Voice of Asia News

عمران خان جیسا جارحانہ کپتان بننا چاہتا ہوں۔ بابر اعظم

لاہور ( وائس آف ایشیا )دوہری ذمہ داریوں سے بے فکر قومی ٹیم کے وائٹ بال کپتان عمران خان کے نقش قدم پر چلنے کے خواہاں ہیں جن کا کہنا ہے کہ قابو میں رہنے والی جارح مزاجی مرکز نگاہ ہوگی،دو فارمیٹس میں کپتانی کا بوجھ بیٹنگ پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوگا کیونکہ بیٹنگ کرتے ہوئے قیادت کے متعلق کچھ بھی نہیں سوچتا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے وائٹ بال فارمیٹ کے کپتان بابراعظم قابو میں رہنے والی جارح مزاجی سمیت عمران خان کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں اور ان کا گزشتہ روز آن لائن پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ انہوں نے کھیل میں جو کچھ سیکھا ہے اس میں سے ایک اہم پہلو جارح مزاجی بھی ہے جس کے سہارے وہ عمران خان کی طرح قیادت کے فرائض نبھانا چاہیں گے۔بابراعظم کیمطابق کپتانی کرتے ہوئے کھلاڑی کو ٹھنڈا رہنا پڑتا ہے اور پلیئرز کو ساتھ لے کر چلنے کیساتھ اس پلاننگ پر بھی عمل کرنا ہوتا ہے جو کہ حریف ٹیموں کیلئے تیار کی جاتی ہے اور کبھی کسی بات پر اندر غصہ موجود بھی ہو تو فیلڈ میں خود کو ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے ، اعتماد سب سے اہم چیز ہے جس کے سہارے ساتھی کھلاڑیوں کو جتنی حمایت فراہم کی جائیگی اتنے ہی بہترین نتائج سامنے آئیں گے اور قیادت کا کانٹوں بھرا بستر پھولوں سے لبریز ہو جائیگا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر کوئی اضافی بوجھ نہیں کیونکہ وہ نئے کردار کو سنبھالنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں کیونکہ یہ ایک نیا چیلنج ضرور ہے لیکن پلیئرز ہمیشہ ایسے چیلنجز کیلئے تیار رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے انہیں کپتانی کے متعلق بتایا تو انہیں خوشی ہوئی کیونکہ یہ اعزاز ان کی قسمت میں لکھا تھا جو کہ انہیں مل گیا اور اس پر کوئی شکایت بھی نہیں کی جا سکتی کہ کیریئر میں اتنی جلدی یہ بڑا بوجھ ان پر کیوں ڈال دیا گیا۔بابر اعظم کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر پی سی بی نے ان پر کچھ دیکھ کر ہی بھروسہ کیا ہے لہٰذا وہ اس ذمہ داری کو اٹھانے کیلئے تیار ہیں اور کئی پہلوؤں پر نگاہ رکھتے ہوئے ان کی بیٹنگ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑیگاکیونکہ انہیں چیلنجز قبول کرنا پسند ہے اور جہاں تک ان کا خیال ہے تو کپتانی اور بیٹنگ کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کپتان کا کہنا تھا کہ ان کو ایسا نہیں لگتا کہ کپتانی ان کی بیٹنگ پر کوئی منفی اثر ڈال سکے گی کیونکہ وہ بیٹنگ کے دوران کپتانی کے متعلق کچھ نہیں سوچتے بلکہ ان کی تمام تر توجہ بیٹنگ کی جانب مرکوز رہتی ہے جبکہ دیگر باتوں کے بارے میں وہ بعد میں سوچتے ہیں جو لازمی طور پر ایک چیلنج ہے لیکن وہ اس کیلئے تیار ہیں۔بابر اعظم کے مطابق وہ کپتانی کے دوران لگاتار فتوحات کے بارے میں نہیں سوچ رہے کیونکہ قیادت گلابوں سے آراستہ سیج نہیں ہے جس میں نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ غلطیاں اور بہترین کارکردگی بھی اس کا حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قیادت کے دوران وہ اگرچہ اپنے فیصلوں پر انحصار کرینگے لیکن ٹیم میں موجود سینئرز سے رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا اور جس بھی کسی مشکل وقت میں ضرورت پڑی تو انہیں مصباح الحق سے مشورہ لینے میں کوئی عار نہیں ہوگا جبکہ اس حوالے سے یہ تاثر یکسر غلط ہے کہ ہیڈ کوچ اپنے فیصلوں کے تحت انہیں بطور کپتان کنٹرول کرینگے۔بابر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ کوئی انڈر 19یا اے ٹیم کی قیادت نہیں جس کیلئے ہمہ وقت ڈریسنگ روم سے آنیوالی ہدایات کو پیش نظر رکھنا پڑے کیونکہ انہوں نے بطور کپتان فیلڈ میں رہتے ہوئے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اور وہ اپنے طور پر فیصلے کر سکتے ہیں لیکن چونکہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے جس میں بعض اوقات باہر بیٹھے سپورٹ سٹاف سے بھی مشورہ لینا پڑتا ہے لہٰذا اگر ان کی جانب سے کوئی بہتر تجویز سامنے آجائے تو وہ اس پر بھی عمل کروں گاکیونکہ یہ تمام تر فرائض اسی انداز سے آگے بڑھتے ہیں۔
وائس آف ایشیا،19 مئی2020خبر نمبر 76

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے