Voice of Asia News

ہماری جدوجہد نظام کی تبدیلی کے لئے,مفاد  کے لیئے نہیں، شاہد خاقان عباسی

کراچی( وائس آف ایشیا )شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ ہماری جدوجہد نظام کی تبدیلی کے لئے ہے، مفاد اور اقتدار کے لیئے نہیں، سلیکٹڈ حکومت اور ہائبرڈ نظام ناکام ہوچکا ہے۔پیرکومقامی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی و دیگر کے خلاف ایم ڈی پی ایس او کی غیر قانونی تقرری کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت ملزم عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ میرے وکیل کو کورونا ہوگیا ہے،نیب پراسیکیوٹر بھی کورونا کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے سماعت بغیر کسی کارروائی کے 21 دسمبر تک ملتوی کردی۔سماعت کے بعدمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مسلم لیگ(ن)کے سینئرنائب صدراور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈھائی سال سے کیس چل رہا ہے، کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ان مقدمات میںکوئی حقیقت نہیںہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے بھی کہاہے کہ مقدمات سیاسی دبائو کے لئے استعمال کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقدمات کبھی نہیں چل سکتے۔ ایسے مقدمات سے عوام کے عدالتوں سے اعتبار ختم ہوتا ہے۔ ایل این جی کی مد میں کروڑوں روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ کوئی افسر فیصلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔آج گیس کی قلت کا سامنا ہے۔ بجلی کی پیداوار فرنس آئل سے ہورہی ہے۔ بجلی کی پیداوار آئل سے کرنے میں نالائق نہیں کرپشن کا معاملہ ہے۔شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ وزراء جلسے کررہے ہیں۔ پی ڈیم ایم کے جلسے کو روکنے کے لئے پنجاب حکومت اور پولیس سامنے ہے۔ آج حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ اوچھے ہتھکنڈوں سے عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکمرانوں کو عوام کی تکلیف کا احساس نہیں ہے۔سلیکٹڈ حکومت اور ہائبرڈ نظام ناکام ہوچکا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ ہماری جدوجہد ملک کے نظام کی تبدیلی کے لئے ہے۔ مفاد اور اقتدار کی جنگ نہیں ہے۔ ملک آئین کے مطابق چلے۔ تمام ادارے آئینی حدود میں کام کریں۔ آئین میں حلف کا سب کو احترام کرنا چاہیئے۔مسلم لیگی رہنمانے کہاکہ ہم گھبرانے والے نہیں ہیں۔ آج ہم پر جھوٹے کیسز بنائے جارہے ہیں۔ چینی اور آٹا، بجلی اور گیس کی قلت کا ذمہ دار کون ہی ہر پاکستانی سوال کررہا ہے، حکومت کے پاس جواب نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے