Breaking News
Voice of Asia News

امریکا کے کل 46 میں سے 31 صدر کاتعلق فوج سے تھا،رپورٹ:محمدقیصر چوہان

دنیا میں مثالی جمہوریت کے دعویدار ملک میں بھی فوج، خفیہ ایجنسیاں اور مخصوص کاروباری طبقہ پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ ہی صدر کے انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے

امریکا جمہوری نظام کی پاسداری کا سب سے بڑا علمبردار کہلاتا ہے۔ اگر امریکی جمہوریت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں بھی بظاہر جمہوری عمل کے ذریعے صدر منتخب کئے جاتے ہیں مگر عموماً وہی صدر بنتے ہیں جنہیں سکیورٹی فورسز، خفیہ ایجنسیوں اور سرمایہ دار طبقے کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے۔جب امریکا میں منتخب ہونے والے صدور کا جائزہ لیاجائے تو یہ حیران کن پہلو سامنے آتا ہے کہ امریکا میں اب تک 46 صدور منتخب ہوئے ہیں ان میں سے 31 افراد ایسے منتخب کئے گئے جن کا کسی نہ کسی طرح فوج سے تعلق رہا ہے اور انہوں نے فوج سے فراغت کے بعد الیکشن لڑا اور کامیاب ٹھہرائے گئے۔ دوسرا حیران کن پہلو یہ ہے کہ امریکا میں آج تک کوئی عورت صدر منتخب نہیں ہو سکی۔ ذیل میں قارئین کی دلچسپی کیلئے ایسے امریکی صدرو کا مختصر تعارف دیا جا رہا جو امریکی فوج کا حصہ رہے۔
جارج واشنگٹن
یہ امریکا کے پہلے صدر تھے 20 فروری 1732 کو برطانوی کالونی میں پیدا ہوئے، 14 دسمبر 1799 کو وفات پائی۔ وہ 30 اپریل 1789 سے 4 مارچ 1797 تک امریکا کے صدر رہے۔ جارج واشنگٹن اپنے باپ اور بڑے بھائی کی وفات کے بعد ولیم فیئر فاکس کے ساتھ مل گئے جو نو آبادیاتی نظام میں ایک اثر و رسوخ والے سیاستدان تھے۔ انہوں نے جارج واشنگٹن کو نو آبادیاتی فوج میں بھرتی کرایا اور ترقی میں بھی مدد کی۔ یوں فرنچ اور انڈین جنگ میں نمایاں کارکردگی کی وجہ سے واشنگٹن ترقی کی منازل طے کرتے چلے گئے اور ان کا شمار سینئر فوجی افسروں میں ہونے لگا۔1775 میں برپا ہونے والے امریکی انقلاب میں انہیں براعظمی فوج کا کمانڈر انچیف بنا دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں سے برطانوی فوج کو نکالنے کیلئے کوششیں شروع کیں۔ ابتدا میں ناکامیوں کے بعد جارج واشنگٹن کو کامیابی حاصل ہوئی۔ 1783 میں انہوں نے آرمی سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے کانٹیننٹل کانگریس کو مضبوط کرنے پر توجہ دی۔ بالآخر 1789 میں انہیں امریکا کا پہلا صدر منتخب کر لیا گیا۔ اس کے بعد 1792 میں وہ دوبارہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی دوسری ٹرم پوری ہونے پر انہوں نے صدارت چھوڑ دی جس سے ایک مضبوط روایت قائم ہوئی کہ ہر امریکی صدر دو مرتبہ صدر بننے کے بعد کرسی صدارت چھوڑ دیتا ہے یہ روایت ابھی تک زندہ ہے۔
جان ایڈم
امریکا کے دوسرے صدر تھے جو جارج واشنگٹن کے بعد 4 مارچ 1797 کو صدارت کے عہدے پر فائز ہوئے اور 4 مارچ 1801 تک صدر رہے۔ ان کا فوج میں کردار سیکریٹری آف ڈیفنس تک محدود رہا۔ اس کے علاوہ وہ امریکی انقلاب کے دوران آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے۔
تھامس جیفرسن
4 مارچ 1801 کو امریکا کے صدر بنے اور 4 مارچ 1809 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ امریکا کی انقلابی جنگ کے دوران ورجینیا ملائیشیا میں کرنل تھے۔ تب ہی انہیں ایلبیمار لے کاؤنٹی ملیشیا کی کمان سونپی گئی تھی۔
جیمز میڈیسن
4 مارچ 1809 کو امریکا کے حکمران بنے اور 4 مارچ 1817 تک صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ امریکا کی انقلابی جنگ کے دوران انہوں نے ورجینیا ملیشیامیں بطور کرنل خدمات سر انجام دیں۔
جیمز مونرو
انہوں نے 4 مارچ 1817 کو امریکا کا اقتدار سنبھالا اور چار مارچ 1852 تک صدر رہے۔ وہ 1775 میں کالج چھوڑ کر کنٹیننٹل آرمی کی تھرڈ ورجینیارجمنٹ میں شامل ہو گئے اور میجر کے عہدے تک پہنچے۔ انہوں نے جنگ میں بھرپور حصہ لیا اور جنگ ٹرینٹن میں زخمی ہو گئے۔ 1780 میں انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی تھی۔
اینڈ ریو جیکسن
4مارچ 1829 کو امریکا کے صدر بنے اور چار مارچ 1837 تک اس عہدے پر متمکن رہے۔ امریکا کی جنگ انقلاب کے دوران اینڈ ریو نے صر ف13 سال کی عمر میں ایک لوکل ملیشیا میں بطور ڈاک بوائے کا کام کیا۔ جیکسن کو 1801 میں ٹیننسی ملیشیا کا کمانڈر مقرر کر دیا گیا اور کرنل کا عہدہ دیا گیا۔ اس کے بعد 1802 میں انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ 1812کی جنگ کے دوران انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
ولیم ہنری ہیری سن
4 مارچ 1841 کو صدر بنے اور 4 اپریل کو چل بسے۔وہ فوج میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
جان ٹیلر
4 اپریل 1841 کو امریکا کے صدر بنے اور چار مارچ 1845 تک صدر رہے۔ انہوں نے 1812 کی جنگ میں بطور کیپٹن امریکی فوج کے ساتھ کام کیا۔
جیمز پولاک
4 مارچ 1845 میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے اور 1849 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1822 میں پولاک بطور کیپٹن ٹیننسی ملیشیا میں بھرتی ہوئے۔ اس کے بعد وہ گورنر ولیم کیرولی کے سٹاف میں کرنل مقرر کر دیئے گئے مگر انہوں نے اس عہدے پر تھوڑا وقت گزارا۔ اس کے بعد انہوں نے سیاست میں حصہ لیا۔
زیچرے ٹیلر
4 مارچ 1849 کو امریکا کے صدر بنے مگر اپنی صدارت کا دورانیہ پورا کرنے سے قبل ہی 9 جولائی 1850 کو انتقال کر گئے۔ انہوں نے 1808 کو امریکی فوج میں کمشن حاصل کیا، ان کی پہلی تقرری سینوتھ انفنٹری رجمنٹ میں ہوئی۔ 1812 کی جنگ میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے انہیں ترقی دے کر میجر بنا دیا گیا اس کے بعد ان کی مزید ترقی ہوئی اور 1819 میں انہیں لیفٹیننٹ کرنل بنا دیا گیا۔ 1837 میں سیکنڈ سیمونول جنگ میں اچھی کارکردگی پر انہیں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بالآخر وہ میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اگلے ہی سال 1849 میں وہ صدر منتخب ہوگئے۔
ملارڈ فلمورو
9 جولائی 1850 کو امریکا کے صدر بنے اور 4 مارچ 1853 تک کرسی صدارت کو سنبھالے رہے۔ امریکی سول وار کے دوران انہوں نے بفیلو نیو یارک میں آرگنائزڈ یونین کانٹیننٹل ہوم گارڈ یونٹ بنایا۔ 1820اور 1830 کی دہائی میں نیویارک ملیشیا میں بطور میجر کام کیا۔
فرینکلن پالرس
4 مارچ 1853 کو صدر بنے اور 4 مارچ 1853 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ میکسیکو، امریکا جنگ کے دوران فزینکلن ملیشیا میں شامل ہوئے تاہم اس کیلئے انہیں اپنا سابقہ کیریئر چھوڑنا پڑا۔ انہیں 9 انفنٹری رجمنٹ میں بطور کرنل تعینات کیا گیا ۔جلد ہی انہیں ترقی دے کر بریگیڈیئر جنرل بنا دیا گیا۔ جنگ کے دوران ان کی ٹانگ بھی زخمی ہوئی تھی۔
ابراہام لنکن
4 مارچ 1861 کو امریکا کے صدر بنے اور 5 اپریل 1865 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے بلیک ہاک وار کے دوران الینوائے ملیشیا میں بطور کیپٹن خدمات سرانجام دی تھیں۔
ایلڈریو جانسن
15اپریل 1865 کو امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ 4 مارچ 1869 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1830 میں ٹیننسی ملیشیا میں بطور کرنل خدمات سر انجام دیں۔ بعدازاں 1862 میں ٹیننسی کے گورنر بنائے گئے۔
الیسز گرانٹ
انہیں 4 مارچ 1869 میں امریکا کا صدر منتخب کیا گیا اور 4 مارچ 1877 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ صرف 17 سال کی عمر میں انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1853 میں کیپٹن کے عہدے پر ترقی ملی مگر اگلے ہی سال چند وجوہات کی بنا پر مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد امریکن سول وار شروع ہوئی تو وہ پھر فوج میں شامل ہو گئے اور 1862 سے 1868 تک فوج میں رہے اور بالآخر جنر ل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
ردر فورڈ بی ہیز
4 مارچ 1877 میں امریکا کے صدر بنائے گئے اور چار مارچ 1881 تک اس عہدے پر فائزرہے۔ امریکی سول وار کے دوران آرمی میں شمولیت اختیار کی اور 23 اوپیو انفنٹری میں تعینات کئے گئے۔ وہ میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
جیمز گا فیلڈ
4 مارچ 1881 کو امریکا کے صدر منتخب ہوئے اور 19 ستمبر 1881 تک یعنی صرف سات مہینے تک اپنے عہدے پر فائز رہے اس کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔ امریکن سول وار شروع ہوئی تو جیمز نے یونین آرمی میں کمشن حاصل کیا۔ 1863 میں چیف آف سٹاف مقرر کئے گئے اور اسی سال فوج سے ریٹائر ہو گئے۔
چیس آرتھر
19 ستمبر 1881میں امریکا کے صدر بنے اور 1885 تک صدر رہے۔وہ1860 میں گورنر ایڈون کے ملٹری سٹاف تعینات ہوئے۔ سول وار کے دوران جب ملیشیا تشکیل دی جا رہی تھی تو انہیں بریگیڈیئر جنرل کا عہدہ دے کر کوارٹر ماسٹر ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا۔ ان کی اچھی کارکردگی پر انہیں جلد ہی کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی وہ اپنے اس عہدے سے 1863 میں ریٹائر ہوئے۔
بنجامن ہیری سن
4 مارچ 1889میں امریکا کے صدر منتخب کئے گئے اور 4 مارچ 1893 تک اس عہدے پر متمکن رہے۔ جب سول وار شروع ہوئی تو گورنر کے کہنے پر اس نے انڈیا میں رجمنٹ کی تشکیل کیلئے کام شروع کیا۔ گورنر نے انہیں کمانڈ کی آفر کی مگر انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انہیں فوج کی کمان کا تجربہ نہیں۔ تب انہیں فوج میں لیفٹیننٹ بھرتی کر لیا گیا۔ جب رجمنٹ یونین آرمی کا حصہ بنی تو انہیں ترقی دے کر کرنل بنا دیا گیا۔ اس کے بعد وہ بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔
ولیم مکینلے
انہیں 4مارچ 1897 کو امریکا کا صدر منتخب کیا گیا اور وہ 14 ستمبر 1901 تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔ وہ فوج کی 23 اوہیوانفنٹری میں شامل ہوئے۔ بریوٹ میجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ساؤتھ مونٹین جنگ میں بھرپور شرکت کی۔ 1864 میں اینٹیٹم اور ویلی کمپیین میں حصہ لیا۔
تھیوڈور روز ویلٹ
انہیں 4 ستمبر 1901 کو امریکا کا صدر منتخب کیا گیا اور وہ 4مارچ 1909 تک امریکا کے صدر رہے۔ کیوبا کی جنگ شروع ہوئی تو اس وقت روز ویلٹ نیوی کے اسسٹنٹ سیکرٹری تھے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ وہاں انہیں کرنل کا عہدہ دیا گیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد وہ سیاست کی طرف راغب ہوئے۔
ہیری ایس ٹرومین
وہ 12 اپریل 1945 کو امریکا کے صدر منتخب ہوئے اور 20 جنوری 1953تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہیں فوج کی نوکری کا شوق تھا مگر نظر کی کمزو ری کی وجہ سے یونائیٹڈ سٹیٹ ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ میں تقرری حاصل نہ کر سکے مگر ان کا شوق کسی بھی طرح ختم ہونے نہ آیا اور انہوں نے 1905 میں بڑی مشکل سے میسوی آرمی نیشنل گارڈ میں شمولیت اختیار کی اور 1911 تک کینساس سٹی بیس آرٹلری میں رہے۔ وہاں چند سال نوکری کرنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ پھر جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو امریکا کو بھی اس میں کسی نہ کسی انداز میں حصہ لینا پڑا تو ہیری ٹرومین نے فوج میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی۔ انہیں کیپٹن کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں ریزرو آرمی میں ٹرانسفر کر دیا گیاتھا، جہاں وہ کرنل کے عہدے تک پہنچے اور ریٹائر ہو گئے۔
ڈی وائٹ آئزن ہاور
انہیں 20 جنوری 1953 کو امریکا کا صدر منتخب کیا گیا اور وہ 20 جنوری 1961 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1915 میں گریجویشن کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہو گئے۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران انہیں کیپٹن کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ ان کی اچھی کارکردگی کی بنا پر انہیں میجر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران انہیں پیسیفک ڈیفنس کا ڈپٹی چیف انچارج بنا دیا گیا۔ 1943 میں انہیں امریکی صدر روز بیلٹ نے یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر بنادیا۔ جرمنی کی شکست پر انہیں مقبوضہ علاقے کا ملٹری گورنر بنا دیا گیا۔ امریکی حکومت نے جب جاپان پر ایٹم بم گرانے کی دھمکی دی تو آئزن ہاور نے اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ پھر انہیں آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ۔وہ 1952 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔
جان ایف کینیڈی
وہ 20 جنوری 1961 کو صدر بنے اور 2 نومبر 1963 کو قتل کر دیئے گئے۔ فوج سے ان کا تعلق یوں رہا کہ ستمبر 1949 میں انہوں نے فوج میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔ اس کے بعد انہوں نے نیوی میں نوکری کے حصول کیلئے کوشش کی جس میں وہ کامیاب رہے اور انہیں لیفٹیننٹ بھرتی کر لیا گیا۔ ایک مشن کے دوران انہیں پیٹھ پر چوٹ بھی لگی۔ انہیں 1945 میں نیوی سے فارغ کر دیا گیا۔ انہیں پرپل ہارٹ، امریکن ڈیفنس سروس میڈل، امریکن کمپیئن میڈل، ایشیا ٹک پیسیفک کمپیئن میڈل اور ورلڈ وار ٹو ملٹری میڈل سے بھی نوازا گیا۔
لنڈن بی جانسن
انہیں 22 نومبر 1963 کو صدر منتخب کیا گیا اور وہ 20 جنوری 1969 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1941 میں جب امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا تو لنڈن بی جانسن ایوان نمائندگان کے ممبر تھے۔ انہوں نے ملک کے دفاع کے پیش نظر فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ امریکی نیوی میں بطور کمیشنڈ آفیسر بھرتی ہوئے اور نیول ریزرو میں بھیج دیئے گئے۔ اس دوران انہیں تین رکنی کمیٹی کا سربراہ بنا دیا گیا جو جنگ کے دوران مختلف مقامات کے سروے کر کے رپورٹ صدر کو بھجواتی تھی۔ انہیں کمانڈر کا عہدہ دیا گیاتھا۔ وہ دو سال تک نیوی میں فرائض سر انجام دیتے رہے۔
رچرڈ نکسن
وہ 20 جنوری 1969 کو امریکا کے صدر منتخب ہوئے اور 9 اگست 1974 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے اگست 1942 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی نیوی میں نوکری حاصل کی۔ آفیسرز سکول سے فراغت کے بعد بطور کمشن آفیسر نیوی میں شمولیت اختیار کی۔ مختلف سٹیشنز پر اچھی کارکردگی دکھانے پر انہیں ترقی دے کر لیفٹیننٹ بنا دیا گیا۔ 1945 میں جنگ سے واپس بلا کر انہیں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں المیڈ انیول ایئر سٹیشن میں تعینات کر دیا گیا۔ انہیں دو سروس سٹارز سے بھی نوازا گیا۔ اس سال انہیں فلاڈلفیا میں بیورو آف ایروناٹک میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اس طرح وہ مختلف آفسز میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے اور اچھی کارکردگی کی بنا پر ترقی کر کے لیفٹیننٹ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے۔ تاہم 1946 میں انہوں نے فوج کی نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔
جیرالڈ فورڈ
9 اگست 1974 میں امریکا کے صدر بنے اور 20 جنوری 1977 تک اس عہدے پر رہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جیرالڈ فورڈ نیوی میں بطور کمیشنڈ آفیسر بھرتی ہوئے۔ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد انہیں چیپل بل نارتھ کیلی فورنیا میں انسٹرکٹر لگا دیا گیا جہاں انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ 1942 میں انہیں لیفٹیننٹ جونیئر گریڈ میں ترقی دے دی گئی۔ پھر لیفٹیننٹ بنا دیئے گئے یوں ترقی کرتے ہوئے لیفٹیننٹ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے۔ 1946 میں انہوں نے فوج سے استعفیٰ دے دیا جو ان کی قابلیت کی وجہ سے قبول نہ کیا گیا کیونکہ فوج کی اعلیٰ قیادت کے خیال میں وہ فوج کے لیے قیمتی سرمایہ تھے۔ مگر پھر تھوڑے عرصے بعد انہیں با عزت طریقے سے فوج سے ریٹائر کر دیا گیا۔ انہیں ایشیا ٹک پیسیفک کمپین میڈل، امریکن کمپین میڈل اور ورلڈ وار ٹو وکٹری میڈل سے بھی نوازا گیا۔
جمی کارٹر
انہیں 20 جنوری 1977 کو امریکا کا صدر منتخب کیا گیا اور وہ 20 جنوری 1981 تک صدر رہے۔ انہوں نے کالج سے فراغت کے بعد امریکی نیول اکیڈمی میں داخلہ لیا اور 1943 میں گریجویشن کی۔ اس کے بعد انہیں نیول بیس پر تعینات کر دیا گیا۔ وہ 1953 تک امریکی نیوی میں رہے اور لیفٹیننٹ کے عہدے تک پہنچے۔ انہیں نوبل پیس پرائز اور گرینڈ کراس آف دی کراؤن سے نوازا گیا۔
رونالڈ ریگن
20 جنوری 1981 کو صدر بنے اور 20 جنوری 1989 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے 1937 میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں آفیسرز ریزرو کور میں کیولری میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی کیا گیا۔ وہ 1945 تک نیوی سے منسلک رہے اور کیپٹن کے عہدے تک پہنچے۔
جارج ایچ، ڈبلیو، بش
وہ 20 جنوری 1989 کو امریکا کے صدر منتخب کئے گئے اور 20 جنوری 1993 تک اس عہدے پر فائزر ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران پرل ہاربر پر حملے کے بعد بش نے امریکی نیوی میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور صرف اٹھارہ سال کی عمر میں نیوی ایوی ایٹر بن گئے۔ دس ماہ کی تربیت کے بعد انہیں یو ایس نیول ریزرو ٹیکساس میں بھیج دیا گیا۔ 1944 میں ان کی لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی ہو گئی۔ اس دوران ان کی ڈیوٹی ٹریننگ سکول میں لگا دی گئی۔ 1945 میں انہیں فوج سے فارغ کر دیا گیا۔ انہیں ڈسٹنگوش فلائنگ کراس ایئر میڈل سے بھی نوازا گیا۔
جارج، ڈبلیو، بش جونیئر
انہیں 20 جنوری 2001میں امریکا کا صدر منتخب کیا گیا اور وہ 20 جنوری 2009 تک صدر رہے۔ انہوں نے مئی 1968 میں ٹیکساس انٹرنیشنل گارڈ میں کمشن حاصل کیا۔ دو سال کی ٹریننگ کے بعد ان کی پہلی تعیناتی ہوسٹن میں ہوئی۔ ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ انہوں نے فوج میں کمشن اپنے والد جارج بش کی وجہ سے حاصل کیا جو اس وقت ایوان نمائندگان کے رکن تھے۔ 1972 میں شیڈول فیزیکل امتحان میں ناکامی پر معطل کر دیئے گئے۔ تاہم وہ 1974 تک امریکی ایئر فورس سے منسلک رہے۔ اس کے بعد انہیں فوج سے فارغ کر دیا گیا۔
جارج واشنگٹن سے جوبائیڈن تک
1789 سے لے کر اب تک مندرجہ ذیل شخصیات امریکا کے صدر کے طور پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔
-1 جارج واشنگٹن (1789سے 1797 تک)
-2جان ایڈمز (1797 سے 1801 تک)
-3تھامس جیفرنس (1801 سے 1809 تک۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹک ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-4جیمز میڈسن (1809 سے 1817 تک۔) ان کا تعلق بھی ڈیمو کریٹک ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-5جیمز منرو (1817 سے 1825 تک۔) یہ بھی ڈیمو کریٹک ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
-6جان کونیسی ایڈمز (1825 سے 1829 تک۔) ان کا تعلق نیشنل ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-7اینڈریو جیکسن (1829 سے 1837 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-8مارٹن وین یورین (1837 سے 1841 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-9ولیم۔ ایچ ہیری سن 1841 میں صدر رہے۔ ان کاتعلق ویگ پارٹی سے تھا۔
-10جان ٹیلر (1841 سے 1845 تک۔) ان کا تعلق بھی ویگ پارٹی سے تھا۔
-11 جیمز۔ کے ۔ پولک (1845 تے 1849 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ سے تھا۔
-12 زیڈٹیلر (1849 سے 1850 تک۔) ان کا تعلق ویگ پارٹی سے تھا۔
-13میلارڈ فل مؤر (1850 سے 1853 تک۔) ان کا تعلق بھی ویگ پارٹی سے تھا۔
-14فزینکلن پیئرس (1853 سے 1857 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ سے تھا۔
-15جیمز بک ہاں (1857 سے 1861 تک۔) ان کا تعلق بھی ڈیموکریٹ سے تھا۔
-16ابراہم لنکن (1861 سے 1865 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-17اینڈریو جانسن (1865 سے 1869 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-18یولیسیس ۔ ایس۔ گرانٹ (1869 سے 1877 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-19رُتھ فورڈ۔ بی۔ ہائیز (1877 سے 1881 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-20جیمز۔اے۔ گارفیلڈ 1881 میں صدر رہے، ان کا تعلق بھی ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-21 چیسٹر ۔اے۔ آرتھر (1881 سے 1885 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-22گروور کلیو لینڈ (1885 سے 1889 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-23بینجمن ہیری سن (1889 سے1893 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-24گروور کلیولینڈ (1893 سے 1897 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-25ولیم میک کِنلے(1897 سے 1901تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-26تھیوڈر روزویلٹ (1901 سے 1909تک۔) ان کا تعلق بھی ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-27ولیم ہوورڈ ٹافٹ (1909 سے 1913 تک۔) ان کا تعلق بھی ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-28ووڈرو ولسن (1913 سے1921 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-29ویرن ہارڈنگ (1921 سے 1923 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-30کالون کولیج (1923 سے 1929تک۔) ان کا تعلق بھی ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-31 ہربرٹ ہوور (1929 سے 1933 تک۔) ان کا تعلق بھی ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-32فزینکلن۔ ڈی روز ویلٹ (1933 سے 1945 تک۔)ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-33ہیری ٹرومین (1945 سے 1953تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-34ڈی وائٹ ایس ہوور (1953 سے 1961 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-35جان۔ایف۔کینڈی (1961 سے 1953 تک۔) ان کا تعلق بھی ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-36لِنڈن۔ بی۔جانسن (1963 سے 1969 تک۔) ان کا تعلق بھی ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-37رچرڈ۔ایچ۔نکسن(1969 سے 1974تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-38 جیرالڈ فورڈ (1974 سے 1977 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-39جیمزارل کارٹر (1977 سے 1981 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا۔
-40رونلڈ ریگن (1981 سے 1989 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-41جارج بُش سینئر (1989 سے 1993تک۔) ان کا تعلق بھی ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-42ولیم۔جے۔کلنٹن(1993 سے 2001 تک۔) ان کا تعلق ڈیموکریٹ سے تھا۔
-43جارج۔ڈبلیوبُش (2001 سے 2009 تک۔) ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-44باراک اوباما (2009 سے تاحال۔) ان کا تعلق بھی ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے۔
-45 ڈونلڈ ٹرمپ ( 2017 سے 2020 )ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے تھا۔
-46جوبائیڈن نے نومبر 2020 کو امریکی الیکشن میں فتح حاصل کی ہے۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے