ہی ہیں اور یہی جنات کی مرغورب ترین غذا ہے۔
عمروں کے لحاظ سے جنات اور انسانوں میں بہت فرق ہے۔ جنات کی عمریں پانچ سو برس سے لے کر پندرہ سو برس تک ہوتی ہیں۔ جنات کا سب سے بڑا اجتماع مدینہ منورہ کے قریب ایک چٹیل میدان میں ہوتا ہے جہاں پورا سال کروڑوں کی تعداد میں جنات موجود ہوتے ہیں اسی میدان میں جنات کو طرح طرح کی تربیتیں مہیا کی جاتی ہیں اور اخلاق کا درس دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں یہ جنات اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ جس طرح انسانوں کے بچوں کو روزہ رکھوایا جاتا ہے اسی طرح جنات بھی اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے ہیں اور ان کی بھی باقاعدگی روزہ کشائی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس غرض سے جن بچے کے والدین کسی بزرگ یا علاقے کے سردار جن کے ہاتھ سے جن بچے کی روزہ بندی اور روزہ کشائی کی رسم کراتے ہیں۔ اس معاملے پر محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ جنات اور انسانوں کے طرز معاشرت میں بڑی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے اس لیے ایسی دینی محافل اور رسمیں جو انسان مناتے ہیں ویسی ہی محافل اور رسمیں جنات کے معاشرے میں بھی رائج ہیں۔ ان میں روزہ کشائی کے علاوہ حج و عمرے اور اعتکاف میں بیٹھنے کی مبارک باد دینا بھی شامل ہے۔ ہر سال ماہ رمضان میں جنات کی ایک بہت بڑی تعداد مساجد اور دینی اور تبلیغی مراکز میں معتکف ہوتی ہیں۔
اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’اور ہم نے جن کو (آدم علیہ السلام) بہت پہلے لُو والی آگ سے پیدا کیا (الحجر 27) اس فرمان مبارک سے پتہ چلتا ہے کہ خالق کائنات نے جنات کو آگ سے تخلیق فرمایا ہے۔ آگ کا عنصر گرمی سے اور عام زندگی میں جنات کی موجودگی کو عامل حضرات گرمی کے احساس سے بھی شناخت کر لیتے ہیں۔ دینی عملیات کے ماہرسید اسد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص جنات کی موجودگی کو محسوس کرنا چاہے تو غسل کر کے پاک صاف کپڑے زیب تن کر کے اور اپنے جسم کو کسی پاک عطر سے مہکا کر بند کمرے میں تنہا بیٹھ جائے اور قرآن پاک کی تلاوت شروع کرے۔ دوران تلاوت اگر ٹھنڈے کمرے کے باوجود اسے اپنے اردگرد پڑی اشیا میں حرکت محسوس ہو یا اسے اپنے قریب نیم گرم ہوا کی لپیٹیں سی محسوس ہوں تو وہ سمجھ جائے کہ کوئی جن اس کے عین قریب موجود ہے۔ مسلمان جناب نہ صرف پاک گھروں میں پائے جاتے ہیں بلکہ مساجد، مدارس اور دینی جامعات میں بھی جنات انسانی روپ میں حصول کیلئے آتے ہیں۔ بعض دینی جامعات میں تو مصدقہ طور پر جنات کی موجودگی اور ان کے حصول علم کے شواہد پائے جاتے ہیں۔ جنات کی ایک بڑی تعداد حافظ قرآن اور عالم دین بھی ہوتی ہے۔ماہِ رمضان میں جنات کی مصروفیت صرف عبادت ہو جاتی ہے۔ جنات ان مبارک دنوں میں کثرت سے ذکر و اذکار کی محفلوں میں شرکت کرتے ہیں۔نمازتراویح ، تہجداور نوافل کا ذوق و شوق سے اہتمام کرتے ہیں۔ جنات کا ہرقبیلہ اپنے پسندیدہ مسلک کے علما کے دروس میں شرک ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ ہر نیا مسلک یا فرقہ بنتے ہی جنات کی کچھ تعداد اس مسلک میں شامل ہو جاتی ہے۔ مسلک کے معاملے میں ہر جن کی اپنی ذاتی رائے اور پسند ہوتی ہے۔ دوسری طرف جناف نے ہر علاقے کا ایک سردار منتخب کیا جاتا ہے اور ہر قبیلے کا ایک قائد یا سردار الگ سے ہوتا ہے۔ یہ سردار جنات کے قوانین لاگو کرتے ہیں اور کسی جن کی شکایت پر دوسرے جن یا شیاطین جنات کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ جنات کے معاشرے میں حقوق، فرائض اور جرائم کے لیے باقاعدہ عدالتیں قائم ہوتی ہیں۔ان عدالتوں میں پڑھے لکھے با کردار اور جنات کے قوانین کے ماہر قانون دان قاضی یا جج تعینات ہوتے ہیں۔ ان جناتی عدالتوں میں قوانین توڑنے والے جنات کے خلاف کیس چلایا جاتا ہے اور انہیں سزا بھی دی جاتی ہے۔ اگر کسی جن کو قید کرنا مقصود ہو تو اس مقصد کیلئے ویران مقامات یا چٹیل میدانوں میں حوالات اور جیلیں بھی قائم ہوتی ہیں۔ ان جیلوں کو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی مگر وہاں جنات محافظوں کا نظام موجود ہوتا ہے۔جنات کا علم رکھنے والی شخصیات کے مطابق انسانی معاشرے کی طرح جنات میں بھی رمضان المبارک کی بے حرمتی یا کھلے عام کھانے پینے پر سزائیں مقرر ہیں اور جنات کے قانون نافذ کرنے والے حکام نافرمان جنات کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کرتے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے