Voice of Asia News

اسرائیلی دہشت گردی، دو سال میں75فلسطینی بچے شہید، پانچ ہزار زخمی

مقبوضہ غزہ(وائس آف ایشیا )فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ جنوری 2018 کے بعد اب تک اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 75 فلسطینی بچے شہید اور پانچ ہزار 137 زخمی یا معذور ہوئے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 66 فلسطینی بچے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق زخمی اور معذور ہونے والے تین فلسطینی بچوں کو علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ گرفتار کیے گئے فلسطینی بچوں میں سے 70 کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قابض صہیونی دشمن کی طرف سے نہ صرف فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان کے والدین کو بھی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں ہراساں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے نتیجے میں 177 فلسطینی بچے گھروں سے محروم ہوئے۔ جب کہ مکانات مسماری سے جزوی طور پر 1001 بچہ متاثر ہوا ہے۔اس دوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 618 بچے اپنے خاندان کے کم سے کم ایک فرد سے محروم ہوئے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے