Voice of Asia News

یمنی بچے کا ‘چشمہ’ 10 ہزار ڈالر میں نیلام

صنعاء (وائس آف ایشیا )من کے ایک پناہ گزین کیمپ کے بچے نے دھاتی ہینگر سے چشمے بنائے ہیں تاکہ انہیں فروخت کر کے عید پر اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے خرید سکے۔یمنی پناہ گزین کیمپ کے بچے کے اس اقدام نے نہ صرف یمنی میڈیا بلکہ بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے گروپوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیا۔عرب نیوز کے مطابق جب یمنی صحافی عبداﷲ الجاردی کو اس بچے کی تخلیقی صلاحیت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں اس بچے کے چشمے فروخت کرنے کے لیے ایک آن لائن نیلامی کا انتظام کیا۔سوشل میڈیا پر یمنی صحافی کی کاوشوں کو بین الاقوامی خیراتی اداروں نے بھی سراہا۔یمن میں سعودی پروجیکٹ فار لینڈ مائن کلیرنس (ماسم) کے ڈائریکٹر اسامہ ال گوسیبی نے چشموں کی کامیاب بولی لگائی۔ اسامہ ال گوسیبی نے کہا کہ چشموں کی نیلامی سے 10 ہزار امریکی ڈالرز حاصل ہوئے ہیں۔ اس رقم سے نہ صرف چشمہ بنانے والے بچے کے لیے کپڑے خریدے جائیں گے بلکہ پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے دیگر بچوں کو بھی کپڑے دیے جائیں گے۔
وائس آف ایشیا،23 مئی2020خبر نمبر 40

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے