Breaking News
Voice of Asia News

پشاور مسجد میں خود کش دھماکہ:محمد قیصر چوہان

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورمیں کوہاٹی گیٹ کے قریب قصہ خوانی بازار کی گلی کوچہ رسالدار میں واقع امامیہ جامع مسجد میں اپنے رب کے حضور سر بسجودنمازیوں کو دہشت گردوں نے خون میں نہلا دیا۔ عین نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 63افراد کی شہادت اور 200سے زائد کے زخمی ہیں۔ابتدائی تفیش کے مطابق خودکش حملہ آور دو سہولت کاروں کے ساتھ رکشہ میں آیا، ایک ہینڈلر سڑک پر ہی رک گیا جبکہ ایک حملہ آور کے ہمراہ گلی میں داخل ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق سیاہ لباس میں ملبوس بمبار نے پہلے سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی پھر منبر کے سامنے آکر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں 5سے 6کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ کوچہ رسالدار دھماکے بعد قصہ خوانی سمیت ملحقہ بازار جن میں کوہاٹی گیٹ، کوچی بازار، جہانگیر پورہ و دیگر کاروباری مراکز شامل تھے بند ہوگئے اورپورا شہر سوگ میں ڈوب گیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق داعش نے امامیہ جامع مسجد پشاور میں دہشت گردی کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ افغانستان میں بھی طالبان حکومت کے قیام کے بعد داعش کی جانب سے دہشت گردی کی کئی بڑی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ داعش کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ ایک پْراسرار مقاصد کی حامل مسلح تنظیم ہے جس نے عرب دنیا میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعے سے مسلمانوں کے مختلف مسالک میں منافرت کو ہوا دے کر بہت بڑے پیمانے پر باہمی قتل و غارت گری کی راہ ہموار کی۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ یہی خونی کھیل اب پاکستان میں شروع کرنے کا ہدف پاکستان دشمن طاقتوں کی جانب سے اس تنظیم کو دیا گیا ہو۔اس کے بعد لگتا ہے کہ پاکستان ’’ دہشت گردی کی نئی گریٹ گیم ‘‘ کا شکار ہو گیا ہے۔عالمی دہشت گرد ممالک امریکہ اور اسرائیل ہی دہشت گرد تنظیم داعش کے بانی ہیں۔جنہوں نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف دہشت گرد تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔سانحہ پشاور کی جو تفصیلات اب تک سامنے آئی ہیں ان سے واضح ہے کہ یہ کارروائی عین اسی طریق کار کے مطابق انجام دی گئی جو بالعموم مذہبی بنیادوں پر قائم دہشت گرد تنظیموں کے مختلف دھڑے ماضی میں اختیار کیا کرتے تھے۔
افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان گزشتہ بیس برس دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور انتہاپسندوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں، فوجی جوانوں سمیت 70 ہزار انسانی جانوں کا نقصان اٹھایا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اربوں ڈالرز کا مالی نقصان برداشت کیا ہے۔داعش نے بھی افغانستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ گروپ زیادہ تر سرحدی علاقے میں متحرک ہیں، لیکن یہ بھی درست ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں جہاں سے ان کا صفایا کیا جا چکا تھا وہ وہاں دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش میں ہے۔خطے میں غیر ملکی جہادی مسلح تنظیموں کا غلبہ بڑھا، امن عالم کو انسانیت کے بچاؤ کے لیے کثیر ملکی اقدامات کرنا پڑے، امن کے لیے بھی پاکستان ہی کو زیادہ انسانی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا، دہشتگردی کے پیر تسمہ پا نے پاکستان کی سالمیت کا گھیراؤ کرلیا، داخلی طور پر پاکستان میں دہشتگردی بڑھی، معاشی اور اقتصادی معاملات تلپٹ ہوئے اور آج بھی پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے، خطے میں افغانستان کی صورتحال سے نئے چیلنجز در پیش ہیں، افغانستان کو ابھی تک سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ادھر اقتصادی اور معاشی مسائل پاکستان کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں، فیٹف کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔ جمہوری حکومت کو عالمی، مقامی اور علاقائی سطح پر بے پناہ مسائل کا سامنا ہے۔ معیشت کے مسائل، سیاسی، اقتصادی چیلنجز اور کورونا وائرس کے معاملات نے پاکستان کی توانائیوں کو منقسم کرتے ہوئے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، امن پاکستان کے لیے بنیادی مسئلہ بنا ہوا ہے، جسے دشمن قوتیں دہشت گردی کے لیے مسلسل استعمال کر رہی ہیں۔حکمرانوں کو بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دور اندیشی، تدبر اور جمہوری بصیرت سے کام لینا ہے، سنگین مسائل کے ہوش مندانہ حل کے لیے رہنماؤں کو کلیدی کردار کی ادائیگی جب کہ اہم بریک تھرو کے لیے سیاسی جمود اور تشدد کی سیاسی فضا میں جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کرنا گزیر ہے، ساتھ ہی اسے دشمنوں اور عالمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایک ایسی دنیا کا چیلنج درپیش ہے جو عجیب و غریب چیلنجز سے دوچار ہے۔ دنیا حقیقت میں دلیل و بے دلیلی کے تذبذب میں گرفتار ہے۔ اس حقیقت کا ادراک ناگزیر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک طویل ترین جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وطن عزیزکو عدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے دہشت گردوں اور شر پسندوں کو شہ دی جارہی ہے اور اس ملک کو میدان جنگ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن جنگ کے اس آخری راؤنڈ میں بھی پاکستان کے دشمنوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر حفاظتی باڑکا برقرار رہنا ملک کے دفاع کے لیے انتہائی اہمیت اور افادیت کا حامل ہے ، اس طرح دہشت گردوں کی افغانستان اور پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت پرقابو پانے میں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔اگرچہ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کیا ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مل کر پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی اور خطرناک جنگ لڑی گئی اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اپنے وسائل سے لڑی ہے اور لڑ رہا ہے۔ افغانستان میں داعش ، ٹی ٹی پی اور دوسری دہشت گرد تنظیموں نے اپنے نیٹ ورک بنا رکھے ہیں، طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد بھی صورتحال میں تبدیلی نہیں آئی۔دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے اور یہاں کارروائیاں کرتے ہیں ، صوبہ خیبرپختونخوا میں بہت سی کارروائیوں میں یہ دہشت گرد گروہ ملوث پائے گئے۔باچا خان یونیورسٹی مردان اور اے پی سی پشاور کے واقعات میں تو یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو مقامی سہولت کار لے کر آئے اور جو مقامی دہشت گرد بھی ان واقعات میں ملوث پائے گئے، انھیں بھی افغانستان سے ہی کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ ایسے موبائل فون استعمال کیے جا رہے تھے، جن کی سمیں افغانستان سے جاری کی گئی تھیں۔ یہ سارے گروہ وہ ہیں جو کسی نہ کسی طرح افغانستان پہنچ کر اپنے آپ کو منظم کر چکے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے مسئلے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بلاامتیاز عبرتناک سزا دی ملنی چاہیے کیونکہ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے یا داعش ، یہ سب پاکستان میں موجود اپنے سہولت کاروں ، مخبروں اور کیرئیرز کے بغیر یہاں دہشت گردی کی کارروائی نہیں کرسکتے، لہٰذا دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں چھپے ان کے سہولت کاروں، مخبروں ، فنانسرز اور کیرئیرز کا سراغ لگا انھیں کیفرکردار تک پہنچایا جانا انتہائی ضروری ہے۔اور ان سے کوئی رو رعایت نہیں ہونی چاہیے۔اگر پشاور کی امامیہ جامع مسجد میں اس خود کش حملے کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی ہے تو افغان طالبان کی موجودہ حکومت سے اس بنیاد پر پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنا بھی داعش کی اس تازہ کارروائی کا ایک بڑا مقصد ہو سکتا ہے کیونکہ یہ پاکستان مخالف طاقتوں کی عین تمنا ہے۔ وزیراعظم کا یہ انکشاف نہایت اہم ہے کہ حکومت کو اس بات کا مکمل علم ہو گیا ہے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے چنانچہ پوری قوت سے ان کا تعاقب کیا جارہا ہے اور وزیراعظم بذاتِ خود اس کارروائی کی نگرانی کررہے ہیں۔ ایسا ہے تو یہ توقع بیجا نہیں کہ اس دہشت گردی کے اصل ذمہ داروں تک قانون نافذ کرنے والے ادارے بہت جلد پہنچ جائیں گے اور مجرم انصاف کے کٹہرے میں لے آئے جائیں گے۔
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی پاکستان کو حتمی فیصلہ کرلینا چاہیے۔ بھارت تو ایک کھلا دشمن ہے لیکن افغانستان بھائی چارے کی آڑ میں پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے،افغانستان کو ہمارے ملک میں مخبروں اور سہولت کاروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پاکستان کو اپنی شمال مغربی سرحد کو ہر صورت میں محفوظ بنانا چاہیے۔ افغانستان اور ایران کے سرحد کو کھلا چھوڑے رکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ سرد جنگ کی پالیسی میں تو یہ ٹھیک تھا مگر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جغرافیائی سرحدوں کو محفوظ بنا انتہائی ضروری ہے۔پاکستان دہشت گردی کے عالمی مسئلہ سے نمٹ رہا ہے، عالمی ماہرین جانتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد سے دنیا غیر محفوظ ہوئی ہے، امریکا نے افغانستان کی جنگ کا ملبہ جن مفروضوں پر گرایا ہے اس کا ہدف زیادہ تر پاکستان بنا، اسے افغان جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بنایا گیا حالانکہ افغانستان کی سلامتی کے خلاف پاکستان کا کوئی عسکری کردار نہیں تھا، جہادی تنظیموں نے امریکہ اور افغانستان کے درمیان ایک جنگ چھیڑی جس کے جواز پر امریکی مدبرین، عسکری اسٹیبلشمنٹ اور جنگی ماہرین سمیت امریکی حکمراں بھی مختلف النوع انداز نظر پیش کرتے رہے ہیں۔
پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے، یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ جاری ہے ،کیونکہ بد قسمتی سے ہمارے میں ابھی تک غیرملکی دہشت گردوں کے سہولت کار موجود ہیں ۔ دہشت گردی کے تازہ چیلنج کا سر آغاز ہی میں کچل دیا جانا بلاشبہ قطعی ناگزیر ہے کیونکہ اس فتنے کا دوبارہ پھیلناملک و قوم کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگا۔ پچھلے دور میں اس چیلنج سے نمٹنے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہمارے خفیہ اداروں نے جو کلیدی کردار ادا کیا تھا، اُسے ازسرنو پوری طرح بحال کرکے ایک بار پھر ویسے ہی فیصلہ کن نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آپس کے اختلافات کو بھلا کر ملی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے اور دشمن کے خلاف ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ، تاکہ وہ اپنے عزائم میں ناکام و نامراد رہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں