Voice of Asia News

کشمیری پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں تقسیم نہیں،:زاہد شفیق طیب

کشمیری پاکستان سے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق چاہتے ہیں تقسیم نہیں،گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پرآزاد کشمیر کل جماعتی کانفرنس کا ردعمل :زاہد شفیق طیب17 جون 1947 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے ایک اہم پالیسی بیان جاری کیاجو 18 جون کے اخبارات میں شائع ہوا، قائداعظم نے کہا کہ مسلم لیگ کی نظرمیں برصغیر کی شخصی ریاستوں کو حق حاصل ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کریں یا مکمل خودمختاری کا اعلان کریں، 11 جولائی 1947 کو اپنے اس بیان کو دہراتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کی حکومت سے کہا اگر وہ ریاست کی مکمل خودمختاری کا اعلان کریں تو پاکستان کو اس کے ساتھ باہمی مفادات سے متعلق معاہدہ کرنے میں خوشی ہوگی، ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک سے گھبرا کر بھارت یکم جنوری 1948 کو تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا، یکم جنوری 1948 سے 20 جنوری 1948 تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر ہونے والی بحث کا عنوان ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال پر بحث تھا ، 20 جنوری کو پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر محمد ظفراﷲ خان (قادیانی) نے سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھا ، سلامتی کونس نے اس خط کو اپنانمبر ایس (655) دیا، جس میں بحث کہ اس عنوان کو تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی تھی، 20 جنوری سے اس بحث کے عنوان کو پاکستان اور بھارت کے تنازعہ میں تبدیل کیا گیا، حالانکہ روس کے نمائندے نے اس پر احتجاج بھی کیا ، عنوان کی اس خوفناک تبدیلی نے مسئلہ کشمیر کی نوعیت کو ہی بدل دیا اور یہ پاک بھارت علاقائی تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا، اقوام متحدہ میں تنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے منظور ہونے والی تمام قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان ریاست کا لازمی حصہ ہیں ، مستقبل قریب میں عالمی ادارہ ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو جموں میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے جس طرح آبادی کا تناسب بڑھا کر ہندووں کو آباد کیا گیا اسی طرح گلگت بلتستان کا 28 ہزار مربع میل کا علاقہ ریاست سے علیحدہ ہوتا ہے تو رائے شماری کے کیا نتائج برآمد ہوں گے، ذمہ دار کون ہوگا؟
یکم نومبر کو گلگت بلتستان کے یوم آزادی کے موقع پر دن دیہاڑے عوامی حقوق کے نام پر وزیراعظم عمران خان نے جب گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا تو عین اس وقت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی دعوت پر اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس جاری تھی جس نے عمران خان کے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے اعلان کو مشترکہ طور پر مسترد کرتے ہوئے متفقہ اعلامیہ جاری کیا، خودمختار جموں و کشمیر کی حمی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کو ریاست میں مسلح جدوجہد کا کریڈٹ جاتاہے ، جس کے قائد مقبول بٹ کو 11فروری 1984 میں بھارت نے سزائے موت دے دی تھی،مقبول بٹ شہید نے 1966 میں جموں سیکٹر کے علاقے سوچیت گڑھ میں ہاتھوں میں مٹی اٹھا کر اسے چومتے ہوئے مادر وطن کو غیروں کی غلامی سے آزاد کروانے کا عزم کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کا اعلان کیا، آج بھی ان کا جسد خاکی بھارت کی تہاڑ جیل میں امانتا دفن ہے، مقبول بٹ شہید نے پھانسی کا پھندہ چوم کر تحریک آزادی جموں و کشمیر کو نئی جلا بخشی، نئی روح پھونکی، آزادی کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھرا، اپنے لہو سے آزادی کا چراغ روشن کیا، جو کہا وہ کردکھایا۔ گلگت بلتتان مین ایف سی آر جیسا کالا قانون نافذ تھا، 70 سال آزاد کشمیرکے رہنماوں کا داخلہ گلگت بلتستان میں ممنوع تھا۔ 23 اور 28 اکتوبر1970 کو گلگت بلتستان جانے پر مقبول بٹ کوگرفتار کرکے واپس بھیج دیا گیا، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے مسلح جدوجہد شروع کی تو کشمیر کا پنڈت ہو یا جموں کا سکھ لداخ کے بدھ مت ہوں یا وادی کے مسلمان سب ایک تھے، مسلم یا غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں تھی، انسانی حقوق کی تنظیمیں، این جی اوز بھی تحریک آزادی کی ہم نوا تھیں لیکن جب تحریک آزادی کو مذہبی جماعتوں نے یرغمال بنایا تو تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ غیرمسلم الگ ہوگئے ، صرف مسلمان رہ گئے۔
ایک لاکھ 18 ہزار کشمیری پنڈتوں نے ریاست جموں و کشمیر کو الوداع کہہ دیا، کئی سکھ خاندان نقل مکانی کرگئے۔ حریت کانفرنس کی 85 سیاسی جماعتوں میں لداخ ، جموں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، مہاجرین کی نمائندگی نہیں تھی وہ صرف سری نگرتک محدود تھی۔ جموں و کشمیر میں باربار منحوس خونی لکیر کنٹرول لائن کو توڑنے کا سہرا بھی لبریشن فرنٹ کو جاتا ہے۔ لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اﷲ خان جن کا چند سال قبل انتقال ہوا، کا تعلق بھی گلگت بلتستان سے تھا۔ عالمی سامراج کے دلال آج بھی خود مختار جموں و کشمیر کی آواز کو دبانے کے لیے یسین ملک کو پابند سلاسل کیے ہوئے ہیں، وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تحریک آزادی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
کل جماعتی کانفرنس سے قائم مقام چیئرمین لبریشن فرنٹ عبدالحمید بٹ (صدر کانفرنس) وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان (صدر مسلم لیگ ن) چوہدری لطیف اکبر (صدر پیپلز پارٹی) مرزا محمد شفیق جرال ( صدر مسلم کانفرنس) حافظ محمد انور سماوی ( وائس چیئرمین لبریشن فرنٹ) سید عبداﷲ گیلانی ( ترجمان سید علی گیلانی) محمود احمد ساغر (قائم مقام چیئرمین جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی) سردار ارشد ندیم ایڈووکیٹ ( نائب امیر جماعت اسلامی) ضیاالحق (ممبر سپریم کونسل لبریشن فرنٹ گلگت بلتستان) مولانا امتیاز عباسی ( جنرل سیکرٹری جمعیت علمااسلام) یوسف علی ناشاد ( مرکزی رہنما بالا درستان نیشنل فرنٹ، رہنما عوامی ایکشن کمیٹی گلگت) شیخ عبدالمتین ( رہنما مسلم لیگ جموں و کشمیر) لیاقت حیات(صدر جموں و کشمیر نیشنل عوامی پارٹی) حسن البنا ( سینئر رہنما حریت کانفرنس ) راجہ نجابت حسین ( چئیرمین تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل برطانیہ) ابرار احمد یار ( مرکزی سیکرٹری جنرل جموں و کشمیر پیپلز پارٹی) چوہدری عارف (جنرل سیکرٹری جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس) چوہدری ظفر اقبال ( بزرگ مرکزی رہنما کشمیر فریڈم مومنٹ) محمد جاوید ( مرکزی چئیرمین قراقرم نیشنل موومنٹ)سیدیوسف نسیم(سینئررہنماحریت کانفرنس) عبدالرحیم ملک ایڈووکیٹ ( چئیرمین جموں و کشمیر اسٹوڈنٹ لبریشن فرنٹ ) عارف کمال کالم نگار، مزمل حسین، خلیق الزماں (جموں و کشمیر لائرز فورم) چوہدری منیر احمد ( سربراہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس میں واضح کیا گیا کہ کشمیری پاکستان سے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق چاہتے ہیں تقسیم نہیں۔حکومت نے گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے علیحدہ کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے کشمیریوں پر عدم اعتماد کیا جس سے الحاق پاکستان کی تحریک کو دھچکا لگا۔ کل جماعتی کانفرنس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی 20 سے زائد جماعتوں نے شرکت کی۔یہ امر باعث حیرت ہے کہ سابق صڈر ضیاالحق نے سٹیٹ سبجیکٹ کے خاتمے کا اعلان کیا تو کشمیری قیادت خاموش رہی۔ 8 مئی 1988 کو کے پی کے سے 40 ہزارمسلح قبائلیوں کے لشکر بھیج کر گلگت بلتستان میں 1200 اہل تشیع کے گھروں کو نذر آتش کرکے شعیہ سنی فساد کی جو آگ بڑھائی گئی وہ الگ داستان ہے۔پرویز مشرف نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے ورکنگ کی تو کسی کے لبوں پر جنبش نہ ہوئی ، تنازعہ ریاست جموں و کشمیر حل کروانے کے لیے حریت قیادت کو اسلام آباد بلانے کے بعد ان سے ہتھیار پھینک کر مذاکرات پر زور دیا، جس کے نتیجے میں
بھارتی سیکیورٹی فورسز نے 22 ہزار کشمیری خواتین کی زبردستی آبرو ریزی کی۔ صرف 12 ہزار کے مقدمات درج ہوئے، آصف زرداری ، نوازشریف نے گلگت بلتستان پر ورکنگ کو آگے بڑھایا تو ن لیگ، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے حق نمک ادا کرتے ہوئے، آمین کہہ ڈالا۔ میر واعظ، سید علی گیلانی، سید شبیر احمد شاہ اور یسین ملک نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں تنازعہ جموں و کشمیر کے لیے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا شرمناک قرار دیا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیرا اہتمام گلگت بلتستان کے حوالے سے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان ہو یا بھارت ریاست جموں و کشمیر کی واحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں عمران خان کے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے اعلان کی زبردست الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اتفاق رائے سے مسترد کردیا گیا۔ کل جماعتی کانفرنس میں کل جموں و کشمیر جوائنٹ لیڈرشپ کونسل قائم کی گئی، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو کونسل کا سربراہ، لبریشن فرنٹ کے محمد رفیق ڈار کو سیکرٹری بنایا گیا، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ن لیگ، مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی، لبریشن فرنٹ، جمعیت علما اسلام، فریڈم موومنٹ سے کمیٹی کے ارکان لیے جائیں گے ، حریت کانفرنس کے 3 جبکہ گلگت بلتستان کے 4 لیڈر بھی شامل ہوں گے۔ کل جماعتی کانفرنس نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے نقش قدم پر چلنے سے باز رہتے ہوئے تقسیم ریاست جموں و کشمیر کے فارمولے پر عمل نہ کر ے، گلگت بلتستان کو آزاد کشمیرکے ساتھ ملا کرقومی انقلابی حکومت تشکیل دی جائے، جس کے وزیراعظم اور صدر بالترتیب آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سے ہوں۔
1947 کی طرح گلگت بلتستان آزاد کشمیر کی مشترکہ حکومت بناکر سینیٹ یا کونسل بنائی جائے، دوسری صورت میں گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر طرز کا بااختیار حکومتی سیٹ اپ بنایا جائے جس کا اپنا صدر، وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہوں جو مقامی آبادی کے حقوق کے محافظ ہوں۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) منصوبے میں گلگت بلتستان کو حصہ دار بنایا جائے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو باہم ملانے والے استور سے مظفرآباد، اسکردو سے کارگل سمیت قدیم، قدرتی راستے ہنگامی بنیادوں پر بحال کیے جائیں، کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ مودی سرکار یسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، میر واعظ، سید علی گیلانی سمیت تمام حریت پسند اسیروں کو غیر مشروط رہا کر کے صحافیوں کیخلاف کریک ڈاؤن بند کرکے تمام کالے قوانین منسوخ کرے۔ کل جماعتی کانفرنس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھی گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنماوں بابا جان، افتخار کربلائی کو رہا کرکے ان کے خلاف قائم مقدمات خارج کئے جائیں۔ کانفرنس نے اس عزم کو دوہرایا کہ 84 ہزار 471 مربع میل پر محیط سوا 2 کروڑ نفوس پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر کی 5 اکائیوں وادی کشمیر، جموں، لداخ ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ناقابل تقسیم وحدت ہیں۔
پاکستان بھارت عالمی برادری منقسم ریاست جموں وکشمیرکی جملہ اکائیوں کے رہنماوں کو آپس میں مل بیٹھنے اور انٹرا کشمیر ڈائیلاگ کو ممکن بنانے کے لیے راستہ ہموار کریں۔ کانفرنس نے اقوام متحدہ پر زور دیاکہ وہ ریاست جموں وکشمیر کا فوری مستقل حل نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ریاست جموں و کشمیر کے تیسرے صوبے پانچویں اکائی گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچوان عبوری صوبہ بنانے کے اعلان کیخلاف منگلا سے لیکرمظفرآباد تک زبردست احتجاجی مظاہرے، سول سوسائٹی کے دھرنے، وکلا کا عدالتی بائیکاٹ، طلبا کی ریلیاں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مارچ ، کشمیریوں نے پاک بھارت وزرائے اعظم کو تنازعی ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے برابر قرار دے دیا۔ نریندرمودی نے ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کااعلان کیا تو عمران خان نے گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر سے علیحدہ کرکے پاکستان میں شامل کرلیا۔
31 اکتوبر اور یکم نومبر 1947 میں کشمیریوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے کرنل مرزا حسن خان جرال کی قیادت میں گلگت بلتستان کے ڈوگرا گورنر بریگیڈئیر گھنسارا سنگھ کی رہائشگاہ کا محاصرہ کرکے اسے گرفتار کرلیا، 2 نومبر 1947 کو گلگت خاص کے راجہ شاہ رئیس کو حکومت کا سربراہ، کشمیرانفینٹری کے کرنل مرزا حسن خان جرال کوکشمیری فوج کا سربراہ بنادیا گیا۔ مارچ 1963 میں پاکستان اور چین کے مابین ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت گلگت بلتستان اور چین کے مابین سرحد کی حدبندی کی گئی، گلگت بلتستان کے ان علاقوں کو متنازعہ جموں و کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے معاہدے کو مشروط قرار دیا گیا اور اسے تنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے حل ہونے کے بعد وہاں قائم ہونے والی حکومت کی منظوری کے تابع بنادیا گیا۔

shafiqjarral2698@gmail.coma

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے