Voice of Asia News

بس بھی کرو اب بہت ہو گیا:فرخ ریاض بٹ

اس میں قطعی کو ئی شک نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کو پوری دنیا میں منفرد مقام حاصل ہے امن ہو یا جنگ پوری قوم مسلح افواج کے سنگ ہے ۔ دُنیا میں کہیں بھی امن کا مسئلہ ہو تو پاکستانی مسلح افواج کے دستے وہاں جا کر لوگوں میں امن سلامتی کا پیغام دیتے ہیں اور UNO کے ساتھ ملکر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے ایسا پاکستان میں ممکن کیوں نہیں۔ کیوں پاکستانی عوام پر جبراً ایسا مخصوص مکروہ وزیر اعظم مسلط کر دیا گیاہے کہ جب سے اقتدار میں آیا ہے بس عذاب ہی عذاب ہے ۔اَب اس کے وزراء خود چینی آٹے کی کرپشن میں ملوث ہیں لوٹ کر بلکہ دیمک کی طرح چاٹ کر کھا رہے ہیں اور اُوپر والے تماشہ جو لگا ہے دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور اس کے وفاقی وزراء ، پنجاب حکومت ، کے پی کے بلوچستان والوں نے زبردستی کرونا کی بد نما شکل میں عذاب الٰہی عوام پر مسلط کر رکھا ہے ،ڈاکٹروں کی مخصوص ٹیم بھی حکومت کے ہمراہ ہے۔ عالمی سطح پر ایک ٹارگٹ دیا ہوا ہے کہ اگر پاکستان میں کرونا شرونا سے اتنے فیصد لوگ مریں گے تو سود معاف ہو گا ورنہ نہیں ایک طرف عمران خان خود کہہ چکے ہیں کہ دھوپ پڑے گی کرونا غائب ہو جائے گا پھر چند دنوں بعد کہتے ہیں ابھی بہت کچھ ہونے والا ہے قوم تیار رہے میں بھارت کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کرونگا اور کر بھی دیا بلکہ مزید کر رہے ہیں آجکل رمضان مبارک ہے غریب کے کمائی کے دن بھی گئے 12000 ہزار روپے چند مخصوص افراد کو دے کر حکومت خود مطمئن ہو گئی لیکن غریب غریب تر اور امیر طبقہ مزید مضبوط ہو گیا۔ امریکہ میں سائنسدانوں نے کامیا ب تجربے کیے دھوپ نکلے گی اور دو گھنٹوں کی دھوپ میں کرونا، ورونا، شرونا سب غائب ہو جائیں گے۔ ابھی پچھلے دنوں امریکی سائنسدانوں کی رپورٹ مقامی اخبارات میں شائع ہوئی اب گورنر سندھ کہہ رہا ہے مجھے یہ ہو گیا وہ ہو گیا پھر کہتے ہیں بھائی کچھ بھی نہیں ہوا۔
عمران حکومت کی از حد کوشش ہے جتنا ہو سکے پاکستانی قوم میں ڈر خوف پیدا کیا جائے اور جو اموات طبی ہو رہی ہیں انہیں بھی کرونا میں ڈالا جا رہا ہے اﷲ رسولﷺ آل رسولﷺ سب بھول گئے ہیں۔ مساجد بند ،خانہ کعبہ بند ، مدینہ شریف بند، پاکستان بھر میں مزارات بند ، دینی آزادی سے عبادات پر مکمل پابندی۔ در حقیقت پاکستان میں امریکی، یہودی اورمرزائی لابی سر گرم اور کامیاب ہے جو کچھ ہو رہا ہے ایک موذی وباء کو جبراً مسلط کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔
خوف و ہراس اس قدر پھیلا دیا گیا ہے کہ ہر کوئی نفسیاتی مریض بن کے رہ گیا ہے ۔اب پاکستان ریلوے جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اسے ہفتہ بھر میں پانچ ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ذمہ دار موجودہ حکمرانوں کی نااہلی و غفلت شامل ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد صاحب ایک ایماندار اور مخلص انسان دوست ہیں اب شیخ صاحب کو چاہیے کہ بس بھی کریں اب بہت ہو گیا ۔ منافع میں چلنے والی گاڑیاں جن میں خیبر میل، عوام ایکسپریس، جعفر ایکسپریس، اکبر ایکسپریس، گرین لائن، تیزگام، علامہ اقبال ایکسپریس، قراقرام ایکسپریس، کراچی ایکسپریس ،لاہوراور راولپنڈی کے درمیان سبک قرام، سبک رفتار کو چلاکر ایک اچھا اقدام کیا ہے۔گزارش ہے کہ ریلوے اسٹیشنوں پر آنے جانے والے مسافروں میں ماسک اور سینیٹائزرز وغیرہ حکومت کی جانب سے تقسیم کریں اور تمام اسٹیشنوں پر مخصوص سپرے کا بندوبست بھی کریں اﷲ رسولﷺ آلِ رسولﷺ کانام لیں اور باقی تمام ٹرینیں بھی چلا دیں۔سمجھ سے باہر ہے کہ اب ہر کام پاک مسلح افواج نے کرنا ہے یعنی FWO جانا پہچانا ادارہ ہے اور شمالی علاقہ جات میں تمام اہم ترین سڑکیں ، پُل اور شاہرائے قراقرم بھی ہماری مسلح افواج FWOنے تعمیر کئے ، اسلام آباد سے مری روڈ FWO نے بنائے۔ سیلاب، زلزلہ اور کوئی قدرتی آفت ہو خیر سگالی کا موقع ہو تو ہر کام ہماری مسلح افواج نے ہی کرنے ہیں تو پھر یہ نام نہاد جمہوریت کے علمبردار کس کام کے؟
میری رائے میں ہماری بہادر مسلح افواج کو چاہیے تھا کہ عمران خان یا کسی اور کو حکومت سونپنے کی بجائے اگر دو تین سالوں کے لئے خود آ جاتے تو یقیناً آج صورت حال مختلف ہوتی آج کرونا ،ورونا ،ڈرونا سب غائب ہوتے اور یقیناً میرا خواب ہے کہ کے پی کے میں درگئی سیکشن بحال ہو جاتا پشاور سے لنڈی کوتل ریل سروس شروع ہو جاتی ، کوئٹہ ڈویژن ہر نائی سیکشن ریل سروس بحال ہو جاتی ملک دیگر علاقوں میں نارووال سے شکر گڑھ، چک امرو تک ریل سروس بحال ہو جاتی۔کوہاٹ ٹل سیکشن میں ٹرین بحال ہو جاتی اور حویلیاں سے ایبٹ آباد تک ہماری مسلح افواج یعنی FWO جو ٹریک چھ میل کا ہے اسے مکمل کر کے پاکستان کی سیاحت کی تاریخ میں نئے دور نئے باب کا اضافہ کرتی اور یہاں باقاعدہ ریل سروس بحال کرتی یہ سب کا م میرا ایمان ہے FWO ضرور کر سکتی ہے اور انشاء اﷲ تعالیٰ ضرور کرے گی۔آمین ثم آمین
اب پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشیداحمد صاحب کو چاہیے کہ وہ باقی تمام ٹرینیں بھی بحال کردیں اور Bright Future Programme بھی شروع کریں یعنی حویلیاں سے اَیبٹ آباد ریلوے لائن بچھانا، نوشہرہ سیدرگء سیکشن کی تعمیر و مرمت کا کام اور پشاور کینٹ سے لنڈی کوتل، کوئٹہ ہر نائی سیکشن اور نارووال سے شکر گڑھ، چک اَمرو تک ریلوے لائن کی تعمیر و مرمت کا مکمل ٹھیکہ FWO کو جلد از جلد سونپ دیں پھر دکھیں انشااﷲ تعالیٰ اسی سال کے آخر تک ان تمام علاقوں میں سیروسیاحت کے علاوہ مال گاڑیاں بھی دوڑتی نظر آئیں گیں اور Old Americans Locomotives جن میں 3837، 3832 کا ر نما تاریخی انجن بچائیں یہ صرف مسلح افواج ہی کر سکتی ہے باقی جو ہیں ان کی نیت اﷲ جانے۔آخر میں مجھے عمران خان اور ان کی مکمل وفاقی کابینہ سے التجا ہے بھئی بس بھی کرو اب بہت ہو گیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے