Voice of Asia News

ترک قوم کی بارہ روایات:سیف اعوان

 
ترک ایک عظیم قوم ہے ترک معاشرے کی بنیاد صدیوں پرانی ہے۔سلطنت عثمانیہ کے دور سے تمام اسلامی ممالک ترکی کو عزت اور قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں بالخصوص پاکستان کے مسلمانوں کے دلوں میں ترکوں کی بہت زیادہ عزت ہے۔ترک قوم کو بھی اپنے ماضی پر فخر ہے اور آج بھی اپنے ماضی کو یاد بھی کرتے ہیں ۔جدیدترکی آج بھی اپنی روایات کے ساتھ جڑاہوا ہے جس کی وجہ سے ترک قوم دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ترک آج بھی اسی مقام پر پہنچنے کی جدوجہد کررہے ہیں جہاں وہ جنگ عظیم اول سے پہلے تھے۔یعنی ترک اسلامی دنیا کی قیادت کرنا چاہتے ہیں ترک اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوچکے ہیں۔ترکی نے گزشتہ چند سالوں میں دنیابھر میں اپنی کامیابی کے جھنڈے اس طرح گاڑے ہیں کہ ان کا شمار دنیا کے انتہائی اہم ترین ممالک میں ہونے لگا ہے۔یہ تمام کامیابیاں ترکی نے رجب طیب اردوان کی قیادت میں ہی حاصل کی ہیں۔ترکی میں آج بھی صدیوں پرانی رسم و رواج اور وایات قائم ہیں جن پر وہ آج بھی علم پیراء ہیں ۔ان میں سب سے پہلا ہے خاندانی نظام ،ترک قوم خاندانی نظام پر یقین رکھتی ہے مغربی اقوام کی طرح انفرادی کامیابی پر یقین نہیں رکھتے۔ترکی میں ہر شخص کو اس کے خاندان سے پہچانا جاتا ہے اس لیے ترک لوگ اپنے خاندان سے جڑے رہتے ہیں اور اپنے خاندان کو ہی ترجیحی دیتے ہیں۔اچھے یا برے حالات میں کوئی فرد اپنے خاندان کو نہیں چھوڑتا۔2018کے ایک سروے کے مطابق 68فیصدترک خاندانی نظام کواہم اور 90فیصد اہم ترین سمجھتے ہیں۔دوسری روایت ہے بزرگوں کا احترام ،ترکی میں اگر گلی میں کوئی بزرگ آگے جارہا ہے تو کوئی نوجوان ان سے آگے چلنے کی جرات نہیں کرتا ہاں اگر بزرگ نوجوان کو خود پیار سے آگے جانے کا کہیں تو نوجوان آگے جائے گا نوجوان آگے نکلنے کے بعد فورا بزرگ کا شکریہ بھی ادا کرے گا۔ترکی میں نوجوانوں کا بزرگوں سے آگے نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔کھانا کھانے کے وقت بھی جب تک بزرگ کھانا شروع نہیں کرتا نوجوان کھانا نہیں کھاتے کھانے کے بعد ترک سورت فاتحہ پڑھتے ہیں۔تیسری روایت پھولوں کا استعمال ،ترکی میں اگر کسی گھر کے باہر پیلے رنگ کے پھول لگے ہوں تو سمجھا جاتا ہے کہ اس گھر میں کوئی بیمار ہے اس گھر کے سامنے شور یا اونچی آواز میں نہیں بولنا اگر کسی گھر کے باہر لال رنگ کے پھول لگے ہوں تو مراد یہ ہے کہ اس گھر میں جواں لڑکی ہے جو شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے اس لیے اس گھر کے قریب سے گزرتے وقت اپنی گفتگو میں انتہائی احتیاط برتیں تاکہ غلطی سے بھی کوئی ناشائستہ لفظ آپ کے زبان سے نہ نکلنے پائے۔ترکی میں لال اور پیلے رنگ کے پھولوں کے علاوہ دوسرے رنگوں کے پھول بھی مختلف علامات کی ترجمانی کرتے ہیں۔چوتھی روایت نئی آبادی کا قیام ترکوں کا ایک صدیوں پرانا رواج رہا ہے کہ ترک جب بھی وہ کوئی شہر یا بستی بساتے ہیں تو سب سے پہلے مسجد تعمیر کرتے ہیں ۔اس مسجد کے اردگ گرد گھر دائرے کی شکل میں تعمیر کیے جاتے ہیں تاکہ مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ترکوں کا یہ رواج پاکستان میں بھی اکثر علاقوں میں مشاہدے میں آیا ہے۔پانچویں روایت ہے آپنے رب سے تشکر کا اظہار،ترک اپنے گھروں کے باہر ’’یا مالک الملک‘‘ لکھواتے ہیں ۔جس کا مطلب ہے کہ میرا تو کچھ بھی نہیں اس کامالک اﷲ تعالی ہے۔چھٹی روایت ہے دروازے پر دستک،ترکوں نے اپنے گھروں کے باہر دو گھنٹیاں لگوائی ہوتے ہیں ۔ایک بڑی اور ایک چھوٹی گھنٹی،بڑی گھنٹی مردوں کیلئے اور چھوٹی گھنٹی عورتوں کیلئے ہوتی ہے۔ جب کوئی مرد مہمان آتا ہے تو وہ بڑی گھنٹی بجاتا ہے گھر والے سمجھ جاتے ہیں کوئی مرد مہمان ہے تو گھر کے اندر سے بھی مرد ہی باہر آتا ہے اگر چھوٹی گھنٹی بجے تو سمجھاجاتا ہے کہ کوئی عورت ہے تو گھر کے اندر سے بھی کوئی عورت ہی باہر آتی ہے۔بڑی گھنٹی کی آواز زیادہ اور چھوٹی گھنٹی کی آواز آہستہ ہوتی ہے۔ترک مسلمانوں کی ساتویں مضبوط روایت دین سے محبت ہے۔ترک اپنے خاندان کے ساتھ مذہب اسلام پر بھی فخر کرتے ہیں ۔ایک صدی سے سیکولر رہنے کے باوجود 96فیصد ترک مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ترک قوم کی آٹھویں روایت ہے فوج سے محبت،ترک ایک جنگجو قوم ہے اس لیے ترکوں کی 90فیصد آبادی ترک فوج سے محبت کرتے ہیں۔نویں روایت ہے ترکوں کی مہمان نوازی،جب کوئی مہمان گھر میں آئے تو اس کو سب سے پہلے پانی اور روایتی ترک قہوہ پیش کیا جاتا ہے اگر مہمان پہلے پانی پیئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مہمان کو بھوک لگی ہے اور اگر مہمان کھانا کھائے گا تو ترک فورنا کھانے کا انتظام شروع کردیتے ہیں اگر مہمان پہلے قہوہ پیئے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ کھانا نہیں کھائے گا اس کو بھوک نہیں ہے۔ترک قوم بہت مہمان نواز ہے۔جب تک کوئی مہمان سیر ہو کر کھانا نہ کھائے تو ترک بہت برا مانتے ہیں۔کھانے کے بعد مہمان کو پھل،خشک میوہ جات اور ترک قہوہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ترک چاہتے ہیں کہ مہمان کھانے کے فورا بعد رخصت نہ ہو بلکہ کھانے کے بعد دیر تک بیٹھے اور باتیں کرے۔دسویں اہم ترین خوبی ترک پرندوں کا بہت خیال کرتے ہیں ۔ترک تاریخی طور پر پرندوں کا بہت زیادہ خیال اور احساس کرتے ہیں ۔مسافر پرندوں میں سے اگر کوئی پرندہ بچھڑ جائے یا زخمی ہوجائے تو ترک اس پرندے کا خیال رکھتے ہیں۔اس مقصد کیلئے باقاعدہ ایک تنظیم بھی بنی ہوئی ہے۔موسم سرمایہ میں جن علاقوں میں برف زیادہ پڑتی ہے اور وہ علاقے برف سے ڈک جاتے ہیں ترک ان علاقوں میں برف کے اوپراناج بھکھیر دیتے ہیں تاکہ پرندے آسانی سے اناج چن سکیں۔گیارہویں رسم ترک ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم رکھتے ہیں ۔ترکی میں اگر کسی علاقے میں کسی کا انتقال ہوجائے تو اس گھر میں محلے کے لوگ کچھ دنوں تک روزانہ کھانا پہنچاتے ہیں ۔کچھ دنوں تک اس گھر کے قریب شغل میلہ یا شور شرابہ انتہائی معیوب سمجھاجاتا ہے۔ہمسایے اس گھر کے افراد کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ تنہا نہیں ہیں ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ترکی میں ویسے بھی ہمسایوں کے ساتھ لوگ بہت اچھے تعلقات قائم رکھتے ہیں ۔کھانے پینے یا استعمال کی چیزوں کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔ترکوں کی بارہویں روایت بہت ہی دلچسپ ہے ۔جب کوئی مسافر سفر کیلئے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے پیچھے پانی بہایا
جاتا ہے ۔اس کو نیک شگون سمجھاجاتا ہے تاکہ مسافر خیریت سے جائے اور خیریت سے واپس آئے۔تیرویں بات سب سے اہم ہے ترک زبان اور ترک رسم الخط ،ترک اپنی زبان سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس کو فخر سے بولتے ہیں ۔1928تک ترکی میں جو ترکش زبان بولی جاتی تھی اس کو عثمانی رسم الخط کہا جاتا تھا اس میں 88فیصد عربی اور فارسی کے الفاظ موجود تھے۔عربی اور فارسی کے ملاپ کی وجہ سے ترکی کے دیہاتی علاقوں کے لوگوں کو اس زبان کو سمجھنا مشکل ہونے لگا تھا اس لیے وہ قدیم ترکی زبان ہی بولنا پسند کرتے تھے جو لاطینی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اس زبان میں بیرونی زبانوں کے الفاظ کی آمیزش بہت کم تھی ۔بعدازراں 1929میں جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے اس پرانی ترک زبان کو ترکی کی سرکاری زبان رسم الخط قراردے دیا۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے