Voice of Asia News

حکومت تجارتی پالیسی میں صنعت کار کو شامل کرے معروف بزنس مین محمد صادق خان نور زئی کا ’’وائس آف ایشیا‘‘ کو خصوصی انٹرویو محمد قیصر چویان

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبرا ور اولڈ سپیئر پارٹس ڈیلر کے چیف ایگز یکٹومعروف بزنس مین محمد صادق خان نور زئی نے کہا کہ آٹو موبائل انڈسٹری انتہائی اہمیت کی حامل ہے پاکستان میں آٹو موبائل انڈسٹری کو فروغ دے کر نہ صرف بھاری آمدن حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ قوم کو بھی موثر جدید ٹیکنالوجی کی حامل آٹو موبائل فراہم کی جا سکتی ہے جس سے عوام کو ریلیف میسر ہو سکتاہے مگر افسوس کی بات ہے کہ ملک میں عرصہ دراز سے بے شمار کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی مگر جدید پلانٹ نہیں لگائے گئے جس سے ملک وقو م کو فائدہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ کوئی اتھارٹی نہیں ہے کہ کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے کوئی اتھارٹی نہیں ہے کہ جو پرائس کو کنٹرول کر سکے اور ایک ایکٹ کے تحت کام کو چلایا جا رہا ہے ملک میں کاروں اور دیگر گاڑیوں کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھائی جا رہی ہیں موثر میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے غریب آدمی گاڑی خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’وائس آف ایشیا ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرکمپنیاں گاڑیاں بنانے کیلئے خام مال درآمد کرتے ہیں تو کیا انہوں نے آج تک مقامی گاڑیاں بنانے کیلئے کوئی ترقی نہیں کی اہم چیزیں ابھی تک امپورٹ کی جاتی ہیں،ملک میں 40سالوں سے یہ کمپنیاں ٹیکنالوجی کو فروغ نہیں دے سکیں، کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی 2019کی رپورٹ کے مطابق آٹو موبائل کمپنیوں نے چھ ہزار ارب روپے سے زائد صارفین سے وصول کئے ہیں، ملک میں کتنے پرانے پلانٹ لگے ہوئے ہیں مگر گاڑیوں کے ا نجن ، ٹرانسمیشن اور دیگر اہم چیزیں ایمپورٹ کی جاتی ہیں اور مقامی سطح پر عام پرُزہ جات بنائے جاتے ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ دنیا ای الیکٹرک پر جا چکی، ہم اب تک ہائبریڈ گاڑیوں کا پلانٹ نہیں لگا سکے۔جاپان سے آنے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی اتنی ہے کہ اس کو خریدا نہیں جا سکتا، پاکستان میں 10 لاکھ کی گاڑی 40 لاکھ کی ملتی ہے صارفین سے ضرورت سے زیادہ پیسے لئے جاتے ہیں، پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں بنگلادیش اور انڈیا کے مقابلے میں ڈبل ہے۔ملک میں گاڑیوں پر کوئی پرائس اور کوالٹی کنٹرول نہیں۔ کمپنیاں عوام سے گاڑیوں کیلئے پیسے ڈالروں کے حساب سے لیتے ہیں تو کوالٹی بھی دیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لوگ برقی گاڑیوں کی طرف جا رہے ہیں ہمیں بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے جب تک ملک میں انسٹالیشن پلانٹ نہیں لگے گے عوام کو فائدہ نہیں ہو گا ملک میں برقی گاڑیوں کیلئے مقامی ٹیکنالوجی متعارف کروانی چاہئے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبرا ور اولڈ سپیئر پارٹس ڈیلر کے چیف ایگز یکٹومعروف بزنس مین محمد صادق خان نور زئی نے کہا کہ موٹر سائیکل سپیئرپارٹس انڈسٹری ملکی معیشت کی مضبوطی میں حصہ اداکررہی ہے،ملک بھر میں موزوں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی عدم موجودگی میں موٹرسائیکلیں غریب اور متوسط طبقے کی ضروری سواری ہے، موٹرسائیکلوں کے سپیئر پارٹس پر بھاری ڈیوٹیوں کا نفاذ سہولیات سے محروم غریب موٹر سائیکل سواروں کے زخموں پر نمک ڈالنے کے مترادف ہے، حکومت کو چاہئے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھے اور موٹرسائیکل سپیئر پارٹس کی درآمد پر پابندی کو ختم کرتے ہوئے اس کی ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ مقامی مارکیٹ میں مسابقت پیدا ہو اور عام آدمی کو ریلیف مل سکے، جب ہم لاکھوں موٹرسائیکلیں تیار کرسکتے ہیں تو ہم برآمدات کیلئے کیوں زیادہ پیدا نہیں کرسکتے ہیں،ہمیں روایتی برآمدات سے انحراف کرتے ہوئے موٹرسائیکلوں کو اپنی برآمدی فہرست میں اہم جزو کے طور پر شامل کرنا ہوگا،پاکستان کی معاشی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے پاس ایکسپورٹ سرپلس ہو۔ انہوں نے کہا کہ موٹرسائیکل سپیئر پارٹس کی درآمد پر حد سے زیادہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز باالخصوص 35فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 11 فیصد اضافی ڈیوٹی کو کم کیاجائے کیونکہ بے پناہ ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی وجہ سے نہ صرف لاگت بڑھ جاتی بلکہ یہ سپیئر پارٹس کی خریدغریب عوام کی پہنچ سے دور ہوجاتی ہے۔ موٹرسائیکل سپیئر پارٹس کے دراآمدکنندگان مذکورہ بالا کسٹم ڈیوٹی اور ایڈیشنل ڈیوٹی کے علاوہ بھی سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس سمیت متعدد دیگر ٹیکس ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا تیار سامان غیرمسابقتی ہوجاتاہے۔ موٹرسائیکل سپیئر پارٹس کی وسیع پیمانے پر اسمگلنگ کی وجہ سے درآمد کنندگان اور ڈیلرز کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور موجودہ صورتحال میں وہ اسمگل شدہ سپیئر پارٹس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ موٹرسائیکل سپیئر پارٹس پر حد سے زیادہ ٹیکس، ڈیوٹیز اور زائدویلیو ایشن رولنگ عائد ہیں جن کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہو اور قانونی درامدآت کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبرا ور اولڈ سپیئر پارٹس ڈیلر کے چیف ایگز یکٹومعروف بزنس مین محمد صادق خان نور زئی نے کہا کہ ملک و معاشرے کی تعمیر وترقی میں صنعت وتجارت کا اہم ترین کردار ہوتا ہے اور قومی معیشت کی مضبوطی میں تاجر برادری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ، وفاقی وصوبائی حکومتیں تاجربرادری اور صنعت کاروں کو در پیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ چمن ، تفتان،پشاور ،کراچی اور لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاپاکستانی تجارتی سرگرمیوں میں اہم ترین کردار ہے لہٰذا وفاقی حکومت بارڈر مارکیٹس بنائی جائیں، پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہے کہ چمن اور تفتان بارڈرز پر بارڈر مارکیٹس بنانے پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی چمن میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنایا جائے۔امپورٹ ایکسپورٹ اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بہتر بنانے کیلئے چمن بارڈر کیلئے پاک آرمی ،آئی ایس آئی ،کسٹمز اور چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندؤں پر مشتمل کمیٹی بنائے جائے جبکہ ملکی تجارتی پالیسی سازی میں ان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائند وں کو بھی ضرور شامل کرے۔ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی بھرمار کی وجہ سے برآمدی صنعتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جس سے ملکی برآمدات متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کے ریونیو میں بھی متواتر کمی ہورہی ہے لہٰذا حکومت صنعتی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیز میں کمی کرکے برآمدی صنعتوں کو مناسب داموں خام مال کی دستیابی یقینی بنا کر عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ بجلی وگیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اورلوڈشیڈنگ کے باعث ملک کی درجنوں ٹیکسٹائل ملز بند ہو گئی ہیں، جس کے سبب لاکھوں افراد بے روزگارجبکہ انڈسٹری مالکان مالی مشکلات کا شکارہیں ، پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے جامع اور طویل مدتی معاشی پالیسی بنائی جائے اورپالیسی بناتے وقت متعلقہ شعبہ کے اسٹیک ہولڈرز سے ضرور مشاورت کی جائے، ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹرکوگیس وبجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستنشٰی قراردیکرگیس وبجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مینوفیکچرزاورتاجرمقامی وعالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات مقابلے کی سطح پربرقراررکھ سکیں ، توانائی بحران ختم کیے بغیر ملک کی اقتصادی ،صنعتی اورمعاشی ترقی ممکن نہیں ہے لہٰذا حکومت توانائی بحران ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرے اورحکومت ملک بھرمیں گیس کے یکساں نرخ مقررکرے کیونکہ مہنگی انرجی اورکئی طرح کے ٹیکسوں کے بعد پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے جس کے باعث مقامی انڈسٹری اورصنعتیں مہنگی اشیا تیارکرکے انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایکسپورٹ کرنے کی حامل نہیں رہیں ۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبرا ور اولڈ سپیئر پارٹس ڈیلر کے چیف ایگز یکٹومعروف بزنس مین محمد صادق خان نور زئی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکمران ملکی ترقی اور عوام کو خوشحال بنانے کیلئے جاپان کو رول ماڈل بنائے ،کیونکہ جاپانی قوم نے اجتماعی سوچ اپنا کرپوری یکسوئی،سچائی اور ایمانداری کے ساتھ انتھک محنت کو اپنا وطیرہ بنا کرٹیکنالوجی سمیت دیگرمیں شعبوں میں ناقابل تسخیر ترقی کی منازل طے کیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر پاکستان کے نوجوانوں جاپان بھجوائے جہاں پر انہیں ٹیکسٹائل مشینری ، مشین ٹولز، فوڈانڈسٹری، مِلک، فیبرکس، شپ انڈسٹری، فِش فارمنگ، ریلوے، واٹر سینی ٹیشن، موسم، فلڈ کنٹرول، نیچرل ڈیزاسسٹر، ماڈرن فرنیچر، بلڈنگ آرکیٹیکٹ، کمپیوٹر، کاغذ انڈسٹری، رنگ سازی، موٹر سائیکل، کار، ٹی وی کیبل، سرجیکل سامان (جس میں آپریشن تھیٹروں کی تیاری شامل ہو)، پٹرولیم، منرلز، پولٹری، فارماسوٹیکل، انٹرنیشنل سیلزمین شپ، ڈھور ڈنگر، اضافی پیداوار، بیجوں کی امپرومنٹ، پودوں اور فصلوں کی بیماریاں، کھیتی باڑی کے جدید طریقے، پھولوں کی صنعت، ایڈورٹائزنگ انڈسٹری، زیورات سازی، کارپٹ، شوگر، تمباکو انڈسٹری، میک اپ، گھی انڈسٹری، پلاسٹک انڈسٹری، گارمنٹس اور دیگر سینکڑوں شعبہ جات کی تکنیکی تربیت دلائی جائے ،تاکہ پاکستان بھی ان شعبوں سے فائدہ اُٹھا کر اپنی معیشت مضبوط بناسکے۔کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبرا ور اولڈ سپیئر پارٹس ڈیلر کے چیف ایگز یکٹومعروف بزنس مین محمد صادق خان نور زئی نے کہا کہ پاکستان میں جاپانی سرمایہ کاری زیادہ تر آٹو موبائل، موٹر سائیکل انڈسٹریز، سٹیل ملز، فارمیسی کے شعبے میں ہے تاہم بلوچستان میں موجود گولڈ، کاپر، زنک اور قدرتی گیس کے ذخائر میں بھی جاپان کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے،بلوچستان میں موجود معدنی وسائل کے ذخائر نہ صرف بلوچستان کی ترقی کیلئے اہم ہیں،بلکہ یہ سارے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے