Voice of Asia News

سیلف ڈیفنس کیلئے لڑکیاں مارشل آرٹس ضرور سیکھیں،سدرہ پروین

لاہور( وائس آف ایشیا ) انٹیگرل وہ وینام فیڈریشن آف پاکستان کی ٹیکنیکل آفیشل سدرہ پروین نے کہا ہے کہسیلف ڈیفنس کیلئے لڑکیاں مارشل آرٹس ضرور سیکھیں، والدین اپنی لڑکیوں میں جرات اور حوصلہ پیدا کرنے جبکہ فزیکل فٹنس بہتر بنانے کیلئے انہیں مارشل آرٹس کی تربیت لازمی دلوائیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے صحت مند ماں کا ہونا بہت ہی ضروری ہے اور اس کیلئے وہ وینام سمیت مارشل آرٹس کے تمام سٹائلزکی ٹریننگ بے حد مفید ہے ۔انٹیگرل وہ وینام فیڈریشن آف پاکستان کی ٹیکنیکل آفیشل سدرہ پروین کا کہنا تھا کہ مارشل آرٹس جسمانی و ذہنی مضبوطی حاصل کرنے کیلئے ایک بہترین نسخہ ہے والدین اگر اپنے بچوں کو معاشرے کا بہترین شہری بنانا چاہتے ہیں تو انہیں انٹیگرل وہ وینام سمیت مارشل آرٹس کے دیگر سٹائلز کو اپنانا ہوگا جو سیلف ڈیفنس کے ساتھ خود اعتمادی اور دوسروں کی عزت کرنے کا ایک عملی نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سپورٹس کلچر کو پروان چڑھاکر نوجوان نسل کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور انہیں فرسٹریشن سے بچا کر ذہنی و جسمانی طور پر مضبوط بناکر معاشرے کا مفید شہری بنانا حکمرانوں سمیت ہماری زندگی کا اہم ترین مشن ہونا چاہئے کیونکہ میں جب کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو ہسپتال ویران ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سپورٹس کلچر پروان چڑھاکر جہاں نوجوان نسل کو کلاشنکوف کلچراورمنشیات کی لعنت سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچایا جا سکتا ہے وہاں کھیلوں کے ذریعے پاکستان کی نوجوان نسل میں ملک سے محبت اور حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دیا جا سکتاہے۔ انٹیگرل وہ وینام فیڈریشن آف پاکستان کی ٹیکنیکل آفیشل سدرہ پروین کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل پاکستان کا روشن مستقبل ہے جس کو ایک منصوبے کے تحت ملک دُشمن طاقتیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے منشیات سمیت دیگر سماجی برائیوں میں مبتلا کرکے تباہ کر رہی ہیں ،پاکستان کے مستقبل کو روشن بنانے کیلئے نوجوان نسل کومنشیات سمیت دیگر سماجی برائیوں سے بچانے کیلئے ’’منشیات سے انکاراور زندگی سے پیار‘‘ جبکہ ’’کھیل برائے امن‘‘ سلوگن کے تحت پاکستان میں انٹیگرل وہ وینام سمیت مختلف کھیلوں کو گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہونے سے ہسپتال ویران ہوتے ہیں وہاں معاشرے سے جرائم کی شرح میں بھی واضح کمی ہوتی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے