قرنطینہ خاکروب ،ربیعہ ڈارر

آج جہاں تمام دنیا کورونا وائرس  وباء کے زیر اثر ہے اور لاک ڈاون کی وجہ سے ہم اپنا بیشتر وقت گھر پر گزارتے ہیں۔ وہیں ہر انسان خود کو موجودہ حالات سے باخبر رکھنے کے لیئے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے جڑا ہوا یے۔ اسی اثناء میں گزشتہ روز مجھے بھی ایک ٹویٹر کمپین کا حصہ بننے کا موقع ملا جہاں مجھے معاشرے کے سب سے کم تر سمجھے جانے والے پیشے پر بات چیت کرنا تھی یہ کمپین #OurSweepersOurHeroes کے عنوان یعنی “ہمارے سویپرز، ہمارے ہیروز” کے نام سے منسوب تھی
اس وباء سے نمٹنے کے لئیے ڈاکٹرز، نرسز، پولیس، صحافی اور ریسکیو کے نوجوان فرنٹ لائن آفیسرز کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اسی طرح ہمیں اور ہمارے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے خاکروب طبقہ بڑی جافشانی سے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ اس وباء سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئیے احتیاطی تدابیر کو ممکن بنا نا، خود اپنا اور ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنا، ماسک کااستعمال اور بار بار ہاتھ دھونا کافی حد تک سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اب اگر ہم ان حالات میں کہ جہاں ہر شخص قرنطینہ کی وجہ سے اپنے آپ تک محدود ہے لیکن جب ہم اس صورتحال میں بھی باہر نکلیں تو ہمیں آج بھی ہمارے گلی، محلے اور سڑکیں اسی طرح صاف ستھری ملتی ہیں۔ آج بھی خاکروب روزانہ ہمارے گھروں سے کوڑا لے کر جاتے ہیں۔ تاکہ ہمارے گھر بھی گندگی سے پاک رہ سکیں۔
اگر ہم یہ بات بولیں کہ اس پیشے سے منسلک ذیادہ تر لوگ غیر مسلم ہیں اور مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ جنہیں ہم اکثر تضحیک آمیزالفاظ سے پکارنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ہم اپنے بچوں کو بھی یہی کہتے ہیں کہ کوڑے والا آیا ہے کوڑا دو جبکہ کوڑا پھیلانے والے تو ہم خود ہیں اور خاکروب طبقہ تو صفائی والا ہے۔ ہمارے دین میں بھی صفائی کو نصف ایمان کا حصہ گردانا گیا ۔خاکروب گلی محلوں پر پھیلی گندگی صاف کرتے ہیں اور ہمیں اپنے دلوں کے گندگی صاف کرنے کی ضرورت ہے۔خاکروب کے متعلق تضحیک آمیز اور انسانیت سے آری الفاظ کا استعمال کرنا غیرمناسب ہے ۔ہمارا دین ہمیں معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ہمیں کسی بھی فرد کے متعلق الفاظ کا استعمال کرتے الفاظ کا باضوبی چناؤ کرنا چاہیے۔
جسطرح ڈاکٹرز، نرسز اور پولیس آفیسرز کو حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں لیکن صد افسوس کہ خاکروب طبقہ اسی سہولت سے محروم ہے۔ ان کے پاس حفاظتی کٹس کی عدم موجودگی کے علاوہ میڈ یکیٹڈ ماسک تک موجود نہیں۔ یہ طبقہ گلووز کے بغیر ہی گھروں سے کوڑا اکھٹا کرنے پر مجبور ہیں۔ میری التماس ہے ویسٹ مینجمینٹ بورڈ اور کمپنی اور ایسے تمام ادارے جہاں یہ طبقہ اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے ان سے میری یہ گزارش ہے کہ ان تمام افراد کی بھی سیفٹی کا خیال کریں اور انہیں حفاظتی کٹس فراہم کریں۔ اپنی جان کی پرواہ کئیے بغیر خاکروب طبقہ اپنی ڈیوٹی بخوبی سرانجام دے رہا ہے۔
بحثیت مفید شہری یہ ہمارا بھی فرض ہے کہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ اپنا کوڑا باقاعدہ پلاسٹک بیگز میں بند کر کے دیں اور کرونا وباء نے ہمیں ایک سبق یہ بھی دیا ہے کہ ہر پیشہ اور انسان قابل احترام ہے۔ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ ہمارا دین بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے اور اسی میں ہم سب کی بقا پنہاں ہے۔ میں سلام پیش کرتی ہوں اپنے ہیروز کوکہ جن کی وجہ سے ہم صاف ستھرے ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ ہمارے سوپیرز ہمارے ہیروز
rabiadar928@gmail.com