Voice of Asia News

بچوں سے زیادتی اور ویڈیواسکینڈل ، ڈارک ویب سرغنہ کو 3 بار سزائے موت سنادی گئی

راولپنڈی (وائس آف ایشیا) بچوں سے زیادتی اور ویڈیواسکینڈل کے مرکزی مجرم ڈارک ویب سرغنہ سہیل ایاز کو 3 بار سزائے موت سنادی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی نے بچوں سےزیادتی اورویڈیواسکینڈل کیس کافیصلہ سنادیا ، استغاثہ کی جانب سے سہیل ایازکے خلاف تین مقدمات میں عائدالزامات درست ثابت ہوئے ، جن کی بناء پر عدالت کی طرف سے سہیل ایاز کو دفعہ 367 اے کے تحت موت کی سزا سنادی گئی جب کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ377 کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے ، مجرم کودو مزید دفعات کے تحت7سال اور15سال کی سزابھی سنائی گئی ، اس کے ساتھ ساتھ مجرم کو مجموعی طور 15 لاکھ روپے جرمانہ ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ مجرم سہیل ایاز کو فیصلے کے بعد پولیس کی سخت نگرانی میں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا جب کہ اس کے ساتھی ملزم خرم طاہر عرف کالو کو 7 سال قیدکی سزا کا حکم دیا گیا۔یاد رہے کہ راولپنڈی پولیس نے درجنوں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم سہیل ایاز کو گرفتار کیا تھا ، 12 نومبر کو گرفتار کیے جانے والا ملزم لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کے سرغنہ سہیل ایاز کو گرفتار کیا تھا۔ایس ایس پی راولپنڈی فیصل خان نے سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ کی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں عالمی گروہ کے سرغنہ سے متعلق بریفنگ دی۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ہوا،جس میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز ڈارک ویب پر اپلوڈ ہونے کا معاملہ زیر غور آیا۔ایس ایس پی نے بتایا کہ سہیل ایاز کیس میں ڈی این اے رپورٹس آ گئی ہیں اور ملزم کے گھر سے بازیاب ہونے والے ایک بچے کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ، انہوں نے کہا ملزم کے کمپیوٹرکا ڈیٹا بھی ریکور کیا گیا جس سے ایک لاکھ بچوں کی تصاویر ملی ہیں جب کہ ملزم سہیل ایاز اور متاثرہ بچوں کی ڈرگ رپورٹس بھی مثبت آئی ہیں جب کہ پولی گراف ڈی این اے بلڈ ٹیسٹ بھی میچ کر گیا۔ایس ایس پی راولپنڈی نے کہا کہ اتنے ثبوت ملنے کے بعد یہ کیس بہت مضبوط ہو گیا ہے۔بچوں کو زبردستی نشہ کروایاجاتا تھا ، بچوں کے مطابق چرس اور آئس کا نشہ کروا کر زیادتی کی جاتی تھی ، وہ بات بھی کنفرم ہو گئی ہے، سہیل ایاز خیبر پختونخوا میں تین لاکھ روپے کی تنخواہ پر ملازمت کررہا تھا،چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ وہ دو مرتبہ ڈی پورٹ ہو کر آیا تو کیوں اس کی شناخت نہیں ہوئی خیبرپختونخوا حکومت میں نوکری کیسے کی جس شخص کی لائسنسنگ منسوخ ہوئی ہو تو اس کو نوکری کیسے دی گئی،راولپنڈی پولیس نے اچھا کام کیا ہے ہم اس کو سراہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں اس کیس کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں ، چاہے کسی کی بھی پشت پناہی ہو اس کو نہیں جانے دینا، ہم ہر چھوٹی بڑی چیزوں پر جے آئی ٹی بنالیتے ہیں،ہم کیوں نہیں ایسے مسئلوں پر جے آئی ٹی بناتے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے