Voice of Asia News

 امریکی کمپنی نے نئی ویکسین کی خوشخبری سنا دی

نیویارک(وائس آف ایشیا) امریکہ کی بائیو ٹیک فرم موڈرنا نے کہا ہے کہ رضاکاروں کے ایک چھوٹے گروپ پر کورونا وائرس کے خلاف نئی تجرباتی ویکسین کے استعمال کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ کیمبرج میساچُوسٹس کی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین ایم آر این اے 1273 نے ان آٹھ رضاکاروں میں اسی طرح کا مدافعتی ردِعمل دکھایا جس طرح کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد میں دیکھا گیا۔موڈرنا کے چیف میڈیکل آفیسر ٹیل زیکس کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے ابتدائی نتائج میں دیکھا گیا ہے کہ اس کے استعمال سے رضاکاروں میں حوصلہ افزا مدافعتی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔یہ ہمارے اس یقین کو ثابت کرتا ہے کہ اس ویکسین میں کورونا وائرس سے بچانے کی صلاحیت موجود ہے اور اس سے ہم مزید آزمائشی تجربات کر سکتے ہیں۔امریکہ کی بائیو ٹیک فرم موڈرنا جس کا قیام 9 سال قبل عمل میں لایا گیا تھا کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین عام طور پر محفوظ ہے اور اس کے کوئی سائیڈ افیکٹس بھی نہیں ہیں اور اس کے استعمال سے مریضوں کا صرف چہرہ معمولی سُرخی مائل ہوا۔کانفرنس کال میں موڈرنا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیفنی بینسل کا کہنا تھا کہ عبوری نتائج سے اس بات کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ ویکسین میں کورونا وائرس کے خلاف تحفظ کی بہت صلاحیت موجود ہے۔پہلے مرحلے کے عبوری نتائج کے بارے میں بینسل کا کہنا تھا کہ ہمیں ان عبوری نتائج سے اس سے زیادہ خوشی نہیں ہو سکتی۔اس ویکسین کی تیاری کے لیے موڈرنا تین مرحلوں میں ٹیسٹ اور آزمائشی تجربات کرے گی۔موڈرنا کا کہنا ہے کہ چُوہوں پر الگ سے کیے گئے ٹیسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ویکسین نے اُن کے پھیپھڑوں کو وائرس منتقل ہونے سے بچایا۔واضح رہے کہ امریکی حکومت نے موڈرنا کی ویکیسن کی تیاری کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔یہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیز کے ساتھ شراکت داری کی بنیاد پر تیار کی جا رہی ہے جس کے سربراہ صدر ٹرمپ کے مشیر اینتھنی فاؤچی ہیں۔پیر کو امریکہ میں کووڈ 19 کے کیسز کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ وائرس سے ہونے والی اموات 90 ہزار تک پہنچ گئیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں نئے کیسز کی تعداد میں کمی نظر آئی ہے، جبکہ صرف 12 ریاستوں میں گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔امریکہ بھر میں کووڈ 19 کے نئے کیسز میں گذشتہ ہفتے آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے، جس کی وجہ نیویارک اور نیوجرسی میں کیسز میں مسلسل کمی ہے۔امریکہ کی تقریباً 50 کے قریب ریاستوں میں کاروبار کو کھول دیا گیا ہے اور شہریوں کو گھر سے نکلنے کے اجازت دے دی گئی ہے، تاہم محکمہ صحت کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے وائرس کی دوسری لہر پیدا ہو سکتی ہے۔
وائس آف ایشیا،19 مئی2020خبر نمبر 23

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے