Breaking News
Voice of Asia News

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کا تاریخی پس منظر : محمد جمیل بھٹی

پاکستان اور جاپان کے تعلقات درحقیقت بہت پرانے ہیں، پاکستان میں پائے جانے والے بدھ مت کے آثار ان تعلقات کی ابتدا تھی ۔بدھ مت کے اہم مراکز پاکستان میں موجود تھے جن میں موئنجودڑو، ٹیکسلا، بتکدہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور ہڑپہ وغیرہ جسے گندھارا تہذیب بھی کہا جاتا ہے، جاپانی بدھ مت زائرین تواتر سے ان مراکز کی زیارت کو آتے رہے ہیں ۔پاکستان کی آزادی سے قبل لوگوں کے مابین تعلقات کی یہ بنیاد دونوں ممالک کے تعلقات استوار کرنے میں مدگار ثابت ہوئی- ایک اور اہم وجہ کراچی کا جیو سٹریٹیجک محلِ وقوع ہے، جاپان نے کاٹن کی برآمدات کے لیے کراچی کو مخزن جانا اور اپنے کارخانوں اور معیشت کو فروغ دیا- تیسری اہم وجہ 1935 میں جاپان کے شہر کوبہ میں مسجد کا قیام تھا اور چوتھی اہم بات دونو ں ممالک کا مشرقی اقدار پر عمل پیرا ہونا ہے- پانچویں اہم وجہ پاکستان کی قومی زبان ہے جو جاپان میں تقریباً ایک سو سال سے جانی جاتی ہے ۔جاپان میں ٹوکیو سکول آف فارن سٹڈیز جو اس وقت ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن لینگویجز ہے نے 1908 میں اُردو زبان کو ایک کورس کے طور پر شامل کیا۔چھٹی اہم وجہ پاکستان کا کولمبو پلان میں 1950میں شامل ہونا ہے۔جاپان امریکہ کے زیرِ تسلط تھا اور یہ تسلط 1952 میں جاپان امریکہ سلامتی معاہدہ کے تحت ختم ہوا – ساتویں اہم وجہ پاکستان کی یہ خواہش کہ جاپان سے امریکہ کا تسلط ختم ہو اور پاکستان کی عالمی فورمز جن میں فار ایسٹرن کمیشن جیسے فورم پر جاپان کے حق میں آواز بلند کی جسکی وجہ سے دونوں ممالک مزید قریب آئے ۔ آٹھویں اہم وجہ پاکستان کی جاپان کیلئے اقوام متحدہ کی ممبرشپ کیلئے پرزور حمایت ہے اور ایک اہم وجہ سن فرانسسکو کانفرنس ہے جو کہ 1951 میں بلائی گئی تھی، جو کہ 1952 میں ایک معاہدہ کی صورت میں عمل میں آیا، اُس وقت اِس کانفرنس میں چین کو دعوت نہیں دی گئی تھی انڈیا اور برما اپنی وجوہات کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے ۔پاکستان ایشاء کا واحد اہم ملک تھا جس نے شرکت کی تھی ۔ اس میں پاکستانی وفد کی قیادت اس وقت کے وزیرِ خارجہ سر ظفر اﷲ خان نے کی تھی ۔جس میں سر ظفر اﷲ خان نے جاپان کے بارے میں مضبوط دلائل دئیے اور کہا کہ جاپان کو عزت و احترام کا رویہ رکھا جائے ۔ سر ظفر اﷲ نے تاریخی خطاب میں کہا کہ’’جاپان کے ساتھ امن معاہدہ میں انصاف اور مفاہمت کے اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ انتقام اور جبر کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے‘‘۔ جاپان کے اندر سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں جو اصلاحات کی گئی ہیں ان کی بدولت جاپان امن پسند صف میں کھڑا ہوگا اور اہم کردار ادا کرے گا – سن فرانسسکو امن معاہدہ کے بعد پاکستان نے جاپان میں کمرشل بنک کھولا تھا اور جاپان نے کراچی میں اور اس کے بعد1952 دونوں ممالک نے سفارت خانے قائم کیے ۔
جاپان برصغیر پاک وہند کے ساتھ 1947 سے قبل بھی تجارت کر رہا تھا۔ جاپان پاکستان سے کپاس بر آمد کرتا تھا اور تقسیم ہند سے پہلے جاپان کی کئی کمپنیوں نے پاکستان بننے سے پہلے اپنی شاخیں کھولیں۔ 1918 میں Nichimen اور Kanematsu-Ghoso نے اپنی شاخیں کراچی میں کھولیں پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی دہائی کے اندر تقریباََ50جاپانی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے تجارت کی غرض سے اپنے دفاتر کھولے ٹوکیو بینک کی تیسری بیرونی ملک شاخ پاکستان میں کراچی میں کھلی اور جاپان کے External کا دوسرا دفتر بھی کراچی میں کھلا۔جاپان نے پاکستان سے کپاس خرید کر اس کو دھاگے اور کپڑے کی صورت میں بنا کر پاکستان اور دیگر ممالک بیچنا شروع کیا۔ بعد میں جاپان نے پاکستان کو سپننگ مشینری فروخت کیں اور اس کے بعد دھاگہ اور کپڑا پاکستان کی جاپان کو برآمدات کے جزو بن گئے۔ 1947 سے ۱پریل 1948 تک پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارت کچھ زیادہ نہ تھی۔ اپریل 1948سے مارچ 1949تک پاکستان کی جاپان کو کل برآمدات 11.6 ملین اور جاپان سے کل درآمدات 9.9 ملین تھی اور پاکستان کا کل تجارتی منافع 1.7 ملین تھا- اپریل سے ستمبر 1949 میں تجارتی منافع 8.7 ملین تھا-تجارتی معاہدوں سے دونوں ممالک کی تجارت کو کافی سہولت فراہم کی۔
پاکستان نے 1960 میں صنعت کاری کی پالیسی کا آغاز کیا اور جاپان نے پاکستان کی حمایت کی ۔جون 1961 میں جاپان نے پاکستان کو 20 ملین ڈالر قرضے کی پیشکش کی اور 13 نومبر 1961 کو معاہدہ طے پایا- جس کے تحت پاکستان کو چاول کی کاشت، کان کنی، انجینئرنگ، کمیونیکیشن، زراعت اور کاٹن کی صنعت میں جاپان نے تکنیکی امداد فراہم کی ۔1950-60 کے دوران جاپان حکومت نے بیرونی تجارت کے تبادلے پرسخت عملی اقدامات کیے تاکہ جاپانی صنعتکاروں کو فائدہ ہو۔
تجارتی تعلقات کے آغاز سے ہی ٹیکسٹائل ،لیدر اور دھاگہ کی برآمدات ہی پاکستان کی توجہ کا مرکز رہی، لیکن پاکستان کو ٹیکسٹائل کے مختلف ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تھی جو کہ نہیں دی گئی۔ 1968 میں جاپان پاکستانی مصنوعات کا پانچواں بڑا درآمد کنندہ تھا۔ 1970 کی دہائی میں حالات تبدیل ہوئے اور بنگلہ دیش، چائنہ اور ویتنام نے بھی جاپان کے ساتھ تجارت شروع کر دی جس کے نتیجے میں تجارت کا توازن جاپان کے حق میں چلا گیا ۔2012 میں جاپان کی پاکستان کو برآمدات 1547 ملین ڈالر اور پاکستان سے درآمدات 438.6 ملین ڈالر تھیں۔2015میں دونوں ممالک کے درمیانی تجارتی حجم 2 بلین ڈالر تھا، لیکن یہ حجم جاپان کے حق میں زیادہ تھا، جاپان نے پاکستان میں بہت سے پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ہے جن میں انڈس ہائی وے، توانائی کے کئی پرجیکٹس، کوہاٹ ٹنل پراجیکٹ، غازی بھروتھا ڈیم پراجیکٹ، سوزوکی ، ٹیوٹا اور ہنڈا موٹرز وغیرہ شامل ہیں۔پاک جاپان تجارت میں جو روکاوٹیں ہیں ان میں، مارکیٹ میں پاکستان کے مقابلے میں سستی اشیاء، جاپان کی بہت سے ممالک کے لیے سپیشل ٹیرف کی پالیسی کی وجہ سے پاکستانی اشیاء کی قیمتیں جاپان میں باقی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ پاکستان کی برآمدی مصنوعات کی اقسام محدود ہے، پاکستانی مصنوعات میں جدت کا نہ ہونا (Lack of innovation & Product developent بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ اس کے علاوہ جاپان کا دوسرے ممالک میں قائم کردہ اپنی ہی ذیلی کمپنیوں سے خام مال کی خریداری کرنا،گو کہ کچھ وجوہات کی بنا ء پر جاپان کی چائنہ سے ٹیکسٹائل در آمدات کم ہوئی ہیں اگرچہ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن جن ممالک کو جاپان نے فری ٹیرف دے رکھا ہے ان کے لیے زیادہ فائدہ ہوگا۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان جاپان کے لیے کیوں اہم ہے؟ پاکستان جاپان کے لیے کئی حوالوں سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان محل وقوع کے لحاظ سے بہت اہم ہے، پاکستان ایشیا کے دل میں واقع ہے اور توانائی کے ذخائر سے مالا مال وسطی ایشیائی ممالک، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقِ بعید کے ممالک کے لیے راہداری ہے۔ دوسری اہم وجہ پاکستان ایک تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے جہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور پاکستان کی سرمایہ کاری کے حوالے سے پالیسی میں بھی تسلسل ہے اور اب سیکیورٹی کی صورتحال بھی بہت بہتر ہو رہی ہے۔
وارسا پیکٹ اور برلن وال کے خاتمہ اور سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دنیا کی سیاست کا تناظر بدل گیا، 1991 میں سرد جنگ ختم ہوئی اور طاقت کے توازن کا جھکاؤ امریکہ کی طرف ہو گیا اور دنیا یونی پولر کے طور پر اُبھری۔ دنیا کے تمام ممالک نئی خارجہ پالیسی اور باہمی تعلقات بنانے پر مجبور ہو گئے۔پاکستان اور جاپان مغربی کیمپ میں تھے اس لیے ان کے باہمی تعلقات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی۔ جاپان کے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کی وجہ سے جاپان کی خارجہ پالیسی پر امریکہ کی پالیسی کا بہت گہر ااثر ہے اور اس کے اثرات جاپان کے کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں پاکستان اور جاپان کے تعلقات میں بھی یہ پہلو نمایاں ہے جیسا کہ 1965 میں امریکہ نے پاکستان کی امداد روکی تو جاپان نے بھی روک دی۔ 1979 میں سویت یونین کی افغانستان پر حملے میں امریکہ اور پاکستان کی پالیسی ایک تھی اور اس دوران پاک جاپان تعلقات بھی بہت اچھے رہے ۔ 1988 میں جب سویت یونین نے فوجی انخلاء کیا تو اس کے بعد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر نہ رہے اور جاپان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر نہ رہ سکے اور 1998 کے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ اور جاپان نے پاکستان پر معاشی پابندیاں عائد کر دیں۔
نائن الیون دنیا کی تاریخ کا ایک ایسا دن تھا جس نے ایک نئی تاریخ کو جنم دیا ، دنیا کی سب سے بڑی طاقت دہشتگردی کا نشانہ بنی یہ دہشتگردی کس نے کی اس کا فیصلہ جو بھی ہو لیکن لوگوں کے ابہام دور نہ ہو سکے۔اس کے بعد امریکہ ایک طاقت تو ہے لیکن دنیاکی سب سے بڑی طاقت نہیں رہا۔ اس کا ثبوت شام میں بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ نہ کر سکنا یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ اب طاقتور تو ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ کے اتحادی اپنی آزاد پالیسی بنانے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جاپان بھی آزاد پالیسی بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ جاپان کے چین کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جاپان کو پاکستان کے ساتھ باہمی بنیادوں پر ہی دیکھنا چاہیے۔ جاپان کی جو پالیسی بھارت کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے ہے وہی پاکستان کے لیے ہونی چاہیے۔ جاپان آسیان کا آبزرور ممبر ہونے کے ناطے سے جنوبی ایشیا میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان جاپان تعلقات بہتر بنانے کے لیے دونوں ممالک کے لوگوں کا رابطہ ہونا، انٹلکچول اینڈ کلچرل ایکسچینج، جاپان میں موجود پاکستانی کمیونٹی اور پاکستان میں موجود جاپانی کمیونٹی ان تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
edotorni1@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے