Voice of Asia News

برطانوی نشریاتی ادارے نے دنیا بھر کی 100 بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی

لندن ( وائس آف ایشیا )معروف برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈ کاسٹنگ بی بی سی نے ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کی 100 بااثر خواتین کی فہرست جاری کردی، جس میں 2 پاکستانی خواتین بھی شامل ہیں۔ہر سال کی طرح اس بار بھی فہرست میں شامل خواتین کا انتخابات مختلف شعبہ جات سے کیا گیا ہے، رواں برس علم، تخلیقی صلاحیت، شناخت اور قیادت جیسی 4 اہم کیٹیگریز میں خواتین کو تقسیم کیا گی اہے۔100 بااثر خواتین کی فہرست میں یورپی ملک فن لینڈ کی نوجوان ترین خاتون وزیر اعظم پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان سے لے کر بھارت کی عمر رسیدہ احتجاج رہنما بلقیس بانو جیسی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔مذکورہ فہرست کا مقصد دنیا کے مختلف ممالک میں سماجی تبدیلی، خواتین کے تحفظ اور آئیڈیل معاشرے کے لیے کوششیں کرنے والی خواتین کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔بی بی سی ہر سال مذکورہ فہرست جاری کرتا ہے، گزشتہ سال اس فہرست میں پاکستان کی صرف ایک ہی خاتون بلوچستان کی انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر کو شامل کیا گیا تھا۔اس سال دنیا کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں پاکستانی اداکارہ و اقوام متحدہ (یو این) کی سفیر برائے خیر سگالی ماہرہ خان اور پاکستان سے غربت کے خاتمے کے حکومتی پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو شامل کیا گیا ہے۔فہرست میں جہاں پاکستان سے صرف دو خواتین کو شامل کیا گیا ہے، وہیں بھارت سے 4 خواتین کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ایک عمر رسیدہ مسلمان خاتون بلقیس بانو بھی ہیں، جنہیں احتجاجی رہنما کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔اسی طرح بھارت سے ایک موسیقار، ایک ایتھلیٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی کارکن کو بھی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی فہرست میں امریکا اور برطانیہ سے زیادہ خواتین کومنتخب کیا گیا ہے، جب کہ بنگلہ دیش سے بھی اس سال 2 خواتین کو فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔فہرست میں بنگلہ دیش کی سابق سیکس ورکر رینا اختر کو بھی شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے کورونا کی وبا کے دوران جسم فروش خواتین کے 400 خاندانوں کو راشن اور کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں۔اسی طرح بنگلہ دیش سے ایک استانی کو بھی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے، افغانستان اور ایران سے بھی دو دو خواتین کو فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔فہرست میں مشرق وسطی ممالک شام، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) مصر اور مراکش سے بھی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔تاہم سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک کی کوئی خاتون فہرست میں شامل نہیں کی گئی۔فہرست میں یورپی ملک فنڈ لینڈ کی نوجوان ترین خاتون وزیر اعظم سانا مارین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔a

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے