Breaking News
Voice of Asia News

روشنیوں کا شہرکراچی تباہی کے دہانے پر :حافظ محمد صالح

سمندر کنارے آباد پاکستان کاسب سے بڑاشہر کراچی مفاد پرست حکمرانوں کی نا اہلی اور بے حسی کے سبب مسائلستان بن گیا ہے۔سندھ کے سیاستدان ہمیشہ اسے ’’فتح‘‘ کرنے میں لگے رہے مگر کسی نے بھی شہر قائد کے مسائل حل نہیں کیے۔ جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری رویّے، آمرانہ ،جاگیردارانہ سوچ اور وڈیرہ شاہی کے تسلط نے پاکستان کے صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز کو تباہی کے دہانے پرپہنچا دیا ہے۔روشنیوں کا شہر کراچی جو ملک کے ماتھے کا جھومرہے ،جو منی پاکستان کہلاتا ہے،اس کو صنعت و تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے سبب پاکستان کا معاشی حب بھی کہتے ہیں آج مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ساحلی شہر میں ملک کے ہر حصے اور ہر زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں جو برسوں سے مشکلات اور پریشا نیوں کا شکار ہیں۔ گزشتہ چالیس برس سے وفاقی وصوبائی حکومتوں نے کراچی کے باشندوں کا استحصال کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔کراچی میں پھر سے نفرت کی سیاست کو تقویت دی جا رہی ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بول کر کراچی کی عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔کراچی کے بے بس مجبور عوام کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں ہیں جو ان کے زخموں پر مرحم بھی رکھے اور اس کا علاج بھی کرے اور انہیں منجھدار سے بھی نکالے۔
کراچی پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ وسائل فراہم کرنے والا شہر ہے۔ صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے، اور سندھ کی معیشت کا دار و مدار بھی اسی کے اُوپر ہے۔کراچی شہر میں پینے کے صاف پانی ، بجلی، سٹرکوں کی خستہ حالی، ٹرانسپورٹ ،ٹریفک ، پارکنگ،صفائی ستھرائی ،سیوریج کے نظام سمیت دیگر بے شمار مسائل ہیں ۔اس وقت کراچی کے ہر محلے، ہر گلی کے نکڑ اور چوراہے پر کچرے کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں، شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہا ہے۔کچرا اٹھانے کا نظا م نہیں، برساتی نالوں پر تعمیرات،پانی ٹینکرمیں،سڑکیں وٹرانسپورٹ کی قلت ہے، کراچی کے شہریوں کو مردہ جانوروں کا گوشت کھلایاجاتا ہے ، حکومتی نمائندے مردہ جانوروں پر مہر لگاکر مارکیٹ میں بھیجتے ہیں ،سرکاری اسپتالوں کی خستہ حالی،بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ،آلودگی بڑھ رہی ہے،کراچی کا 85 فیصد پانی مضر صحت ہے ،گندگی اور آلودگی کے عوامل مل کر شہر میں زیادہ سے زیادہ بیماریاں پیدا کر رہے ہیں۔شوگر، بلڈ پریشر، فالج، سانس سمیت کینسرکے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔کراچی شہر میں موجود صحت عامہ کی سہولیات انتہائی خراب اور ناکافی ہیں۔اسپتال ، ادویات، ڈسپنسریاں، ماہرین صحت کی تعداد ، آلات کی کمی ہے۔ مختلف امراض کے حوالے سے سروے ، مریضوں کی تعداد اور میڈیکل رجسٹری بھی موجود نہیں ،جناح اسپتال میں جتنے مریض آتے ہیں اس تناسب سے ڈاکٹرز موجود نہیں،کراچی میں 8سرکاری اسپتال ہیں مگر کہیں بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ صورتحال نہیں ہے۔کراچی کے لیے 500فائراسٹیشنز کی ضرورت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ تین کروڑ سے زائد شہریوں کے لیے صرف 25فائر اسٹیشن ہیں۔کراچی شہر کے لوگوں کو ملازمتوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے، مقامی لوگوں کو گریڈ ون سے گریڈ پندرہ میں ملازمتیں نہیں مل رہیں، ان کے لیے ایک طرح سے ملازمتیں ناپید ہیں۔ جو ملتی بھی ہیں تو اس کے لیے بڑی رشوت دینی پڑتی ہے۔کراچی کے لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان آج چنگ چی رکشہ چلانے پر مجبور ہیں۔ جعلی مردم شماری جس میں کراچی کی آدھی آبادی کو ہی غائب کر دیا کر دیا گیا ہے اور اسے منظور بھی کر لیا گیا۔ ظالمانہ اور جابرانہ کوٹا سسٹم میں بھی غیر معینہ مدت کے لیے اضافہ کر دیا گیا ہے جو کسی بھی طرح اہل کراچی کے حق میں نہیں ہے۔
کراچی شہر میں جہاں دو منزلہ عمارت بننی تھی وہاں چار منزلہ عمارت کھڑی ہوچکی ہے۔ کوئی ریگولیٹری نظام عملی طور پرکام نہیں کررہا۔ کراچی شہر کو سیاست دانوں اور افسر شاہی نے مل کر تباہ کردیا ہے اور تباہی ایسی صورت اختیار کرچکی ہے کہ اصلاح کا کوئی سرا بھی نہیں ملتا۔ عدالت عظمیٰ میں یہ مسئلہ کئی بار زیر بحث آچکا ہے کہ دفاعی مقاصد کے لیے دی جانے والی زمینوں کو بھی رہائشی، کاروباری اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ حالانکہ دفاعی اور فوجی مقاصد کے لیے جن زمینوں کو مختص کیا جاتا ہے وہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوتیں۔ باغات کے لیے مختص کی گئی اراضی سیاسی حکومتوں نے سرکاری ملازموں کی مدد سے رہائشی مقاصد کے لیے فروخت کردیا اور ہر ادارہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں لگ گیا۔کراچی کے گلی، محلوں، فٹ پاتھوں اور سڑکیں تجاوزات سے بھری پڑی ہیں، کراچی میں جو بھی تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ہیں ان کی سرپرستی متعلقہ ادارے کررہے ہیں ،کیونکہ اداروں کی ملی بھگت کے بغیر غیر قانونی تعمیرات ہو ہی نہیں سکتیں، اور کسی تھانے اور متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر تجاوزات بھی قائم نہیں ہوسکتیں، یہاں تک کہ جمعہ اور اتوار جیسے بازاروں سے بھی اداروں کا ہفتہ اور ماہانہ طے ہے۔ اسی طرح کسی بھی عمارت کو تعمیر کرنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا این او سی ہونا ضروری ہے جس کے بغیر چھوٹی سے چھوٹی تعمیر بھی ممکن نہیں ہے، اور اس کا اندازہ کراچی کے شہریوں کو اس طرح ہے کہ کسی تعمیر کے سلسلے میں جیسے ہی بجری، سیمنٹ، سریا وغیرہ گھر کے باہر آتے ہیں، متعلقہ اداروں کے اہلکار مستعدی کے ساتھ گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں، اور لین دین شروع ہوجاتا ہے۔ حال یہ ہے کہ کراچی میں چالیس اور ساٹھ گز کے پلاٹوں پر آٹھ آٹھ منزلہ عمارتیں قائم ہورہی ہیں۔ غیر قانونی اور بے ہنگم تعمیرات کی وجہ سے اس وقت شہر کے کئی علاقوں کی حالت یہ ہے کہ تنگ گلیوں میں نہ تو ایمبولینس جا سکتی ہے، نہ فائر بریگیڈ کا داخلہ ممکن ہے۔ خدانخواستہ اگر زلزلہ آجائے تو ہزاروں بلکہ لاکھوں جانوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔ شہر میں سفر کرنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔ تجاوزات کی وجہ سے بازار سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ مرد، خواتین، بچے، بزرگ شہری بازار آنے سے کتراتے ہیں۔ دکان داروں نے اپنی دکانوں کے آگے ریڑھی کرائے پر دے رکھی ہیں اور آگے پختہ تھڑے اور چبوترے بنا رکھے ہیں۔کراچی کی 34 آبادیوں کا پانی بہہ کر منظور کالونی نالے کے ذریعے سمندر میں جاتا ہے، یہ ڈیڑھ کلومیٹر چوڑا تھا جس کو محدود کردیا گیا، اور یہ زمین ڈیفنس فیز سیون کا حصہ بن گئی ۔نالے سے صرف کچی بستیوں کو مسمار کیا گیا ہے جبکہ ڈی ایچ اے میں جو بڑی عمارتیں ہیں وہ ابھی تک موجود ہیں۔ خیابانِ جامی، گذری کریک، ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے کئی علاقوں میں غیر قانونی تجاوزات ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں تک ممکن ہوسکے، تجاوزات اور غیر قانونی رکاوٹوں کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اداروں کی ملی بھگت کے بغیر غیر قانونی تعمیرات نہیں ہوسکتیں، اس لیے عدالت عظمیٰ نے اگر شہر کو صاف کرنے کا بیڑا اآٹھایا ہے تو اس ضمن میں گزارش یہ ہے کہ وہ پوری روح کے ساتھ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کروائے، اور عمل نہ کرنے والوں کو سزا دینے کے ساتھ اُن لوگوں اور سرکاری اداروں کو بھی کٹہرے میں لائے جو اس صورت حال کے ذمے دار ہیں۔ جب تک انہیں سزا نہیں ملے گی ان کا یہ دھندا چلتا رہے گا اور تجاوزات اور تعمیرات ہوتی رہیں گی، جن کا سلسلہ آج بھی اس شہر کراچی میں بلاخوف و خطر جاری ہے، بس رشوت خور مافیا کا ریٹ تبدیل ہوجاتا ہے اور ان کی دولت بڑھتی رہتی ہے۔ عدالت عظمیٰ تمام غیر قانونی عمارتوں کی منظوری کے ذمے دار افسران کے اثاثوں کو چیک کروانے کی بھی ہدایت کرے۔ ملک کے سابق دارالحکومت کراچی کا شمار دنیا کے دس بڑے شہروں میں ہوتا ہے ،ملک کی ساٹھ فیصد صنعتیں کراچی میں ہیں اور یہ شہر ملک کے محصولات کا 70 فیصد فراہم کرتا ہے۔عرس البلاد کراچی کے مسائل حل ہونے سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گا ، امن وامان کی صورتحال بہتر ہونے سے شہریوں کی زندگی میں سکون آئے گا ،معاشی سر گرمیاں تیز ہوں گی تو ملکی معیشت میں استحکام آئے گا۔شہر میں پینے کے صاف پانی ، بجلی، سٹرکوں کی خستہ حالی، ٹریفک ، پارکنگ،ٹرانسپورٹ ،صفائی، سیوریج کے نظام سمیت دیگر بے شمار مسائل ہیں ۔کراچی کے گمبھیر مسائل کا واحد حل بااختیار شہری حکومت کا قائم ہونا اور میگا میٹروپولٹین سٹی کا درجہ دینے سے ہی وابستہ ہے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں