Voice of Asia News

مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی‘ خاتون سمیت 4 کشمیری شہید

سرینگر( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے خاتون سمیت 4 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور خاتون سمیت شہید ہونے والے 4 شہریوں کو سرینگر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران شہید کیا گیا.گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا سوپور میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لے گئے عرفان احمد نامی نوجوان کو رات گئے شہید کر دیا گیا جبکہ ضلع بارہ مولا میں بھی ایک نوجوان کو سرچ آپریشن کے دوران ہی گولیاں مار کر شہید کیا گیا.ایک ہی دن میں ضلع میں دو نوجوانوں کو شہید کیے جانے پر علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا اور بھارتی بربریت کے خلاف نعرے لگائے قابض بھارتی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا بے دریغ استعمال کیا مقبوضہ کشمیر میں فرائض کی انجام دہی کی دوران قابض فوج کی جانب سے 3 صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا.واضح رہے کہ کشمیر میڈیا سروس نے رواں ماہ کے شروع میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ قابض بھارتی فوج نے اگست کے دوران ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20کشمیریوں کو شہید کردیا تھا. رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگست2020کے دوران قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں خاتون سمیت 20 کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ پرامن مظاہروں میں بھارتی فوج کی فائرنگ، شیلنگ اور پیلٹس کے استعمال سے 92 کشمیری شدید زخمی ہوئے.اسی طرح حریت راہنماﺅں سمیت 328 کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ متعدد کشمیری نوجوانوں کو کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا‘قابض بھارتی فو ج نے ماہ اگست کے دوران سرینگر میں 3 ‘ ضلع پلوامہ میں بھی 3 ‘ضلع شوپیاں میں4 ‘ ہندواڑہ کے علاقے کرالگنڈ میں 2 اور ضلع شوپیاں کے علاقے مولو میں بھی نام نہاد آپریشن کی آڑ میں ایک نوجوان کو شہید کیا گیا تھا. اس سے قبل بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے کے دوران 3 مزدوروں کو شہید کر دیا تھا تینوں مزدوروں کو بھارتی فورسز کی جانب سے 18 جولائی کو جعلی مقابلے میں شہید کر کے تدفین کر دی گئی تھی جو کام کی تلاش میں سرینگر گئے تھے.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے