Voice of Asia News

طیارہ حادثہ میں کوئی کوتاہی ثابت ہوئی تو مستعفی ہوجاؤنگا ، غلام سرور خان

کراچی( وائس آف ایشیا ) وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے پرواز 8303 حادثہ میں کوتاہی ثابت ہوئی تو ضرور مستعفی ہوجاؤنگا، پائلٹ نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ جانی نقصان کم سے کم ہو، حادثے کی مکمل انکوائری ہوگی، حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ حقائق جلد از جلد قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جائیں،انکوائری رپورٹ میں وزیر یا چیف ایگزیکٹیو کی کوتاہی سامنے آئی تو خود کو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور پی آئی اے کے سی ای او کے ہمراہ کراچی میں طیارہ حادثہ کے مقام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔غلام سرور خان نے کہا کہ پائلٹ نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ جانی نقصان کم سے کم ہو، اس نے رن وے پر جانے کی پوری کوشش کی لیکن جب دیکھا کہ وہاں تک پہنچنا محال ہے تو تنگ گلی میں اور کم آبادی والی جگہ میں اتارا، واقعے میں متاثر ہونے والے گھروں اور گاڑیوں کی مرمت کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی اور شہریوں کا مالی نقصان پورا کرے گی۔ وزیر ہوابازی نے کہا کہ حادثے کی مکمل انکوائری ہوگی، حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ حقائق جلد از جلد قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جائیں، انکوائری کمیٹی کم از کم وقت میں تحقیقاتی مکمل کرے گی، اگر کوئی ہوا بازی کا ماہر ہے تو وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اپنی رائے دیں لیکن میڈیا میں قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے مکمل غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات میں وزیر یا پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ائرمارشل ارشد محمود ملک کی غیر ذمہ داری اور کوتاہی ثابت ہوئی تو نہ صرف استعفی دیں گے بلکہ خود کو احتساب کے لیے بھی پیش کریں گے کہ ہمارے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگوں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا، لوگوں کو بچانے اور لاشوں کو نکالنے کے علاوہ آگ کوبجھانے کی کوشش کی گئی وہ منظر دیدنی تھا، اس میں رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیدار بھی تھے لیکن کراچی کے شہریوں کا جذبہ قابل دید تھا جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں’۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘دو افراد کے علاوہ جہاز کے عملے کی بھی شہادتیں ہیں انہوں نے کہا کہ ‘ہم ابھی دیکھ کر آئے ہیں کافی مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ وہاں کے باسیوں کی کافی گاڑیوں بھی نقصان پہنچا ہے، ابتدائی جائزے کا حکم دیا گیا اور دیکھا جائے گا کہ ہر گھر کی مرمت اور بحالی پر جتنا خرچہ ہوگا وہ حکومت وقت بردشت کرے گی’۔غلام سرور خان نے کہا کہ ‘انکوائری کمیٹی کم سے کم وقت میں تحقیقات مکمل کرے، جو کوئی ماہرانہ رائے رکھتا ہے یا معلومات ہیں اس کو کمیٹی سے تعاون کرنا چاہیے اور اپنے رائے دے لیکن میڈیا پر آکر رائے دینے سے کنفیوڑن پیدا ہوگی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری اولین ذمہ داری لاشوں کی ڈی این اے کے بعد ان کے لواحقین کو دی جائیں، اس کے بعد ان خاندانوں کو معاوضہ دینا، تیسری ترجیح جن لوگوں کے مکانات، گاڑیوں اورجائیداد کو نقصان ہوا ہے ان کو بھی معاوضہ دینا ہے جو ہماری ذمہ داری ہے’۔ ‘یہ انسانیت کا معاملہ ہے کوئی جانب داری نہیں ہوگی’ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک محکمہ جاتی انکوائری ہوگی جبکہ حکومت نے انکوائری بورڈ کو پہلے مقرر کردیا ہے، جس میں پی آئی اے کے نہیں پاک فضائیہ کے سینئر اور کوالیفائیڈ ذمہ داران موجود ہیں، وہ آزادانہ انکوائری کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ان کے ساتھ ایئربس بنانے والی فرانسیسی حکومت کی کمپنی بھی کررہی ہے، جس میں جرمن اور فرنچ بھی ہیں اور ان کے ماہرین بھی آئیں گے’۔خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے جو ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
وائس آف ایشیا،23 مئی2020خبر نمبر 94

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے