Voice of Asia News

معاشرے میں ہر فرد کی ذمہ داریاں،تحریر: آغا سید حیدر شاہ

معاشرہ، افراد کے ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جو باہمی طور پر یکساں زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنی ضرورت زندگی کو پورا کرنے اور زندگی کے مختلف امور کی انجام دہی میں ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں اوریہ لازمی نہیں کہ ان کا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔امن، سکون، اعتماد کی فضا، انصاف کا یقین، سچائی کا بول بالا اور محفوظ ہونے کا احساس۔ یہ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی انسانی معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ اور اس کے حسن کو بامِ عروج تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت اور وقار میں بھی ایک غیر متناہی اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وہ عناصر بھی ہیں جو کسی بھی معاشرے کے افراد پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ وہ بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے معاصرین کو دور کہیں بے آب و گیاہ صحرا میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے اور پگڑیاں اُچھالتے ہوئے چھوڑ آتے ہیں۔ اس کے بالمقابل جو معاشرے بھی ان صفات یا ان میں سے کچھ سے عاری ہو جاتے ہیں۔ وہ دنیا اور آخرت میں اپنی عزت تو گنواتے ہی ہیں ان کے افراد کا اخلاقی اور علمی ارتقاء بھی رک جاتا ہے۔ اور جس معاشرے کا علمی اور اخلاقی ارتقاء رک جائے، وہ اپنی اہمیت تو کھوتا ہی ہے مادی ناکامیاں بھی اس کا مقدر ہو جایا کرتی ہے۔ آپ کسی بھی ترقی یافتہ قوم کے حال اور ماضی کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، اس کی ترقی اور عروج کے بنیادی محرکات میں آپ کو یہی عناصر کارفرما نظر آئیں گے۔ اور بشمول پاکستان کسی بھی غیر ترقی یافتہ قوم میں آپ کو ان عناصر کا انتہا کا فقدان دیکھنے کو ملے گا جو ترقی اور انصاف کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
معاشرے کے ماحول اور فضا کو خوب صورت اور باہمی محبت اور رواداری سے بہترین بنانے میں ہر فرد بنیادی کردار ادا کرتا ہے اگر معاشرے کے افراد کے مابین ایک دوسرے کیلئے عزت و احترام، دُکھ سکھ بانٹنے اور مصیبت میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ بیدار رہے تو معاشرے کی خوب صورت تصویر اُبھرکر سامنے آتی ہے۔قرآن بھی ہر فرد سے اسی اخلاقی کردار کے مظاہرے کا تقاضا کرتا ہے جس کے مطابق سب انسان ایک دوسرے کو نیک عمل کی تلقین کرتے رہیں اور صبر و حکمت سے حالات کو بدلنے کی کوشش کریں۔ انسان کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے ہر دور میں انبیائے کرام بھیجے جاتے رہے۔اﷲ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ؐ نے حسن اخلاق کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا ، ’’میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کیلئے اﷲ کی جانب سے بھیجا گیا ہوں‘‘۔ افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔ اخلاقی، سماجی اور ذہنی پس ماندگی کا اندازہ لگانے کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ جس ملک میں سبیل کی ٹینکی کے ساتھ رکھے گلاس کو زنجیر سے باندھنا پڑے، یہی لوگوں کی سوچ اور رویے کا عکاس ہے۔ ہمارے معاشرے میں تشدد اور عدم رواداری بڑھتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم خود ماحول کو خراب کر رہے ہیں، گندی پھیلا رہے ہیں، درختوں کو کاٹ رہے ہیں، ایک دوسرے کی عزت نفس مجروح کر رہے ہیں۔افسوس! ہم انتہائی تنگ نظر بن گئے ہیں۔ ہم غلط چیزوں یا عمل کی اصلاح کرنے کے بہ جائے زبانی جمع خرچ کر لیتے ہیں۔ ہمارا اصلاح کا درس اپنے گھر سے شروع نہیں ہوتا، بل کہ ہم ہمیشہ دوسروں کی تاک میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ معاشرے کی حالت زار پر صرف رسماً کْڑھتے اور عمل میں صفر ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں کیوں کہ باقی لوگ بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہم بے ایمانی کرتے ہیں کیوں کہ ایمان دار کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں ہے۔ ہم ناجائز طریقوں سے پیسہ اس لیے کما رہے ہیں کیوں کہ معاشرے میں صرف پیسے والے کی عزت ہے۔ ہر برائی کا جواز تلاش کرنا ہماری زندگی کا غالب حصہ ہے۔ ہم برائی کو بھی فیشن سمجھتے ہوئے اس لیے اپناتے ہیں کہ معاشرے کے بیشتر لوگ یہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ہم تعلیم شعور حاصل کرنے کیلئے نہیں بل کہ پیسہ کمانے کیلئے حاصل کرتے ہیں۔
معاشرہ اکائی سے بنتا ہے،ہر شخص معاشرے کا حصہ ہے، ہم خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہر برائی اور خرابی دوسروں میں ہے۔ اس منفی سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسروں میں خرابیاں اور برائیاں دیکھنے لگتا ہے۔ ہم اپنی ذمے داریوں سے صرف نظر اور اپنی برائیوں کا جواز پیدا کرتے ہیں۔ عام فرد نے دیکھا کہ حکمران اور مقتدر طبقہ کرپشن میں ملوث ہیں تو انہیں بھی جہاں موقع ملا بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے۔ جنہیں کہیں انصاف نہیں ملتا، وہ دوسروں پر ظلم کرنے سے پیچھے نہیں رہتے۔ تیز رفتار گاڑی چلا کر لوگوں کو مار ڈالنے والے ڈرائیورز، کھلے عام رشوت لینے والا اہل کار، بدعنوان سرکاری افسران، بددیانت تاجر، ان جیسے بے شمار لوگ اپنے دائرہ اختیار میں سب سے بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ہم سب ذاتی مفادات پر مبنی زندگی گزارتے ہیں۔ ہمارے سامنے کوئی بڑا اجتماعی مقصد نہیں ہے۔ دوسری اقوام حب الوطنی کے جذبے سے، یک جہتی اور انفرادی و اجتماعی شناخت کے بھرپور احساس سے اپنی بقاء و تحفظ اور فروغ کیلئے قربانی دیتی ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے لیے ایک نظریہ حیات تخلیق کیا ہے، جو اسلام کی صورت میں ہمیں پہلے سے حاصل تھا۔ ایسے میں ضروری تھا کہ نعروں کے بجائے، تعلیم کے ذریعے اسلامی تصورات کو ذہنوں میں زندہ کیا جاتا۔ معاشرے میں اسلام کے فروغ کو ہدف بنایا جاتا۔ اسلام اور شریعت کی درست تصویر سامنے لائی جاتی۔ افسوس! ہم خود کو دائرہ اسلام کا مکیں بتاتے ہیں، مگر عملی طور ہمارا ہر دائرہ صوبائی سرحدوں اور لسانیت تک محدود ہے۔ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر اصرار ہے مگر اس کے ساتھ اپنی فرقہ وارانہ شناخت پر بھی فخر ہے۔اصل بات یہ ہے ہم بہ حیثیت مسلمان اپنے مقصد اور نصب العین کو بھلا چکے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ایک قوم بننے کی واحد امید اسلام ہے، کیوں کہ یہی وہ واحد پہلو ہے جو ہمیں متحد کرسکتا ہے۔ دین کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کیے بغیر اﷲ کو راضی نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنے اخلاق و کردار کو بہترین بنانے کی بھرپور سعی نہیں کرتے اور دوسروں تک حق بات پہنچانے میں دل چسپی رکھتے ہے۔ ہمیں دوسروں کو ان کے فرائض یاد دلانے کے ساتھ اپنی ذمے داریاں بھی یاد رکھنا چاہیں۔
دین کا ظاہری ڈھانچا بھی فکری اور عملی سطح پر انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارنے میں مددگار ہوتا ہے۔ جیسے کہ خدا کو معبود اور سب سے بڑا ماننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچیں گے سب انسان برابر ہیں۔ اچھے عمل کے سوا کسی کو فضیلت نہیں۔ نماز، بْرائیوں سے روکتی ہے۔ روزہ، خدا کی نعمتوں کی قدر و قیمت کا احساس دلاتا اور حدود کی پابندی کی تربیت دیتا ہے۔ زکوۃاﷲ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ مال و دُنیا سے بے رغبتی اور فقراء کی مدد کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ حج اور عمرہ ناصرف اﷲ کے نزدیک لاتا ہے بلکہ ایک معاشرے میں رہتے ہوئے دیگر افراد کے ساتھ رواداری اور اچھا سلوک کرنے کا درس بھی دیتا ہے۔ہم لوگ کثرت سے اپنے معاشرے کے اخلاقی بگاڑ پر گفتگو کرتے اور اپنی فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ ہم بھی اس قوم اور معاشرے کے فرد ہیں۔ اس صورت حال میں صرف افسوس کرکے ہم اپنی جان نہیں چھڑا سکتے۔ یہ ہماری مذہبی، قومی، اخلاقی ذمے داری ہے کہ اپنی حد تک غلط رویوں کے خلاف جدوجہد کریں۔ اپنی ذمے داری پوری کریں۔ جو لوگ اپنی قوم اور معاشرے کو بھول کر اپنی ذات تک محدود ہوجاتے ہیں، صرف باتوں اور تبصروں پر گزارا کرتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے وہ خسارے میں رہتے ہیں۔ آج ہم بھی اسی خسارے کا شکار ہیں۔ ہمارے معاشرے، خاندان اور قومی اداروں میں اس خسارے کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ معاشرہ کس تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔ اگر اب بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو ہم اپنی شناخت کھو دیں گے اور یہ بدترین خسارہ ہوگا۔
معاشرے میں جب افراد زندگی گزارنے لگے تو قدرتی تقسیم کے مطابق خاندانوں، ذاتوں، برادریوں اور قبیلوں میں بٹ کر زندگی گزارنے لگے۔ یہ ایک قدرتی اور فطرتی تقسیم ہے لیکن انسان سے یہاں ایک غلطی ہو گئی، وہ اس تقسیم کو باہمی تعارف کے بجائے عزت و ذلت کا معیار سمجھنے لگا جبکہ اﷲ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔ اسلام نے عزت و ذلت کا معیار خاندانی تعلق نہیں بنایا بلکہ ہر فرد کے ذاتی اخلاق اور اچھے اعمال کو عزت کا معیار بنایا اور ہر فرد پر تقویٰ اختیار کرنا فرض قرار دیا۔پھر یہ افراد معاشرتی زندگی میں مختلف معاملات انجام دیتے ہیں ان میں عدل و انصاف کو فرض قرار دیا،گھریلو زندگی میں عدل کا حکم دیا، یتیموں کے ساتھ عدل کا حکم دیا،ناپ تول میں انصاف کا حکم دیا، لین دین میں‘ عدالتی امور میں، دستاویزات لکھنے میں، گواہی دینے میں، فیصلہ کرنے میں حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی انصاف کرنے کا حکم دیا گیا۔ قرآن پاک میں غیر مسلموں سے بھی انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ غیر مسلم جو مسلمانوں کے ملک میں رہتے ہوں اور اس مسلمان ملک کے قوانین پر عمل کرتے ہوں انہیں اقلیت کہا جاتا ہے اسلام نے معاشرے کے ہر فرد پر ان اقلیتوں کے مال ان کی جان ان کی عزت و آبرو کی حفاظت فرض قرار دی ہے۔ ایک اسلامی معاشرہ میں ہر فرد کو رواداری کا مظاہرہ کرنے کا پابند کیا گیا ہے اسی چیز سے کسی معاشرہ میں باہمی احترام پیدا ہوتا ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باہمی شفقت، محبت اور مہربانی میں تم ایمان والوں کو ایک جسم کی طرح پاؤ گے‘ اگر جسم کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر ایک گھر میں ایک خاندان میں ایک شہر میں کسی فرد کو تکلیف پہنچے باقی افراد اس تکلیف اور دْکھ کو محسوس کر کے ہمدردی اور بھائی چارے کے جذبات کے ساتھ اس مصیبت اور دکھ کو دور کرنے کا فریضہ انجام دیں تو یہی معاشرہ فلاحی معاشرہ بن جائے گا۔بسا اوقات معاشرہ کے افراد میں ایک دوسرے سے دوری اور فاصلہ بڑھ جاتا ہے جب وہ افراد سادگی کا فرض ادا کرنے کی بجائے نام اونچا کرنے اور نمائش کرنے میں مبتلا ہو جائیں اس لیے کہ نمائش کرنے والا اپنے کو برتر اور دوسرے کو حقیر سمجھے گا اور جس کو حقیر سمجھا گیا وہ اپنے آپ کو بے بسی اور دوسرے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا اس طرح معاشرہ کے افراد کے دلوں میں دوریاں پیدا ہوں گی۔ اس لیے اسلام نے معاشرتی زندگی میں فضول خرچی سے منع کیا‘ نمائش کو ممنوع قرار دیا اور سادگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ظاہری اور باطنی پاکیزگی بھی ہر فرد پر فرض قرار دی ہر فرد اپنے اندر سے حسد، بغض، کینہ،نفرت، جھوٹ، منافقت نکال دے اور محبت‘ سچائی اور ہمدردی کے ذریعہ پاکیزہ بنے، اسی طرح ظاہری طہارت اور پاکیزگی کو بھی فرض قرار دیا۔ اپنے جسم کو پاک رکھے اپنے کپڑوں کو پاکیزہ رکھے جہاں رہتا ہو، صاف ستھرا ہو، جہاں سے گزرتا ہو اس کی صفائی کا خیال رکھتا ہو۔ رسول اکرم ؐ نے توراستے سے گندگی اور تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا۔اس لیے ایک مسلمان فرد کی یہ ذمہ داری بھی ہو گی کہ وہ اپنے اردگرد یعنی اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھے۔ مشینی سواری چلا رہا ہے تو دوسرے افراد کو دھوئیں سے بچا ئے۔ یہ فرد فیکٹری چلا رہا ہے تو اپنے معاشرے کے باقی افراد کو زہریلے دھوئیں سے بچائے اور فیکٹری سے نکلنے والے زائد کیمیکلز کو محفوظ طریقے سے ضائع کرے تاکہ باقی افراد کو اس کے ذریعہ کسی قسم کا نقصان نہ پہنچنے پائے اس لیے کہ مسلمان کی شان ہی یہی ہے۔دین اسلام نے ہر فرد کو مکمل آداب و اطوار کے ساتھ زندگی گزارنے کا پابند کیا ہے کھانے پینے، اُٹھنے، بیٹھنے، سونے جاگنے، چلنے پھرنے غرض زندگی کے ہر مرحلے کے لیے آداب سکھائے، اس لیے اسلامی معاشرہ ایک منظم معاشرہ ہوتا ہے۔ اس کے ہر فرد کا عمل تعمیری ہوتا ہے اسلام نے کسی فرد کو وقت کے کسی لمحہ کو ضائع کرنے سے منع کیا اور واضح کر دیا کہ آخرت میں وقت کے بارے میں باقاعدہ پوچھا جائے گا کہ تم نے وقت کہاں کہاں صرف کیا پھر جب یہ فرد بے کار کاموں سے بچے گا تو یہ اس کی خوبی ہو گی۔جب سے انسان نے شعور حاصل کیا ہے انسانی معاشرہ میں اچھائی اور برائی کی قوتوں میں، علم اور جہالت میں، ترقی اور انحطاط میں، انصاف اور جبر میں، اجتماعی بھلائی اور اجارہ داری کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے اور آج بھی دُنیا بھر میں یہ کشمکش دکھائی دیتی ہے۔تاریخ انسانی میں سب سے پہلے حضور نبی اکرم ؐنے اﷲ تعالیٰ کی رہنمائی میں اسلام کے نام سے ایک ایسے عالمی انقلاب کا آغاز کیا جو انسانی سرگرمی کے ہر میدان میں ترقی کا علمبردار تھا۔ آپ ؐنے انقلاب کے ابدی اصول وضع کئے۔ بعد میں بپا ہونے والی انقلابی تحریکوں نے، جنہوں نے بنی نوع انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دی ہے، ہمیشہ انہی اصولوں کی پیروی کی ہے۔ دور جدید کی سماجی، معاشی، سیاسی، ثقافتی اور روحانی ترقیات میں جس قدر بھلائی ہمیں نظر آتی ہے وہ حضورؐ کی تعلیمات کا عکس ہے۔ اس لئے بنی نوع انسان کی بنیادی اہمیت کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی طاقتوں کو روکنا اور حضور نبی اکرم ؐکے مرتب کردہ اصولوں کے مطابق اپنے زمانہ کی انقلابی قوتوں کے ساتھ بھرپور تعاون کے ساتھ ایک ترقی یافتہ اور فلاحی معاشرہ قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
معاشرہ بہترین انسانوں سے ہی تشکیل پاتا ہے اورہر قوم کی قوت اخلاق و کردار ہوا کرتی ہیں اور اس کی عظمت و سر بلندی کی تاریخ اسی سے رقم ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اخلاق پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: میں اخلاق کی تکمیل کے لئے خدا کی جانب سے دنیا میں بھیجا گیا ہوں مگر افسوس کہ مسلمان رفتہ رفتہ اپنی تہذیب وثقافت بھول گئے اور مذہب سے دوری کے ساتھ ساتھ بے راہ روی کا شکار ہوگئے اور اسلام کی دعوت و تربیت کو فراموش کرگئے۔ جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے شرمی و بے حیائی ,جھوٹ و چغلخوری, فریب, غرور و تکبر سرایت کر گئے اور اس طرح دنیا کو تہذیب و تمدن کا درس دینے والی قوم خود غیر مہذب ہو کر رہ گئی۔ دوسری قوموں کو اپنے عمدہ اخلاق و کردار اور حسن سلوک سے زیر کرنے والی قوم آج خود ان اوصاف سے عاری ہو کر رہ گئی ہے۔ اسلام دینی احکامات کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار سازی، مساوات و بھائی چارگی، امانتداری و رواداری کا درس دیتا ہے۔ بد دیانتی اور رشوت خوری سے روکتا ہے تا کہ عزت و شرف کا تاج ان کے سر پر برقرار رہے۔ کسب حلال، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک اور حق گوئی کی تلقین کی گئی۔ دین کا جزء ہونے کی وجہ سے ہی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ سلم نے پڑوسیوں کی حق تلفی کرنے والے کے ایمان کی نفی کی ہے۔لہٰذا مسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور انہیں خود فیصلہ کرنا پڑے گا کہ نماز کی پابندی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ بد سلوکی، حج بیت اﷲ کی سعادت و ادائیگی کے ساتھ سود و رشوت،پڑوسیوں یا دیگر حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی، زبان پر تسبیح پروردگار سے زیادہ گالم گلوج اور غیبت؟ کیا یہ ایمان کی علامت ہے۔ اسلام میں غیبت سے منع کیا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔اس قدر سخت تاکید کے باوجود مسلمانوں میں یہ برائی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جھوٹ تو اس طرح بولتے ہیں جیسے ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ جب کہ اسلام میں جھوٹ کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ وعدہ خلافی مسلمانوں کے یہاں کوئی عیب نہیں جب کہ پیغمبر اسلام ؐنے وعدہ خلافی کو منافقوں کی پہچان میں سے ایک قرار دیا ہے۔ آج مسلم معاشرے میں متعدد اخلاقی کمزوریوں کے ساتھ بے شمار برائیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ خیانت، بد دیانتی، بے راہ روی اور کمزوروں پر ظلم و زیادتی جیسی برائیاں عام ہو گئی ہیں۔ مسلمانوں میں ایثار و قربانی، ہمدردی اور خدمت خلق کا جذبہ باقی نہیں رہا۔ معاشرے میں جھوٹ، دشنام طرازی، غیبت و بے حیائی اور سود خوری کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ جس کی وجہ سے قوم کی حالت تباہ اور عزت ذلت و رسوائی میں تبدیل ہو گئی۔ دین کا نام رہ گیا اور بے جا رسم و رواج نے لوگوں کو اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج نئی نسل بے راہ روی اور تعلیم سے دور نشہ کی عادی اور تہذیب و تمدن سے عاری ہوگئی۔ یہی وہ برائیاں ہیں جس نے قوم کو سماجی، معاشرتی ، اقتصادی اعتبار سے انتہائی کمزور کردیا۔
قرآن و سنت میں موجود اسلام کے اصول وہ حقیقی بنیادیں ہیں جن پر انسانی معاشرے کی صحیح تعمیر کی جاسکتی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی حقیقی ترقی ہوئی ہے وہ اسلامی اصولوں کی اساس پر ہی ہوئی ہے۔ ہم اپنی زندگی کے معمولات میں قوانین فطرت سے انحراف نہیں کرسکتے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمیں ان قوانین کو دریافت کرنا اور صحیح طور پر ان کی پیروی کرنا ہوگی۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن و سنت میں متعین کئے گئے اصولوں کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ ہم زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں اور پھر ان میں موازنہ وتطبیق کرکے اپنی سماجی بقا ء کیلئے مستقبل کا راستہ طے کریں۔انسان ہونے کے ناطے اور خصوصاً مسلمان ہونے کی حیثیت سے، ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم انسانی معاشرے کو اس انداز میں تعمیر کریں کہ انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ ہو اور تمام بنی نوع انسان کو قدرت کی طرف سے ودیعت شدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر قوانین فطرت کے متعین کردہ خطوط پر پروان چڑھانے اور امن و فراوانی میں زندگی بسر کرنے کا موقع ملے۔ اﷲ اور اس کے پیغمبروں نے جتنی بھی ہدایات دی ہیں وہ انسان کو اس بنیادی اور اہم ترین فریضہ کی ادائیگی کے قابل بنانے کیلئے ہیں۔زندگی حقیقت کو منکشف کرنے، قوانین فطرت کو جاننے اور ایسے باشعور افراد پر مشتمل معاون معاشرہ تعمیر کرنے کا عمل ہے جو ان قوانین کے صحیح ادراک کی بنیاد پر اصول اخلاق پر مبنی اعلیٰ اخلاقی شعور کو نشوونما دے۔ ایسی باشعور زندگی کے سامنے فوری کام ناانصافی، برائی اور مصائب کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے دور کرنا ہے۔اس اعلیٰ اخلاقی شعور کی نشوونما اورمضبوطی کا سب سے اہم ذریعہ علم ہے۔ اخلاقی شعور کا آغاز علم سے ہوتا ہے۔ علم اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے جو اخلاقیات کی اساس ہے، یہ قوت فیصلہ پیدا کرتا اور عزائم کو مضبوط بناتا ہے، یہ ترقی کے حقیقی مواقع کو واضح کرتا ہے اور فرضی امکانات کو رد کرتا ہے۔ یہ خیال پرستی پر مبنی جھوٹی آرزوؤں کی نفی کرتا اور زیادہ حقیقت پسندانہ مناظر سامنے لاتا ہے۔صحیح منزل متعین نہ ہو تو ایک فرد اعلیٰ ترین اصول اور بہترین ارادے رکھنے کے باوجود مشکل حالات میں نیک کرداری کے ساتھ اور مہذب انداز میں عمل کرنے کے قابل نہ ہوگا۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ صحیح نصب العین کا انتخاب کیا جائے اور اسے حاصل کرنے کیلئے حقیقی ذرائع تلاش کئے جائیں۔ علم ہی نصب العین کی حقیقت کو واضح کرتا اور انہیں حاصل کرنے کے صحیح ذرائع تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ایک آدمی کی نیک سیرتی اسی وقت حقیقت کی شکل اختیار کرسکتی ہے جبکہ بہتری کیلئے کچھ کیا جائے۔ نیتیں اور ارادے آدمی کی سماجی سرگرمیوں کی تکمیل کے نتیجہ میں ہی مادی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ شعور و ادراک کو نظر انداز کرکے محض احساسات پر انحصار کرنا فرد اور سوسائٹی دونوں کیلئے ہلاکت انگیز ہے۔علم ایسے لوگوں کے عمل سے پھوٹتا ہے جو سچائی کو جاننے کی سنجیدہ کوششوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔ پس وہ ایمان جس کی بنیاد علم پر ہو ایک فرد کو صحیح سمت دیتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک سچا ضمیر پیدا کرتا ہے جو کہ سچائی کو جاننے اور اس کا بے باکانہ احترام کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔انسان علم اور فطرت کی ودیعت کردہ تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے یقینا اپنے حالات کو بدلنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ قوانین فطرت کا ادراک اور ایسے سماجی ڈھانچہ کے خلاف شعوری جدوجہد جس میں اس کی زندگی دوسروں کے قبضے میں ہو، فرد میں سیرت کی پختگی پیدا کرتی ہے۔ یہ شعوری جدوجہد انسان میں انسانی شخصیت کا احترام، قدرو منزلت اور سماج کے روبرو ذمہ داری و جوابدہی کے احساس کو جاگزیں کرتی ہے۔ زندگی کے مصائب (جہالت، بیماری، بھوک و افلاس، ناانصافی اور ظلم) کو ختم کرنا، انسان کی فلاح و بہبود کو نشوونما دینا، سماجی ذمہ داریوں کی ضروری حد تک ادائیگی کے ذریعے انسان کو اخلاقی و روحانی بلندیوں تک ترقی دینا، اس کے سیاسی شعور کو جلا دینا اور سماج کی درست و محکم تنظیم کرنا ہی انسانی زندگی کا مقصود ہے۔ انہی کاموں کی انجام دہی پر صحت مند زندگی کا دارومدار ہے۔ ان میدانوں میں پیش رفت صرف اسی صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ سماجی ڈھانچے کی ہر سطح پر صحت مند اور پختہ قیادت موجود ہو۔ ایسی قیادت جو قرآن اور اﷲ کے آخری نبیؐ کی تعلیمات سے رہنمائی لیتی ہو۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اور ایمان و یقین، احساس ذمہ داری اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہوکر اس رہنمائی کی طرف رجوع کیا جائے۔آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے مقام، اہمیت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک مثبت معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں ، اﷲ کے خاص کرم وفضل سے منزل آسان ہو جائے گی۔

hoonroot90@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے