Voice of Asia News

گھر بندی اور خود تنہائی حسنین جمیل

 
فرخ سہیل گوئندی اہک ہمیہ گیر شخصیت کا نام ہے انکی شحصیت کے کہی پہلو ہیں وہ پاکستان کی چلتی پھرتی سیاسی تاریخ ہیں عشق بھٹو لہو بن کر ان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔اگر لاہور میں کسی نے پاکستان پیپلز پارٹی کو زندہ سلامت حالت میں دیکھنا ہے تو وہ گوہندی صاحب کو دیکھ لے ایک بار میں لاہور کے ایک مشہور ناشر کے پاس بیٹھا تھا وہاں گوہندی صاحب کا تذکرہ ہو گیا وہ صاحب بولے اگر گوہندی صاحب نے پیپلز پارٹی کے اندر رہ کر اپنے اصولوں پر سمجھوتے کر لہے ہوتے تو وہ آج وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے ۔سیاست سے فراغت کے بعد انہوں نے مختلف سماجی کام کہے ہیں کچھ عرصہ پاکستان ٹیلی وژن اور ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطور اینکر کام کیا محتلف اخبارات و جرائد میں کالم لکھتے رہے اب اپنا ہو ٹوہب چنیل بنایا ہے جو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر ایک مشہور چنیل بن چکا ہے۔جس کام نے حقیقی طور پر گوہندی صاحب کو اہل دانش کے حلقوں میں شہرت دی ہے وہ بطور ناشر کے ہے ان کا ادارہ جمہوری پبلشرز اب تک سینکڑوں کتابیں شائع کر چکا ہے ڈاکٹر مہاتیر محمد کی کتاب اشیا کا مقدمہ۔ ان کی اپنی بھٹو صاحب  پر لکھی کتاب میرا لہو۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی شہرہ آفاق کتاب شاہراہ انقلاب کی جلد دوم ۔ اور ایک بھارتی صحافی فرانک خضور کی وزیراعظم عمران خان پر لکھی کتاب شامل ہے فرانک نے بھی یہ کتاب عمران خان کے عشق میں لکھی ہے  اس کے ترکی زبان کے ادب کو حقیقی طور کسی نے پاکستان میں متعارف کروایا ہے وہ جموری پبلشر ہے ۔ان کا کمال وہ باقاعدہ ترک لکھاریوں سے اجازت لے کر ان کی کتابیں اردو زبان میں شائع کرتے ہیں بطور ادیب گوہندی صاحب اہک شاخت بنا چکے ہیں سیاسی کتابیں لکھنے کے ساتھ انہوں نے خاکہ نگاری بھی شروع کردی ہے ان کی خاکوں کی کتاب لوگ در لوگ کو بہت پذیرائی ملی ہے ان کا کمال یہ ہے وہ سادہ اور آسان زبان کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں نے الفاظ بھی استعمال کر رہے ہیں ۔کثرث مطالعہ کی عادت کے وجہ سے نے الفاظ استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اہک لفظ طہارت شدہ باہاں بازو بھی ایجاد کیا تھا اب گھر بندی اور خود تنہائی جسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں سب الفاظ انک قلم کی پیداور ہیں۔ جسا کہ سطور بالا میں لکھا گیا کہ کثرت مطالعہ کی عادت سے نے الفاظ ایجاد ہوتے ہیں اس عالمی وبا کے باعث جہاں ساری دنیا گھروں میں مقید ہے اور وقت گزاری کے لہے بے کار مشاغل میں مصروف ہے وہاں فرخ سہیل گوئندی ایک بڑے کام میں لگے ہوئے ہیں وہ اپنے ہو ٹوہب چنیل پر جہاں اپنے زندگی کے تجربات اور مشاہدات لوگوں کو بتا رہے ہیں وہاں پاکستان کے بڑے لوگوں کے انٹرویو بھی کر رہے ہیں یہ سارے انٹرویو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔ڈاکٹر مبشر حسن کے آخری ایام میں کیا گیا انٹرویو اور اردو فکشن کے بہت بڑے نام مسنتعر حسین تارڑ صاحب کا انٹرویو شامل ہے  جس میں ثارڑ صاحب نے اردو فکشن کے ساتھ ساتھ ترکی زبان ادب کے حوالے اظہار خیال کیا ہے اردو ادب کے طالب علموں کے لئے شاندار تحفہ ہے  بطور ناشر اور ہو ٹیوبر فرخ سہیل گوئندی پاکستان کر سیاسی سماجی اور ادبی تاریخ کو اہک آر کاہیو میں محفوظ کر رہے مطالعہ کے شوقین افراد ان کی کتابیں پڑھیں اور جو مطالعہ کے شوقین نہیں جو کہ اچھی بات نہیں وہ ہو ٹیوب چینل پر وطن عزیز کی سیاسی سماجی اور ادبی تاریخ کو سن لیں گوہندی صاحب دونوں محازوں پر گھر بندی اور خود تنہائی کے اس مشکل وقت میں ہمیں سیاسی سماجی اور ادبی تاریخ کے اسباق پڑھا رہے ہیں۔ ویل دن گوہندی صاحب۔
image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے