Voice of Asia News

ہم کیوں اپنے سائنسدان کیوں نہیں بناتے، کیوں کوئی ایجاد نہیں کرتے؟. عمران خان

ہری پور( وائس آف ایشیا)وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نوآبادیات ایک قوم کے لیے تباہی ہے اور اس کی وجہ سے ہمارا خود پر اعتماد ختم ہوا ہے ہری پور میں پاک آسٹریا فیگوچ شول انسٹیٹیوٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھا کہ ہم کیوں اپنے سائنسدان کیوں نہیں بناتے، کیوں کوئی ایجاد نہیں کرتے؟ ہمارا مجموعی رویہ یہ ہے کہ ہم نقال بن گئے ہیں، صرف نقل ہی کرتے ہیں.انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اس راستے پر چلنا چاہیے جس پر اللہ اسے عظیم ملک بنائے گا اور ہم وہ راستہ ڈھونڈ رہے ہیں، قائد اعظم اور علامہ اقبال خواب اور بات کرتے تھے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش رکھی ہے جبکہ کامیابی اللہ دیتا ہے. انہوں نے نوآبادیات کے ذہن پر پڑنے والے اثرات سے متعلق کہا کہ جب میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے گیا تو سینئرز پلیئرز نے مجھے کہا کہ اگر ہم انگریز سے عزت سے ہار جائیں تو یہ ہی ہماری کامیابی ہے یہ ذہنیت ہمیں تباہ کردیا ہے.عمران خان نے کہا کہ اسی ذہنیت کی وجہ سے آج وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں سب سے آگے نکل گئے، جتنا ہمارا مجموعی بجٹ ہوتا ہے ان کی ایک کمپنی کی مالیت کہیں زیادہ ہوتی ہے‘وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے کارناموں کی تعریف کے بجائے انسان کو مزید کام پر توجہ دینی چاہیے. انہوں نے کہا کہ کمیونزم قوموں کے لیے تباہی ہے اور یہ تاثر کہ مغرب ہی ترقی کرسکتا ہے ہم نہیں کرسکتے یہ غلط ہے انگریز کی غلامی کے ذہن اور سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا ہم کچھ اس لیے نہیں کر سکتے کیونکہ ہم کاپی کرتے ہیں.وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انگریز سائنسدان بن سکتے ہیں تو ہمارے لوگ کیوں نہیں ؟ ہم نے ذہنوں کو اچھی غلامی کی سوچ سے نجات دلانی ہے، ہم خود مختار لوگ ہیں اور خود کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی شرح زیادہ ہے اور ترقی بھی ممکن ہے ہمیں بگ ڈیٹا، آرٹیفشلز انٹیلی جنس اور دیگر ٹیکنالوجی سے مدد لینی چاہیے ہم خود مختار لوگ ہیں اور خود کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں.وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے پہلا سال معیشت کو بہتر کرنے اور دوسرا کورونا سے نمٹنے میں گزارا یہاں تعلیم پر ماضی میں کوئی توجہ نہیں دی گئی تاہم ہم پیسہ کے غلط استعمال کے خلاف قانون لاکر تعلیم پر سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں. انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم تعلیم کے شعبے پر توجہ دیتے تو کہاں سے کہاں ہوتے خیبر پختونخوا حکومت نے پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی اور چین نے ہر معاملے میں پاکستان کی مدد کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے معاملے میں بھی چین نے معاونت کی.اس سے قبل چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ بڑی پیش رفت ہے ہری پور میں جدید انسٹیٹیوٹ کا قیام ریاست کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے. واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تناظر میں قانون سازی ضروری تھی، پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں موجودہ حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ سابقہ حکومتوں کی وجہ سے گیا.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے