Voice of Asia News

استحکام پاکستان میں پاک فوج کا قابل ستائش کردار ,تحریر: آغا سید حیدر شاہ

 

قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں افراد کی قربانیوں، برصغیر کی بڑی ہجرت اور عصمتیں لٹنے کے ہوش رباخونیں واقعات کے بعد بالآخر 14اگست 1947 کے دن پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور یہ آزاد خودمختار ملک کی حیثیت سے دُنیاکے نقشے پر اُبھرا۔ پاکستان کا تصورشاعر مشرق علامہ اقبال نے دیا جس کا مقصد ایک ایسا وطن قائم کرنا تھا جو آزاد ہو اور جہاں پر اسلامی قدروں کے مطابق مسلمان اپنی زندگی گزار سکیں۔قیام پاکستان کے بعد سب سے اہم ترین کام اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت کاتھاجس کیلئے فوج کی ضرورت تھی۔کیونکہ فوج کسی بھی ملک کا سب سے اہم ترین ادارہ ہوتا ہے جو ملک کو درپیش ہر قسم کی اندرونی بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ جس ملک کی فوج مضبوط ہوتی ہے اس کا دفاع بھی مضبوط ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد تین جون 1947ء کو برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی افواج پاکستان بشمول پاک بحریہ اور پاک فضائیہ اس وقت دُنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے۔
پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کے بارے میں کوئی ملک ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔اور کانگرس کو تو بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ افواجِ پاکستان دُنیا کی بہترین فوج بن کے اُبھرے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ برِ صغیر کی تقسیم کے بعد وہ علاقے جو پاکستان کو ملے اُن میں موجود مسلمان فوجیوں کا ایک بھی بریگیڈ نہیں تھا جو چند بٹالین کہیں کہیں پر تھیں اُن میں بھی فوجیوں کی تعداد پوری نہ تھی۔ 3 جون 1947 کو اعلانِ پاکستان کے ساتھ ہی مسلمان یونٹوں سے ہندو،سکھ اور گورکھے مختلف حیلوں بہانوں سے بھارت چلے گئے تھے۔ مسلمان فوجیوں اور یونٹوں کے پاس کوئی قابلِ ذکر ہتھیار بھی نہیں تھا۔ صرف وردی اور رائفل تھی۔ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں منقسم اور غیر منظم پاکستانی فوج کے پاس حوصلہ ،ہمت ،خلوص اور قوتِ ایمانی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ بھارت کا خیال تھا کہ خالی ہاتھ پاکستانی فوج کا شیرازہ بہت جلد بکھر جائے گا۔ کیونکہ ہجرت کرنے والوں کی حفاظت ،سرحدوں کی نگہبانی اور شہری زندگی میں امن وامان قائم رکھنا بھی فوج کی ذمہ داری تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا۔۔۔ ’’پاکستان جیسی چھوٹی چھوٹی نیشنل حکومتیں آج کل کی دُنیا میں اپنی قوم اور ملک کی حفاظت نہیں کرسکتیں اور نہ ہی وہ اپنی خود مختارزندگی گزار سکتی ہیں۔‘‘ نہرو نہیں چاہتا تھا کہ تقسیمِ برِ صغیر کے بعد فوج تقسیم ہو ،مگر قائدِاعظم کا مطالبہ تھا کہ ہر چیز تقسیم ہوگی۔ قائدِاعظم فوج کے بغیر ملنے والی مملکت ادھوری آزادی سمجھتے تھے۔ اگست1947 سے پہلی والی فوج جس کی تشکیل اور تربیت کو کم و بیش دو سوسال کا عرصہ لگا تھا۔ جسے برطانوی ہندوستانی فوج کہا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا‘ وہ ایک مؤثر اور کار آمد جنگی ہتھیار تھی۔ انگریز نے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے معرکے اُسی فوج کے بل بوتے پر سر کئے تھے۔ وہ والی فوج اس خطے کی معاشی بدحالی کے سبب وجود میں آئی تھی۔ اُس فوج کا کوئی مطمع نظر نہ تھا۔ وہ محض مالی فوائد یا عسکری روایات کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے سات سمندر پار چلی جاتی تھی ۔مگر قائدِاعظم کی بصیرت افروز قیادت نے فرنگی سرکار کو یہ کہہ کے من مانیوں سے روکا کہ برِّصغیر کے مسلمان فوجیوں کو محض بھیڑ بکریوں کی طرح مرنے کیلئے انگریز افسروں کی قیادت میں ہم نہیں بھیج سکتے۔ مسلمانوں کو کنگ کمشن دیا جائے۔ قائدِاعظم کے اس مطالبے سے قبل مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ صوبیدار میجر تک عہدہ ملا کرتا تھا جسے وائسرائے کمشن کہا جاتاجبکہ لیفٹیننٹ کا عہدہ کنگ کمیشن کہلاتا تھا۔قائداعظم فوج کی اہمیت سے بہت زیادہ آگاہ تھے انہیں اس ادارے کی اہمیت کا شدت سے احساس تھا۔ پہلی جنگی عظیم کے دنوں میں جب انگریز سرکار کو فوجی افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو انہوں نے انڈین گورنمنٹ سے رابطہ کرکے کہا کہ ہندوستان کی سیاسی قیادت سے کہا جائے کہ وہ جوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دیں۔ اس سلسلے میں جب قائدِاعظم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا ان کا جواب، جو انہوں نے 1917 میں دہلی میں اسمبلی کے بجٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے دیا تھا کہ ’’ہم آپ کو افرادی قوت کس طرح دیں آپ ہمارے لوگوں پر اعتماد کریں تو تب ہم بھی ایسا سوچیں‘ ہم اپنے جوانوں کو محض گن فوڈر کے طور پر لڑنے کے لئے بھیجتے رہیں‘ ہمارے افسران کیوں نہیں لئے جاتے‘‘ ؟اس میں شک نہیں کہ پہلی جنگِ عظیم کے موقع پر ہندوؤں ‘ سکھوں‘ گورکھوں اور دیگر غیر مسلم قوموں کی اکثریت نے فوج کو جوائن کر لیا تھا۔ ہندوستان کی غیر مسلم سیاسی قیادت اکثر اس قسم کی قرار دادیں بھی منظور کیا کرتی تھی کہ ہندووں کو فوج میں بھرتی کیا جائے ان کا محرک تلک بی جی، بھی تھا۔ جس کا خیال تھا کہ جب کبھی انگریز ہندوستان چھوڑ جائے گا تو فوج کنٹرول سنبھال لے گی۔ اور جب ہندوستانی فوج میں ہندو کمیونٹی کی اکثریت ہوگی تو مسلمان حسبِ حال غلام ہی رہیں گے مگر قائداعظم تلک بی جی کی اس خواہش سے آگاہی کے باوجود فوجی افسران کے مطالبے پر قائم رہے۔ قائدِاعظم اور ہندو قیادت کی سوچ میں بنیادی فرق یہ تھا کہ قائداعظم سارا کچھ انسانی جذبے اور علاقائی لوگوں کی بھلائی کیلئے کررہے تھے اور ہندو ایک سازش کے تحت آگے بڑھ رہے تھے۔ بہر طور قائدِاعظم کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں فرنگی سرکار نے ہامی بھر لی تھی کہ وہ جنگِ عظیم اول کے خاتمے پر قائدِاعظم کے اس مطالبے پر ضرور عمل کریں گے۔ اس سلسلے میں دہلی اور بمبئی میں وار کونسل کے اجلاس ہوئے۔ پھر فروری1925 میں ’’انڈین سینڈھرسٹ‘‘ کمیٹی بنی جس کی قیادت انڈین آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف ‘ سر اینڈر یوسکین کے سپرد کی گئی۔ اس کمیٹی کے ممبران میں قائدِاعظم محمدعلی جناح بھی شامل تھے‘ اس ’’انڈین سینڈھرسٹ‘‘ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بھی بنائی جس کی سربراہی قائدِاعظم کو سونپی گئی۔ جب قائدِاعظم اس سب کمیٹی کے باقی ممبران کے ہمراہ یورپ کے دورے پر گئے تاکہ دنیا کی دیگر کیڈٹ اکیڈمیوں کا جائزہ لیا جاسکے تو سوائے برطانوی سینڈھرسٹ اکیڈمی کے سب نے ہندوستان میں کیڈٹ اکیڈمی کی تائید کی تھی۔ برطانوی سینڈھرسٹ اکیڈمی کا کہنا تھا کہ کالے افسروں کے ماتحت گورے کام نہیں کریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ 1927 میں قائدِاعظم نے اسمبلی اجلاس میں اپنے یورپ کے دورے کی روداد سناتے ہوئے برطانوی سینڈھرسٹ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب کالا فوجی گورے کی قیادت میں مرنے کیلئے تیار ہے تو گورے کو بھی کالے کی قیادت قبول کرنا ہوگی۔‘‘ اس سلسلے میں ایک قرار داد مذمت جب منظور کی گئی تو پھر انگریز سرکار نے انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون کے قیام کی منظوری دی تھی۔ یہ عمل قائدِاعظم کی فوج سے والہانہ محبت کا اظہار تھا۔ڈیرہ دون اکیڈمی سے کالے فوجی افسروں کا پہلا بیج1934 میں پاس آؤٹ ہوا تھا جس میں محمدموسیٰ خان بھی شامل تھے‘ جو بعد میں 28 اکتوبر1958 کو پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف بنے۔ قیامِ پاکستان کے وقت موسیٰ خان لاہور میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ پاکستان ہجرت کرنے والے قافلوں کی حفاظت پر مامور فوجی دستوں کی نگرانی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ الغرض قائدِاعظم نے انگریز کو ہندوستانی قومی فوج کی بنیاد رکھنے پر مجبور کردیا تھا۔
قائدِاعظم نے دفاعی حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعدملک میں اسلحہ فیکٹری کے قیام پر غور کیا اور ایک غیر ملکی ماہر نیوٹن بوتھ کو منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا جس نے جلد ہی فیکٹری کے قیام کے بارے میں رپورٹ پیش کردی ۔جس کے بعد کابینہ اور متعلقہ کمیٹیوں کی منظوری کے بعد قائدِاعظم محمدعلی جناح کی خواہش پر ایک اسلحہ فیکٹری راولپنڈی سی ایم ایچ کے پاس چھوٹی سی عمارت میں شروع کردی گئی تھی جس نے 1951ء میں پیدوار دینا شروع کردی تھی اور دوسری راولپنڈی کے باہر واہ میں قائم کی گئی تھی جس نے1952 میں کام شروع کردیا تھا۔ آگے چل کر21 جولائی 1985 کو جنرل ضیاء الحق نے واہ اسلحہ ساز فیکٹری میں اس کا ایک ذیلی ادارہ قائم کیا جس میں 105 ایم ایم توپوں کے گولوں کیلئے ٹینکسٹن الائے تیار کیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جس کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہے۔ پھر5 نومبر1985 کو ہی اس وقت کے وزیرِاعظم محمدخان جونیجو نے واہ فیکٹری میں ایک اور ادارے کا افتتاح کیا جو 12.7 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گن بناتا ہے۔ وہ شعبہ چین کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ الغرض وہ فوج جو تہی دست تھی‘ بکھری ہوئی تھی‘ وہ آج دنیا کی بہترین فوج سمجھی جارہی ہے‘ ایک ایسی فوج جو ایٹم بم سے بھی لیس ہے ہر چند کہ ایٹمی دھماکہ کرنے میں پاکستان کا دنیا میں ساتواں نمبر تھا مگر جدید ٹیکنالوجی‘ اعلیٰ مہارت بہت زیادہ ایٹمی ہتھیاروں کی قسم اور تعداد کی وجہ سے دنیا کی اہم بڑی ایٹمی قوت ہے۔ وہ بھارت جس نے دھماکہ تو پاکستان سے پہلے کیا تھا مگر مہارت اور پائیداری میں پیچھے رہ گیا ہے ۔،قائدِاعظم چونکہ فوج کی اہمیت کو جانتے تھے اس لئے انہوں نے پاکستان میں کاکول ملٹری اکیڈمی قائم کرائی جس میں26 جنوری1948 کو پہلے کورس کا آغاز ہوا۔ جنرل فضل حق جو جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں این ڈبلیو ایف پی (موجودہ خیبر پختونخوا) کے گورنر تھے ۔ان کا شمار اُن فوجی افسروں میں ہوتا ہے جن کا آدھا کورس ڈیرہ دون اور پاسنگ آؤٹ پریڈ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ہوئی تھی۔قائدِاعظم نے23 جنوری1948 کو پی این ایس دلاور کا دورہ کیا اور پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ میں سے ہر ایک کو ملک کے دفاع کو مستحکم بنانے کیلئے اہم کردار ادا کرنا ہے۔ آپ کا شعار ایمان‘ تنظیم اور ایثار ہونا چاہئے۔ آپ اپنے قد کاٹھ کی کمی اپنی جرات‘ فرض اور بے لوث لگن کے ذریعے پوری کرسکتے ہیں کیونکہ زندگی کی فی الواقع کوئی حقیقت نہیں صرف ہمت، استقلال اور عزم بالجزم ہی اسے بامعنی بناتے ہیں۔‘‘ پاکستان کے قیام کے ایک سال اور29 دنوں بعد قائدِاعظم اپنے پاکستان سے عدم سدھار گئے آزادی کے ان394 دنوں میں قائداعظم نے زندگی کے ہر شعبے اور پاکستان کے ہر ادارے کی خبرگیری کی۔11اکتوبر1947 کو کراچی میں تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایک چوراہے پر کھڑے ہیں‘ اﷲ کی مہربانی سے پاکستان کا قیام ہمارے دس برس کی جدو جہد سے ظہور پذیر ہوگیا ہے‘ یہ ہمارے خواب کی تعبیر ہے‘ ہمیں ایک ایسا وطن مل گیا جس میں آزادانہ طور سے اسلامی تمدن اور روایات پر کاربند رہ سکیں گے‘ اپنے معاش اور معاشرت کو پروان چڑھا سکیں گے‘ لیکن ابھی ہمارے آرام کے دن نہیں‘ فی الحال ہم حالت جنگ میں ہیں،بے شمار مسلمان مشرقی پنجا ب، دہلی اور دیگر شہروں میں انتہائی مظالم کا شکار بنے ہوئے ہیں، میں آپ سب افسران سے پورے پورے تعاون کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘13اپریل1948 کو رسالپور میں پاکستانی ہوا بازوں سے بھی قائداعظم نے خطاب کیا اور رائل پاکستان ایئرفورس کالج کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ پھر14 جون1948 کو قائدِاعظم نے سٹاف کالج کوئٹہ کے افسران سے خطاب فرمایا کہ ’’پاکستانی فوج اہالیانِ پاکستان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی پاسبان ہے‘ اس لئے کہ اس کے کاندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری اور بار آن پڑا ہے۔ آپ جس وفاداری اور بے غرضی سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ،اگر آپ نے اسے جاری رکھا تو پھر پاکستان کو کسی بات سے بھی ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
ترقی پذیر ممالک میں افواج کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ملکی دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوج کے لیے مختص ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں فوج کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے کہ وطن عزیز کو اپنے قیام سے لے کر آج تک اندرونی بیرونی سازشوں کا سامنا رہا ہے۔جس کا پاک فوج نے بڑی ہمت اور جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ پاک فوج کا شمار دنیا کی بڑی افواج میں ہوتا ہے۔ پاک فوج جس کا مقصد ارض پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ دُنیا کی سب سے زیادہ جنگیں لڑنے والی فوج پاکستانی فوج ہے۔ دُنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جن کی افواج کا سالانہ بجٹ کھربوں میں ہوتا ہے مگر، جب بات آتی ہے معیار کی تو پاک فوج کا نام سرفہرست آتا ہے۔ا فواج پاکستان کے پاس بعض ایسے اعزازات ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں ہے۔مثال کے طور پر انتہائی مشکل خوفناک جنگی حالات سے دوچار ہونے کے بعد فوجی جوان ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی بنا پر ان میں خودکشی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، بھارت جیسے ملکوں کی افواج میں خودکشی کی شرح ہوش ربا ہے۔ لیکن پاک فوج میں خودکشی کی شرح صفر ہے۔دوسرا بڑا اعزاز پاک فوج کا یہ ہے کہ یہ صرف اپنے وطن کی حفاظت کا فریضہ ہی سرانجام نہیں دیتی بلکہ عالمی امن عمل میں بھی اس کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔عالمی امن میں اس کا دنیا بھر میں تیسرا نمبر ہے۔اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ میڈلز پاکستانی فوج نے جیتے ہیں۔ دُنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے جس کی ایوی ایشن واحد عالمی ملٹری ایوی ایشن ہے جس کے پاس دنیا کے ٹاپ 6 اٹیک ہیلی کاپٹروں میں چار موجود ہیں۔ پاک آرمی کا الخالد ٹینک 11 بہترین بیٹل ٹینکوں میں سے ایک ہے۔ جو پاک آرمی خود تیار کرتی ہے۔ خواتین فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی پاک فوج سرفہرست ہے۔ دہشت گردی کے چیلنج کو پاک فوج نے دس سال سے بھی کم عرصہ میں کچل کے رکھ دیا ہے،وطن عزیز جو کہ گذشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی جیسے ناسور کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے نہ صرف اندرونی طور پر کمزور ہو گیا تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر خصوصا خطے میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کے لیے دشمن ملک بھارت کی ناپاک سازشوں کا بھی مقابلہ کرتا آرہا تھا۔ ملک میں امن کے قیام اور اسے دہشت گردی سے پاک ملک بنانے کیلئے ہمیشہ پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا ،حکمرانوں کی غلط خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی بدولت فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔لیکن پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ان تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت قدمی اور قومی جذبے سے وطن عزیز کی حفاظت میں جو لازوال قربانیاں دیں ان کی بدولت آج پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ممکنہ حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ان دہشت گردی کی کاروائیوں میں پاکستان کے ہزاروں معصوم شہری جان سے گئے اور لاکھوں افراد اس سے متاثر ہوئے۔ ان تین دہائیوں میں آنے والی جمہوری حکومتوں کے سامنے بھی دہشت گردی پر قابو پانا پڑا چیلنج بنارہا۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج نے ویسے تو شروع سے ہی جذبہ حب الوطنی کے تحت کام کیا لیکن سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے۔حالانکہ ضرب عضب کے تحت جاری نیشنل ایکشن پلان پر موجودہ حکومت کی جانب سے عملدرآمد کروانے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ مگر پاک فوج نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے قوم کے سامنے جس عزم کا اظہار کیا تھا انہوں نے اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی دباؤ،رکاوٹ یا مداخلت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عملی اقدامات جاری رکھے۔بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے تمام تر ثبوت سامنے آنے کے باوجود سیاسی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر کوئی دوٹوک مؤقف سامنے لانے میں مصلحت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا۔تاہم پاک فوج نے بھارت کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرکے اس سے وہ تمام راز اگلوالیے جو پاکستان میں دہشت گردی کے بھیانک منصوبے کا حصہ تھے۔کلبھوشن کو فوجی عدالت سے موت کی سزا دینے پر پوری قوم نے فوج کے کردار اور انکے فیصلے کو سراہا ، نئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کی عزم کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ نئے عزم اور ولولے کے ساتھ دوبارہ سر اٹھانے والے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ردالفساد کے نام سے جہاد شروع کیا۔ تو دہشت گردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ، ان کے بچے کھچے ٹھکانے تباہ برباد کردیئے گئے اور ان کے سہولت کاروں کے گرد بھی شکنجہ سخت کردیا گیا ، ایسے نا مساعدہ حالات میں دہشت گردوں کی اکثریت موت کے گھاٹ اتار دی گئی یا ملک سے راہ فرار اختیار کرگئی،راہ فرار اختیار کرنے والی اکثریت نے پڑوسی ملک سے سازشوں کا سلسلہ شروع کیا تو افواج پاکستان نے ان کو وہ سبق سکھایا کہ ان کے مدد گار اب امن اور دوستی کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ کیونکہ پاک فوج نے ہمسایہ ملک میں ان کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیا ہے ، جب وطن عزیز کی معاشی ترقی کا ضامن منصوبہ سی پیک کا اعلان ہوا تو مسلح افواج نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری اور ضمانت کا بیڑا اُٹھالیااور پچھلے چند سال سے یہ منصوبہ فوج کی نگرانی میں تکمیل کے مراحل طے کررہا ہے۔اس سلسلے میں آنے والی اندرونی اور بیرونی مشکلات کو پاک فوج دور کرنے میں برسر پیکار نظر آتی ہے، پاک فوج جہاں ملک کی سرحدو ں کی حفاظت کرتی ہے وہیں اندرونی سازشوں اور خطرات سے بھی نبردآزماہوتی ہے ، مشرقی اور مغربی محاذ پر دشمن کی توپوں کو خاموش کروانا تو معمول ہی بن گیا ہے ، اسی طرح بارشوں اور سیلابوں کی تباہ کاریاں بھی پاک فوج کی مدد کے بغیر قابو بھی ناممکن ہے۔
اگر ملک کی سا لمیت کیلئے پاک فوج کے کردار اور کارناموں کی بات کی جائے تو اس میں بھی پاک فوج کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ قومی سا لمیت کیلئے پاک فوج چار بڑی جنگیں لڑ چکی ہے۔ ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے تباہ کرنے کا اعزاز پاکستانی فوج کے ایم ایم عالم کے پاس ہے۔سطح سمندر سے 12 ہزار فٹ اونچے مقام پر ٹینک کی تعیناتی پاک فوج کا کارنامہ ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاک فوج کے جوان شہید ہوچکے ہیں ملکوں کی آزادی اور خودمختاری قربانیاں مانگتی ہے اس کے لیے آپریشن ضرب عضب اور کومنبگ آپریشن نے ملک کی سالمیت کو تحفظ دیا ہے۔ قبائلی علاقہ جات جہاں ریاستی رٹ ہمیشہ چیلنج بنتی رہتی تھی اب وہاں ایک پرامن پاکستان دکھائی دیتا ہے۔ ضرب عضب کی کامیابی کی صورت میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی،بلوچستان میں دہشت گرد را اور این ڈی ایس کی پشت پناہی سے ملک میں دہشت گردانہ حملے کرتے تھے اور یہ ان کا روز کا معمول تھا اس کیلئے 30 ہزار سیزائد آپریشن کیے جا چکے ہیں بلوچستان میں امن و امان اور ملکی سا لمیت کے تحفظ کیلئے آرمی، ایف سی، اور پولیس کے کئی سو جوان شہید ہو چکے ہیں۔روشنیوں کے شہر کراچی میں جینا ایک خواب بن کے رہ گیا تھا پاک فوج کی مدد سے بدامنی ٹارگٹ کلنگ میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ملکی سلامتی کی بقاء مسلح افواج کی بہادری ،جذبہ حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ قومی یکجہتی اور آئینی اور جمہوری نظام کی مضبوطی میں ہے۔
بلا شبہ پاکستان ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے۔ جس ریاست کے ہمسائے میں بھارت جیسے ہمسائے ہر وقت سازشوں میں مصروف ہوں وہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے نمٹنے کے لیے تمام پالیسیوں کی تشکیل سکیورٹی کے پہلو کو مدنظر رکھ کر کرے گی۔ تجارت، صنعت، ثقافت اور بین الاقوامی تعلقات کے ضمن میں پاکستان کو موقع ہی نہیں مل سکا کہ وہ اپنی استعداد اور صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے۔ تاریخ نے کبھی موقع دیا بھی تو امریکہ جیسے اتحادی نے پھر سکیورٹی کے دائرے میں کھینچ لیا۔ پاکستانی قوم نے آزادی کے بعد آدھے سے زیادہ وقت سکیورٹی تنازعات میں گزار دیا۔ اس سارے وقت میں چند امور بہت واضح طور پر سامنے آئے، پہلی بات یہ کہ جمہوری عمل کو پروان چڑھانے کی خاطر بلدیاتی اداروں سے لے کر پارلیمنٹ تک جتنے تجربات ہوئے وہ فوجی سربراہوں نے کیے۔ 1973ء کا آئین ان تجربات کا حتمی نتیجہ قرار دیا جاتا ہے جس کیلئے منتخب نمائندوں کی خدمات بھی شامل اعتراف ہیں۔ دوسرا یہ کہ پاکستان میں ترقیاتی انفراسٹرکچر کی بنیاد فوج کے ہاتھوں رکھی گئی۔ کسی منصوبے کی منظوری اگر سیاسی قیادت نے دی تو اس کیلئے ماہر افرادی قوت پاک فوج کی کام میں لائی گئی۔ گھوسٹ سکولوں و اساتذہ کی نشاندہی، بجلی چوری کے خلاف آپریشن، انسداد پولیو مہم، سیلاب و زلزلے کے دوران ہنگامی امدادی کارروائیاں، ووٹر لسٹوں کی پڑتال، پولنگ کے دوران حفاظتی ذمہ داریاں اور سب سے اہم کام ملکی سرحدوں پر چوکس رہ کر فرائض کی ادائیگی پر افواج پاکستان سے اظہار تشکر ضروری ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے بنیادی اصلاحات کے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ درآمداتی بل کم ہوا ہے۔ ایک سال کے دوران حکومت نے ساڑھے نو ارب ڈالر کا قرض واپس کیا ہے، پسماندہ علاقوں میں تعمیر و ترقی کا عمل تیز کیا گیا ہے۔ کشمیر پر سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر کے بھارت کیلئے عالمی برادری کے سوالات کا جواب دینے میں مشکل پیدا کر دی گئی ہے۔ افغانستان میں غیر متعلق ہو چکا پاکستان ایک بار پھر فیصلہ سازی میں شریک ہے۔ عرب ممالک ہوں یا غیر عرب مسلم ممالک پاکستان نے ایک سال کے عرصے میں ان سب سے رابطے بڑھا کر اپنی فعال موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو دیوالیہ قرار دلانے کیلئے بھارت کی کوششیں گزشتہ ایک برس کے دوران حکومتی تدابیر کے نتیجے میں ناکام ہوئیں۔ مسلسل بحران اور تنازعات کا سامنا کرنے والے پاکستانیوں کیلئے مہنگائی ایک پریشان کن بات ہے مگر مجموعی صورت حال چونکہ استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اس لیے عوامی سطح پر امید افزا احساسات ہیں۔ اس امید بھری فضا کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ملک پر جب کبھی بحران آیا سیاسی رہنما عوام کو چھوڑ کر بیرون ملک جا بیٹھے ہیں۔ اس صورت حال میں اگرا فواج پاکستان اپنی معاونت و مشاورت کے ذریعے استحکام برقرار رکھنے کا عزم دہراتی ہے تو اسے سراہا جانا چاہئے۔پاک فوج ریاست پاکستان کا وہ ادارہ ہے جس نے دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کرنے کیلئے لہو کے نذرانے پیش کر کے اس قوم کو جلا بخشی اور یہی وجہ ہے پاک فوج کی بے لوث لازوال قربانیاں پوری قوم کا فخر و امتیاز ہیں۔دشمن کے کسی بھی وار کابھر پور جواب دینے کیلئے ملک کی مستعد مسلح فورسز ہمہ وقت الرٹ ہیں پاک فوج کے دہشتگردی کیخلاف ستر ہزار سے زائد جانوں کے نذرانے اس بات کے شاہد ہیں کہ پاکستان کے کسی کونے میں بھی ملک دشمنوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ملک کے قریہ قریہ کا جائزہ لے لیں، لاکھوں والدین کے لخت جگر حب الوطنی کی گرہ سے بندھے پاک فوج کا حصہ بن کر اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں افراد کی قربانیوں، برصغیر کی بڑی ہجرت اور عصمتیں لٹنے کے ہوش رباخونیں واقعات کے بعد بالآخر 14اگست 1947 کے دن قائم ہونے والی پاک سر زمین کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کردیا ہے کہ پاک فوج ہی پاکستان کی سلامتی کی واح ضامن ہے۔
hoonroot90@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے