Voice of Asia News

بند گلی، سیف اعوان

پاکستان کی 73سال تاریخ میں جہاں بھی نظر دوڑائیں آپ کو کہی نہ کہی کوئی ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا نظر آئے گا چاہیے وہ سویلین ڈکٹیٹر سکندر مرزا ہو یا فوجی ڈکٹیٹر مشرف کی صورت میں ہو۔امریکہ،برطانیہ ،فرانس،روس اور چین کیوں مضبوط اور با اختیار ملک ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ان ممالک میں سیاستدان پاور فل ہیں اور اداروں کے سربراہاں چاہے وہ اسٹبلشمنٹ ہو ،احتساب کے اداروں ہو یا دیگر اداروں کے سربراہاں ہوں سب اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرتے ہیں اورپارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں اور ریاست کی پالیسیوں کے مطابق ہی اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں جبکہ عدالتیں عدل و انصاف کے تقاضے پوری کرتی ہیں لیکن پاکستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔یہاں کبھی اسٹبلشمنٹ پاور ہوتی ہے کبھی احتساب کے اداروں پاور فل ہوتے ہیں اور کبھی عدلیہ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر سویلیں معاملات میں کھلے عام مداخلت کرتی ہے ۔اداروں کی سویلین معاملات میں مداخلت کی سب سے بڑی وجہ پارلیمنٹ اور ریاست کے سربراہ کا کمزور ہوناہے۔پاکستان کو آج تک با اختیار،مضبوط،اپنی مرضی سے فیصلے کرنے والا اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے والا وزیراعظم ہی نہیں مل سکا اگر کوئی ملا تو اس کو ہر طرح سے کمزور کرنے اور نیچا دیکھاکیلئے کبھی عدالتوں نے مداخلت کی اور کبھی اداروں نے مداخلت کی ۔پاکستان جب جب ترقی کی جانب سفر کرنے لگاہے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں ۔ہمارے حکمرانوں کا ایک بنیادی مسئلہ یہی رہا ہے کہ وہ ہر بات کا الزام فورا ملک دشمن قوتوں اور ہمسایہ ملک بھارت پر لگادیتے ہیں جبکہ حکمران طبقہ کبھی یہ نہیں سوچتا کہ ہماری صفوں میں کون ایسے عناصر ہیں جو ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ۔الزامات لگانے ،پروپیگنڈے کرنے اور پکڑ دھکڑ کی سیاست سے ملک ترقی نہیں کرتے اور نہ اس ملک میں بیرونی سرمایہ کار ی آتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری ایسے ملک میں آئے گی جہاں امن قائم ہوگا اور سیاسی استحکام پیدا ہوگا ۔دوسری جانب جس ملک میں افراتفری ،لوٹ مار،مافیا ازم مضبوط ہو،پارلیمنٹ کمزور،ریاستی سربراہ فیصلے کرنے میں با اختیار نہ ہو ایسے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایسے حالات میں ملک میں ترقیاتی کام،صحت و تعلیم کی شعبوں میں انقلابی اقدامات ڈراؤنے خواب کے متراد ف ہے۔
پاکستان میں 2017کے بعد سے ملک میں مسلسل افراتفری ،پکڑ دھکڑ ،اداروں کی سویلین معاملات میں مداخلت،میگاپروجیکٹس پر کام سست روی کا شکار ،بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر،الٹا اپنے سرمایہ کار بھی عدم تحفظ کا شکار ،غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے ،اشرفیہ اور با اثر طبقہ قانون سے پاورفل،مہنگائی کی شرح بلند تر ہوتی جارہی ہے ۔فی الحال جیسے نئے پاکستان کیلئے اتنی جدوجہد کی گئی تھی وہ کہی نظر نہیں آرہا۔لوگ آج بار بار کیوں کہہ رہے ہیں ہمیں پرانا پاکستان واپس لوٹادیں ۔اس کی سب سے بڑے وجہ یہی ہے کہ 2013سے 2017تک ملک میں پکڑ دھکڑ،لوٹ مارنہیں چل رہی اور نہ ہی مہنگائی کی شرح 11فیصد تھی ۔ان سالوں میں ملک میں ترقیاتی کام بھی ہورہے تھے اور عام آدمی کو روزگار بھی مل رہا تھا لیکن اچانک سے کوئی نیا منصوبہ لاؤنچ ہوتا ہے جو اس ملک کا بیڑہ غرق کردیتا ہے۔آج ہر شخص نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنارکھی ہے ۔کوئی شخص اپنی ذمہ داری پوری کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ملک میں عدالتی نظام کمزور ہوتا جارہا ہے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہا ہے۔سیاسی اختلافات اب ذاتیاں تک پہنچ گئے ہیں ۔پہلے عدالتوں اور جیلوں میں مرد جاتے تھے اب سیاستدانوں کی بہو،بیٹیوں اور بہنوں کوکبھی جیلوں میں ڈالا جارہا ہے اور کبھی عدالتوں کے چکر لگوائے جارہے ہیں ۔اس کا واضع مقصد یہی ہے کہ سیاسی حریفوں کے اہلخانہ کی تذلیل کی جائے ۔کیا ایسے حالات میں ملک آگے بڑھ پائے گا یا دودھ اور شہد کی نہریں بہہ سکیں گئیں؟یقینا ایسا نہیں ہوسکتا۔بہنیں،بیٹیاں اور مائیں سب کے ایک جیسی ہوتی ہیں ۔اگر آج سیاسی مخالفین اور اپوزیشن کے لیڈروں کی بیٹیاں اور بہنیں عدالتوں اور جیلوں میں جارہی ہیں کل کو صاحب اقتدار بھی اپوزیشن میں آسکتے ہیں اور ان کی بہنیں بیٹیاں بھی عدالتوں اور جیلوں میں جاسکتی ہے کیونکہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔کل کے حکمران آج کے قیدی ہیں اور آج کے حکمران شاید کل کے قید بن جائیں ۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ سب کو اپنے آنے والی کل کی فکر کرنی چاہیے ۔صاحب اقتدار اور طاقتور شخصیات پکڑ دھکڑ کی چکر میں بہت آگے نہ نکل جائیں ایسا نہ ہو کہ واپسی کے تمام راستے بند ہو جائیں اور آپ بند گلی میں کہی پھنس جائیں اور آپ کو واپسی کاراستہ بھی نہ مل سکے۔
(بلاگر ایک صحافی ہیں ،سیاسی اور سماجی ایشوز پر بلاگ بھی لکھتے ہیں)

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے