Breaking News
Voice of Asia News

جموں کے پر امن ماحول کو تباہ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں ‘خالد حسین

سرینگر (وائس آف ایشیا)بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیںسابق بیوروکریٹس سمیت مسلم کارکنوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ ہندو انتہا پسندوں کے مسلمان دشمن عزائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر خصوصا جموں خطے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوششیں کر رہے ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سابق بیوروکریٹ خالد حسین اور ایڈوکیٹ شیخ شکیل احمد نے جموںمیں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جموں کے مسلمانوں کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے کسی سے سند کی ضرورت نہیں ہے۔بعض عناصر کی طرف سے مسلمانوںپراراضی پر قابض ہونے کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کے ذریعے جموں کے پرامن ماحول کو تباہ کرنے کی جان بوجھ کر کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ روشنی ایکٹ کے تحت مٹھی بھر مسلمانوںنے زمین حاصل کی تھی ۔خالد حسین نے جو سابقہ ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیںکہاکہ بعض عناصر مسلمانوںپر جموں میں آبادی کا تناسب بگاڑنے کا الزام لگا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھکا رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ان کا خاندان جموںمیں گجروں اور بکروالوں کے ہمراہ نسلوں سے آباد ہے ۔ پریس کانفرنس میں ممتاز شخصیات تاجرجاوید اقبال ، سماجی کارکن عبدالمجید اور بٹھنڈی کے سرپنچ حفیظ اللہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر ایڈوکیٹ شیخ شکیل احمد نے کہا کہ بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو عوام کو تقسیم کرنے کیلئے سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے بٹھنڈی میں ہونے والے مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جموں شہر کے علاقوں بھٹندی ، چواڈی ، سنجیوان اور گجر نگر میں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جانا چاہیے کیونکہ ان علاقوںمیں مسلمان اقلیت میں موجود ہیںاور وہ شدید خطرہ محسوس کر رہے ہیں ۔ انہوںنے جموں کے تمام شہریوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی ضرورت پر زوردیا ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے