Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم جاری، آغا سید حیدر شاہ

 
بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی جنت نظیر وادی کو جہنم زار میں تبدیل ہوئے 73 برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے، نریندر مودی کی فاشسٹ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019ء کے آئینی ترامیم کے اقدام سے قبل مقبوضہ کشمیر میں جو سخت لاک ڈاؤن اور کرفیو مسلط کیا تھا اس کی ناقابلِ برداشت پابندیاں ابھی تک جاری ہیں۔ حریت قیادت جیلوں میں بند ہے مگر بھارتی فوج نے پوری وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کررکھا ہے، شہریوں کے تمام بنیادی انسانی حقوق غصب کیے جا چکے ہیں۔ مختلف عالمی ادارے، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھارتی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں اور نہتے کشمیری شہریوں پر بھارتی مسلح افواج کے مظالم کی مسلسل مذمت تو کررہے ہیں مگر بھارت کے خلاف کوئی موثر عملی اقدام کرنے اور اُس کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے پر ان بین الاقوامی اداروں میں سے کوئی بھی تیار نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ خالی زبانی بیان بازی کو ظالم بھارتی حکمران خاطر میں لانے پر تیار نہیں۔ باقی دنیا اور عالمی ادارے تو ایک طرف، خود پاکستانی حکومت کا طرزِعمل اس حوالے سے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ میں اپنی تقریر ہی کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں، بلکہ پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد پاکستانی حکومت نے اس کے خلاف جن نیم دلانہ اقدامات کا اعلان کیا تھا اب وہ بھی آہستہ آہستہ غیر موثر ہوچکے ہیں، اور بھارتی حکومت پر پانچ اگست کے جارحانہ اقدام کے خلاف اگر کسی قسم کا معمولی دباؤ پیدا بھی ہوا تھا تو وہ بھی اب تقریباً ختم ہوچکا ہے جس سے شہ پاکر بھارت مقبوضہ کشمیر میں اور خود بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو عملی شکل دینے میں تیزی سے پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے، دنیا اسے دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے، کیونکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات دل خراش ہی نہیں، پوری انسانیت کی تذلیل بھی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں بھارت کے اقدامات انسانی اقدار، تہذیب، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ورلڈ آرڈر کو پاؤں تلے روندنے کے مترادف ہیں جنہیں اقوام متحدہ سمیت پوری عالمی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے، اور اس کی یہ خاموشی بھارت کو انسانیت کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کا حوصلہ دے رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد انسانیت، انسانی وقار اور آفاقی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے، کشمیری عوام کو اگر اس جدوجہد میں خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوگی۔
مقبوضہ جموں وکشمیر پر پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی اور بے بسی کی کہانی تو قوم 73 برس سے دیکھ رہی ہے۔ لیکن اب جو کچھ حکومت کررہی ہے اس پر تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ دنیا کی قوموں کی تاریخ میں اس قدر شرمندہ کرنے والا روپ کسی قوم کا اور حکمراں کا نہیں رہا جو ہمارے وقت کے نیازی کا ہے۔ کبھی آدھے گھنٹے کی خاموشی ، کبھی ترانوں کا اجراء ، کبھی سڑکوں کے نام رکھنے کے فیصلے،کبھی نقشہ جاری کر دینا۔پاکستانی حکمران ترانے بناتے ،نقشے بناتے اور بڑھکیں مارتے رہے اور مودی نے شہید بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھ دیا۔ بھارت میں حکمران بی جے پی ہو یا کانگریس یامختلف جماعتوں کا اتحاد، کشمیر پر ان کی پالیسی ایک ہی ہوتی ہے کوئی دوسری جماعت اقتدار میں آکر کشمیر کے بارے میں کوئی اور پالیسی اختیار نہیں کرتی ۔لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستانی حکمران کشمیر پر پالیسی بدلتے رہتے ہیں۔پاکستانی حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے الفاظ میں پاکستان کی ’شہ رگ‘ کے معاملات سے مجرمانہ لاتعلقی کا مظاہرہ کیوں کررہی ہیں؟ انہیں اپنے وطن کی شہ رگ کی حفاظت آخر کیوں عزیز نہیں ہے؟۔
(نوجوان صحافی کوئٹہ میں وائس آف ایشیا کے نمائندہ خصوصی ہیں اورمختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)

hoonroot90@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے