Voice of Asia News

جنید صحرائی کی شہادت کی خبر مختلف علاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے

 
سرینگر(وائس آف ایشیا )مقبوضہ جموں وکشمیر پولیس نے پیر کی رات دیر گئے علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں تکنیکی معلومات کے بعد آپریشن شروع کیا۔ایک اعلی ذرائع نے بتایا کہ جنید صحرائی کے فون کی وجہ سے سکیورٹی ایجنسیوں نے ان کا سراغ لگایا۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہفتے قبل انہیں کنگن میں ٹریس کیا گیا تھا جہاں وہ دو عسکریت پسندوں کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے ان کا موبائل ہاٹ سپاٹ استعمال کیا۔ جب گھیراؤ اور تلاشی شروع کی گئی تب وہ فرار ہوگیا۔ پیر کے روز بھی ، جنید ایک ملاقات کے لئے سری نگر تھے۔صبح 2 بجے سے کچھ دیر پہلے ، ایک کورڈن اور سرچ آپریشن کیا گیا۔ صبح تین بجے کے قریب سیکیورٹی فورسز کے قریب پہنچنے پر ایک دستی بم پھینک دیا گیا ، جس سے رابطے کی تصدیق ہوگئی۔ اندھیرے میں علاقے میں ، جموں و کشمیر پولیس نے ایس او پی کی پیروی کی اور، اس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ اور وائس کالز معطل کردی گئیں۔ صبح کے وقت ، دونوں عسکریت پسندوں کو گولی مار کر شہید کردیا گیا۔جنید کی شہادت کے ساتھ ہی ، وادی میں عسکریت پسند تنظیموں کے تمام اعلی چھ کمانڈروں کو سیکیورٹی فورسز نے ختم کردیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے نئے ایس او پی کنبے کو جنید کی لاش نہیں دی جائے گی۔ دونوں لاشوں کو بارہمولہ میں دفن کیا جائے گا۔جنید صحرائی اور ان کے ساتھی کی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہادت پر سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں زبردست بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ جنید کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی لوگ علاقے میں نافذپابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے اور بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ بھارتی فوجیوں نے مظاہرین پرپیلٹ برسائے اور آنسو کے گولے داغے جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے جواب میں بھارتی فورسز پر پتھرا وکیا۔ آخری اطلاعات آنے تک بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔ قابض حکام نے احتجاجی مظاہروں کوروکنے کے لیے سرینگر اوردیگر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔
وائس آف ایشیا،20 مئی2020خبر نمبر 94

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے