Breaking News
Voice of Asia News

اقوام متحدہ کی بے حسی نے کشمیر موت کو ’’وادی‘:حافظ محمد صالح

آج 5فروری کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے ان کے ساتھ اظہار کی خاطر یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔آج ملک کی تمام قومی مذہبی و سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف تقاریب اور ریلیوں کا اہتمام کر رہی ہیں، جس کا مقصد کشمیریوں کو یقین دلانا ہے کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کشمیری عوام 74برس سے بھارتی ظلم و ستم ،جبر و تشدد اور ریاستی دہشت گردی سے لڑ رہے ہیں۔ پون صدی کے دوران ان کے پایہ استقلال میں ذرا برابر لرزش نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا ان کے موقف کو تسلیم کر چکی ہے۔ نہتے کشمیریوں نے بھارت کے خلاف جس انداز سے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس خطہ اراضی پر آزادی کی کوئی تحریک نہ اتنی دیر چل سکی ہے نہ ہی کشمیری عوام کی طرح لاکھوں شہادتوں کے نذرانے پیش کئے گئے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک نے آج پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے مستقبل کی منزل بھی متعین کر دی ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں کہ تقسیم ہند کے ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم نے کشمیر کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ جب بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجیں وادی میں اتاریں تو قائد اعظم نے افواج پاکستان کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو دشمن سے شہ رگ کا قبضہ چھڑانے کے لیے کشمیر پر چڑھائی کرنے کا حکم بھی دیا تھا، تاہم جنرل گریسی نے یہ جواز پیش کیا کہ وہ برطانوی افواج کے سربراہ کے تابع ہیں جب تک وہ اجازت نہیں دیتے تب تک کشمیر کی جانب پیش قدمی نہیں کر سکتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ بھارت اور برطانیہ کی ملی بھگت سے پیدا ہوا۔ جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کر کے اس کے وجود کو ختم کرنا تھا۔اسی سازش کے تحت بھارت کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی الگ الگ قرار دادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر میں استصواب رائے کا حکم دیا۔ جسے بھارت نے فی الفور تسلیم کر لیا۔ لیکن پون صدی کے قریب عرصے گزرنے کے باوجود وہ اس پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے۔ ان حالات میں انسانی حقوق کی تنظیموں،اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور او آئی سی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کی بھر پور کوشش کریں۔
نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے پانچ اگست 2019 کو جموں وکشمیر کو اپنی نیم خودمختارحیثیت سے محروم کیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کا جارحانہ تسلط تقسیم برصغیر کے ’’اصولوں‘‘ کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھی غیر آئینی اور غیرقانونی ہے۔کشمیر کی بھارت سے آزادی پاکستان کی’’ اقتصادی‘‘ اور ’’زرعی ترقی‘‘ کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس لئے کہ اگر کشمیر پر بھارتی تسلط قائم رہا تو وہ کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو’’ بنجر اور صحرا‘‘ بنا دے گا۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ’’تکمیل اور بقا‘‘ کی تحریک بھی ہے اور ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک کے دوران لاکھوں شہدا مقدس لہو کا ’’نذرانہ‘‘ پیش کر چکے ہیں۔ پانچ اگست 2019 کو ہونے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں 16 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے شہید کیا۔جن میں مر د ، عورتیں، بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے’’ زخمی اور اپاہج ‘‘ہو چکے ہیں چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہو گا جہاں شہدا کے مزار نہ ہوں یوں وہ مقبوضہ جموں وکشمیر جو جنت ارضی کہلاتا تھا، بھارت کی سرکاری دہشت گردی اور اقوام متحدہ کی بے حسی کے سبب موت کی ’’وادی‘‘ بناہے۔
آج پانچ فروری کے دن پوری قوم اس عزم کے ساتھ گھروں سے باہر نکلنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مودی کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے اور پاکستان کو سقوط ڈھاکہ کی شکل میں دو لخت کرنے کے بعد اب باقی ماندہ پاکستان کی سالمیت کے بھی اعلانیہ درپے ہے اور کنٹرول لائن پر سرحدی کشیدگی جاری رکھ کر پاکستان کو جنگ کی دھمکی اورسرجیکل سٹرائک کاڈرامہ بھی کر چکا ہے ،مودی سرکاربلوچستان کے حالات خراب کر رہی ہے۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر حکمران باضابطہ طور پر کشمیر کی جدوجہد آزادی کا ساتھ نبھانے کا عہد کریں اور کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ کبھی سرد نہ ہونے دیں۔ کشمیر کی آزادی ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ تکمیل پاکستان کی علامت ہے۔ ہمیں آج یوم یکجہتی کشمیر اس جذبے کے ساتھ منانا چاہیے کہ کشمیری عوام کی آزادی کی منزل یقینی ہو جائے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں