Voice of Asia News

تعلیم ڈگریاں نہیں شعور کا نام:سیف اعوان

ایک ٹیچر نے بچوں سے اسلامی لازمی کا ٹیسٹ لیا ایک بچہ اس ٹیسٹ میں فیل ہو گیا اگلے دن ٹیچر نے اس بچے کو کھڑاکرکے کہا بیٹا میں تمہارے ساتھ سکول کے گیٹ پر بیٹھے گارڈ یا مالی کو بلاکر تمہارے ساتھ پیپر دینے کو کہو ں اگر وہ گارڈ یا مالی بھی تمہاری طرح ٹیسٹ میں فیل ہوتے ہیں تو تم میں اس گارڈ میں کوئی فرق نہیں ہے میں تو کہوں گا کہ وہ گارڈ تم سے زیادہ ذہین ہے کیونکہ وہ کبھی کلاس میں نہیں بیٹھا وہ بھی فیل ہوا اور تم روز کلاس میں آتے اور تم بھی فیل ہوئے ۔بیٹا سکول آنے کا مقصد صرف شعور اور آگاہی حاصل کرنا ہے ۔جب بھی ہم تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں فورا دنیا کے بڑے بڑے اور کامیاب لوگوں کے نام آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہم ان کی طرح کامیاب اور مشہور ہونے کے خواب بھی دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔تعلیم کی اہمیت اور قدر یا تو ایک مزدور جانتا ہے یا والدین جانتے ہیں ۔کیونکہ مزدور جب کسی پڑھے لکھے شخص کے گھر مزدوری کرنے جاتا ہے تو وہ یہ ضرور سوچتا ہے اگر میں آج پڑھنا لکھنا جانتا ہوتا ہے تو آج میں یہاں مزدوری نہ کررہا ہوتا۔دوسری بات والدین تعلیم کی اہمیت سے کیسے واقفیت رکھتے ہیں یہ سب سے اہم چیز ہے۔کیونکہ والد محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دلوانے کی کوشش کرتا ہے ۔والد کی کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح میں آج محنت اور مشقت کررہا ہوں میرے بچے ایسے گرمی ،سردی اور دھوپ میں مشقت نہ کریں ۔تعلیم کا مقصد صرف ڈگریاں حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور شعوربھی سیکھنا ہے۔انسان اور حیوان میں صرف تعلیم اور شعور کا ہی فرق ہوتا ہے۔
پاکستان میں تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگوں کی کمی نہیں ہے ۔کسی بھی سرکاری نوکری کی خالی اسامیوں کا جب اخبار میں اشتہار آتا ہے ۔نائب قاصد اور کلرک کی اسامیوں کیلئے ایم اے اور بی اے پاس نوجوان لڑکیاں اور لڑکے درخواستیں دینے پہنچ جاتے ہیں ۔میری آنکھوں دیکھا یہ مشاہدہ ہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں خالی اسامیوں کی بھرتی کیلئے اخبار میں اشتہار آیا یہاں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی دیکھنے میں آئی ۔ایم اے انگلش اور ایم فل پڑھے نوجوان معمولی سرکاری نوکریوں کیلئے اپنی درخواستیں جمع کرانے اسمبلی پہنچ گئے ۔یہ صرف ایک واقعہ ہے ایسے مشاہدتے اکثر سرکاری نوکریوں کی درخواستیں دینے والوں کی درخواستیں دیکھنے کے بعد سامنے آتے ہیں۔میں یہاں خصوصی طور پر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پسماندہ اضلاع کی طرف توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں ۔ان اضلاع کو حرف عام میں جنوبی پنجاب کہا جاتا ہے جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع کے بچے بچیاں آج بھی بنیادی تعلیم سے محروم ہیں ۔جنوبی پنجاب کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں پسماندگی ،غربت ،پریشان حال لوگوں کے چہرے اور بیروزگاری کا خاکہ سا بن جاتا ہے۔جنوبی پنجاب میں آج بھی اچھی اور اعلیٰ تعلیم وہاں کے سرداوروں اور وڈیروں کے بچوں کا حق ہی تصور کیا جاتا ہے۔میں سرداروں اور وڈیروں کے بچوں کی تعلیم کیخلاف نہیں ہوں لیکن عام مزدور اور غریب کے بچوں اور بچیوں کو بھی اچھی اور معیاری تعلیم ملنی چاہیے۔اگر ہم جمہوریت پسند ہیں تو جمہوریت کے آئین کے مطابق بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ہے اور یہ تعلیم ہر بچے کو دینا ریاست کی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ریاست اپنی اس ذمہ داری سے کسی صورت راہ فرار اختیار نہیں کر سکتی۔
اگلے دن میری ملاقات سماجی تنظیم آواز فاؤنڈیشن کے پروگرام امنگ کے ساتھ کام کرنے والی رضاکاروں سے ہوئی۔۔ امنگ پروگرام کی یہ رضاکار خصوصا جنوبی پنجاب کے اضلاع میں کام کرتی ہیں ۔ وہ مجھے بتارہی تھیں کہ حالیہ دنوں میں حکومت پنجاب کی جانب سے جنوبی پنجاب میں بچوں کو مفت کتابیں تقسیم کرنے کیلئے یہ کتابیں اساتذہ کے حوالے کی گئیں لیکن ان میں سے اکثراساتذہ نے وہ کتابیں اپنے پاس رکھی لی ہیں یا کچھ اساتذہ نے یہ کتابیں چند بچوں کے حوالے کردی ہیں جو باقی بچوں کو یہ کتابیں پہنچائیں گے ۔میرے خیال میں ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ اساتذہ تو نہیں کرسکتے اگر یہ سچ ہے تو یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ حرکت ہے۔پاکستان میں دنیا بھر کی طرح آج کل کرونا وائرس کا قبضہ ہے ۔اس کرونا وائرس کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں بیشتر سکولوں میں حکومت نے قرنطینہ سینٹرز قائم کردیے ہیں جوکہ ایک تشویشناک بات ہے ۔ان سکولوں میں موجود کرونا وائرس سے متاثرہ مریض سکول کے فرنیچر سمیت دیگر سامان کو بھی زیر استعمال لا سکتے ہیں جب کرونا وباء کا خاتمہ ہو گا تو ان سکولوں میں معصوم بچے بھی جائیں گے۔حکومت کو چاہیے کہ جب ان سکولوں سے قرنطینہ سینٹرز ختم کیے جائیں تو ان سکولوں کی مکمل صفائی کی جائے ۔اس طرح بہاونگر جوکہ باڈر لائنز پر واقعہ ہے یہاں اکثر علاقوں میں لوگوں کو موبائل فونز،انٹر نیٹ اور ٹی وی گھروں میں رکھنے کی اجازت نہیں ۔یہاں موبائلز اور ٹی وی کے بغیر لوگ باقی ملک کے رہنے والے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔موجودہ دور میں انٹرنیٹ اچھی اور اعلیٰ تعلیم کی ضمانت بن چکا ہے جبکہ موبائل بھی ایک لازمی جز بن چکا ہے ان کے بغیر بچیوں اور بچوں کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے ان کو چاہیے کہ وہ جنوبی پنجاب کے بچوں کو درپیش تعلیمی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار اد کریں ۔تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 2019-20کے بجٹ میں تعلیم کیلئے ایک بڑی رقم مختص کی لیکن حکومت پنجاب کا مالی سال مکمل ہونے کے قریب ہے پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب میں ایک بھی نیاسکول نہیں بنایا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جنوبی پنجاب کی بچیوں اور بچوں کیلئے جلد از جلد بنیادی تعلیم کی فراہمی یقینی بنائیں ۔جنوبی پنجاب کے بچوں کا بھی حق ہے کہ وہ اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کر سکیں ۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے