Voice of Asia News

کرونا وائرس کی ویکسین صرف امیروں کے لیے نہیں ہونی چاہیے‘ گورنر نیویارک

نیویارک( وائس آف ایشیا ) نیویارک کے گورنر اینڈریوکو نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کی کوئی بھی ویکسین کسی فرد کی دولت سے قطع نظر منصفانہ طور پر تقسیم کی جانا چاہیے۔انھوں نے امریکا کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ مسابقت کے لیے لڑے اور ٹویٹر پوسٹوں سے اپنی قیادت (کا جواز) ثابت نہ کرے۔کیومو کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب تھا لیکن انھوں نے ان کا نام نہیں لیا۔وہ خود ڈیمو کریٹ ہیں اور اکثر ری پبلکن صدر پر اس طرح کے تندوتیز وار کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ آپ اس بات سے جانے جاتے ہیں کہ اس وقت آپ کیا کررہے ہیں ناکہ اس سے جانے جاتے ہیں کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔کیومو نے مزید کہاکہ آپ کو مزید اسمارٹ بننا ہوگا،آپ اس طریقے سے اپنے انداز کو ٹویٹ نہیں کررہے ہیں۔صدر ٹرمپ اپنے مخالفین کے ٹویٹر پر خوب لتے لیتے رہتے ہیں لیکن فوری طور پر انھوں نے گورنر نیویارک کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔گورنر کیومو نے کووِڈ-19 کی ایک ویکسین کے آزمائشی تجربے کی خبر منظرعام پرآنے کے ایک روز بعد یہ گفتگو کی ہے۔یہ ویکسین بائیو ٹیک کمپنی ماڈرنا نے تیار کی ہے۔اس کا تجربہ صحت مند رضاکاروں کے ایک چھوٹے گروپ پر کیا گیا ہے اور اس سے ان کے خلیوں میں کرونا سے بچاؤ کی حفاظتی حصار پیدا ہونے کے اشارے ملے ہیں۔انھوں نے منگل کو روزانہ کی بریفنگ میں کہا کہ ویکسین تمام لوگوں کو دستیاب ہونی چاہیے۔اس طرح کی صورت حال نہیں ہونی چاہیے کہ صرف امیر اور مراعات یافتہ طبقات ہی اس کو خرید کرسکیں۔اس کا سبب محض یہ ہو کہ صرف ایک کمپنی کے پاس ہی اس کے حقوق ملکیت ہوں اور وہ ہرکسی کے لیے ویکسین تیار ہی نہ کرسکے۔گورنر نے کہا کہ ریاست نیویارک میموریل ڈے کے موقع پر فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دس تک افراد کے اجتماع کی اجازت دے گی۔میموریل ڈے امریکا کی مسلح افواج میں خدمات انجام دیتے ہوئے جان دینے والے فوجیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا میں نیویارک شہر کرونا وائرس سے اب تک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔یہیں سب سے پہلے یہ وائرس وبائی شکل میں پھیلا تھا اور اس کے بعد ریاستی حکومت نے شہر میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا جو بدستور جاری ہے۔البتہ گورنر نے ریاست کے بعض علاقوں میں صورت حال بہتر ہونے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا
وائس آف ایشیا،20 مئی2020خبر نمبر 5

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے