Breaking News
Voice of Asia News

جمہوریت کے اسٹیج پر’’ کٹھ پتلی تماشہ‘‘ :محمد قیصر چوہان

اُردو لغت کہتی ہے۔ کٹھ پتلی، کاٹھ کی مورتی، بے اختیار شخص جو دوسرے کے اشارے پر چلتا ہے۔ آپ نے کٹھ پتلی کا تماشا تو ضرور دیکھاہوگا۔رنگ برنگ کی کٹھ پتلیاں آتی ہیں ،رقص کرتی ہیں اوراپنے حصے کا کردار بخوبی اداکر کے چلی جاتی ہیں۔تماشا اتنا مسحور کن اور دلچسپ ہوتا ہے کہ دیکھنے والی ہر نگاہ محو ہو کر رہ جاتی ہے۔اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جو تماشا دیکھ کر آپ کٹھ پتلیوں کو داد دینے کیلئے تالیاں بجاتے ہیں اس کا اصل حق دار تو وہ تماشا گر ہوتاہے جو پردے کے عقب سے نہایت مستعدی کے ساتھ ان کی ڈوریاں ہلا رہا ہوتاہے۔ جاندار پتلیاں، کاٹھ کی مورتی سے زیادہ اچھی طرح پرفارم کرتی ہیں کیونکہ ان کے منہ میں اپنی زبان ہے اس لیے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈور ہے وہ چپکے سے ان پتلیوں کے کان میں وہ سب کچھ کہہ دیتے ہیں جو ان پتلیوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی پتلی اگر اسکرپٹ سے ہٹ کر اپنی مرضی کا کھیل دکھانا چاہتی ہے تو اسے آسانی سے اسٹیج سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔کچھ کٹھ پتلیاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی بٹھائی جاتی ہیں جو اگر اسکرپٹ کے عین مطابق اپنا کام جاری رکھتی ہیں تو عزت، شہرت، دولت، ایوارڈ اور غیر ملکی دورے ان کا مقدر بنتے ہیں۔ ایسی کٹھ پتلیاں عوام کے ذہنوں کو بنانے میں یعنی مائنڈ سیٹ میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان میں اصل اہمیت مختلف قسم کے مراعات یافتہ کٹھ پتلیوں کو حاصل ہے جن کے قبیلے یہاں برسوں سے آباد ہیں۔ہر قبیلے کو یہ زعم ہے کہ وہ سب سے طاقت ور اور سب سے اعلی ٰ و ارفع ہے۔بعض کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کے بغیر دیس کا نظام نہیں چل سکتا ، بعض کا یہ خیال ہے کہ صرف اسے ہی حق حکمرانی حاصل ہے جبکہ بعض کو گمان ہے کہ وہ ہی سب سے زیادہ پارساہیں لہٰذاوہی اس دھرتی کے مالک ہیں۔ اس ملک میں رہنے والی عام کٹھ پتلیاں محکوم کہلاتی ہیں اورہمیشہ انہی مراعات یافتہ قبیلوں کی دست رس میں ہوتی ہیں۔ یہاں کاہربچہ ،بوڑھا، جوان اور خواتین سیاست کے دلدادہ ہیں، غرضیکہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو سیاست کا مرض لاحق ہے۔سیاست ان کی گھٹی میں ہے۔شنید ہے کہ یہاں کے نومولود بھی’’جیتے گابھئی جیتے گا‘‘ اور ’’آئے گا بھئی آئے گا‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔پاک سر زمین میں رہنے والی ہر کٹھ پتلی چاہے وہ مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتی ہو یا محکوم طبقے سے ، اپنے آپ کو عقل کل اور مکمل جہان سمجھتی ہے،اسے یہ زعم ہوتا ہے کہ اس کے بغیر نہ تو تماشا برپا کیا جاسکتا ہے اورنہ ہی کوئی محفل لوٹی جاسکتی ہے۔وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ وہ ہر ایک کی نظروں کا محور ہے اور محفل کی ساری رونقیں اسی کے دم سے قائم ہیں۔یہ کٹھ پتلیاں شیخی بگھارتے ہوئے بڑے فخر سے علی الاعلان یہ کہتی پھرتی ہیں کہ میں فلاں کی کٹھ پتلی ہوں اگر کسی نے مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کو بلالوں گی۔ اقتدار کے نشے میں یہ کٹھ پتلیاں اتنی مدہوش ہوچکی ہوتی ہیں کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ان کی زندگی تو بس اشاروں کی محتاج ہے۔وہ یہ بھی بھول جاتی ہیں کہ ان کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے ،سب کچھ پرایا ہے۔ان کا رقص بھی ’’بالم‘‘ کا مرہون منت ہوتا ہے۔کٹھ پتلیاں اپنی زبان میں ’’تماشا گر‘‘ کو ’’بالم‘‘ کے نام سے پکارتی ہیں۔کھیل تماشوں کے دوران کبھی بالم ان سے ناراض ہو جاتا ہے تو کبھی کٹھ پتلیاں اپنے بالم سے روٹھ جاتی ہیں۔بالم کی ناراضی کا شکار ہونے والی کٹھ پتلیوں کوجب کہیں دور ایک تاریک گوشے میں پھینک دیا جاتا ہے تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کٹھ پتلی کو احساس ہوتا ہے کہ واقعی تماشا گر کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں ،تماشا اور محفل تو اصل میں اس کا بالم ہی برپا کرتا ہے جو ڈوریاں ہلا کر اسے زندگی بخشتاہے مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔اس بار بھی ملک میں تماشا کچھ نیاہے، تماشائی گونگے اور کٹھ پتلیاں ساری اندھی ہیں،تماشا گربھی بہرہ ہے وہ کسی کی سنتا ہی نہیں ہے۔اسے توڈوریاں الجھائے رکھتی ہیں اور بہلائے رکھتی ہیں۔یہ تماشا گر منہ سے کچھ کہتا ہی نہیں ہے ،بس اشاروں اور کنایوں میں اس کا ہاتھ چلتا ہے اور وہ ایک کے بعد ایک ڈوری کوجھٹکتا اور پکڑتا ہے۔ پردے کے پیچھے تماشا گر کی پانچوں انگلیاں تھرکتی ہیں اور مچلتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی پردہ اٹھتا ہے اور ایک شور مچتا ہے۔جس کے بعد تماشا گر کی ساری پتلیاں رقص کرتی ہیں کیونکہ انہیں سیٹی پر اوراشاروں پرتو ناچناہی ہوتا ہے۔آج کل یہاں کی گلیوں ،محلوں اور چوباروں میں تماشیروز سج رہے ہیں۔تماشا خوب اور بھرپور ہورہا ہے۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ انسانوں کے ایک طبقے کو کٹھ پتلی بننے کا شوق رہا ہے۔ کٹھ پتلی خاندانوں میں پیدا ہونے والی کٹھ پتلیاں نسل در نسل ناچتی رہی ہیں اور اپنے آپ کو حکمران طبقہ سمجھتی رہی ہیں۔ کچھ طبقوں کو کٹھ پتلیاں بنانے اور نچانے کا جنون رہا ہے۔ بعد میں صدیوں نے یہ راز بھی منکشف کیے کہ کٹھ پتلیاں نچانے والوں کی اپنی ڈور بھی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ کچھ ڈور ہلانے والے عالمی سطح پر کام کرتے تھے اور مختلف خطوں، علاقوں میں اپنے ایجنٹ ڈھونڈلیتے تھے۔ کسی کو مشرق وسطیٰ کی کمان دے دیتے تھے۔ کسی کو مشرق بعید کی۔ جنوبی ایشیا میں بھی صدیوں سے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ڈور کو ہلانا اور چھپانا ایک نازک فن ہے۔ ڈور چھپانے پر بھی ہزاروں ڈالر لگ جاتے ہیں یہ پتلیاں خود ناچ سکتی ہیں۔ بعض اوقات خلوت میں بھی خود ناچتی بھی ہیں۔ خود ہی اپنا تماشا بھی دیکھتی ہیں۔ لیکن جلوت میں ناچنے کے لیے وہ کسی نہ کسی کے ہاتھ کی طرف دیکھتی ہیں۔کسی کی ڈور وائٹ ہاؤس۔ کسی کی پینٹاگون۔ کسی کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ہلائی جاتی ہے۔ کوئی برضا و رغبت کریملن کی ڈور سے نتھی ہونا پسند کرتی ہیں کسی کی 10ڈاؤننگ اسٹریٹ سے کسی کی چیلسی پیلس سے ملتی ہے۔ کسی کی ریاض کسی کی تہران سے۔ ایک زمانہ تھا جب بغداد اور عمان بھی اس فن کے ماہر تھے۔ بیجنگ بھی اس فن کا ماہر ہے۔ اس کو بھی کبھی کبھی شوق آتا ہے۔ لیکن اب وہ اس کھیل میں اُلجھنے کی بجائے اپنے ہمسایوں کو ہم رقص بناتا ہے۔
مقامی طور پر ڈور کے مراکز بدلے بھی جاتے ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد چلے جاتے ہیں۔ مگر پنڈی۔ پنڈی میں ہی رہتا ہے۔ ڈور کچی ہوتی ہے۔ پکی بھی۔ یہ ڈور ہلانے والے ہاتھوں پر منحصر ہے۔ مختلف ایوان دوسرے ایوانوں کے اشارے پر زندگی گزار دیتے ہیں۔ ایوان صدر۔ وزیرا عظم ہاؤس۔ فیڈرل لاجز۔ سیف ہاؤسز۔ گمنام ہاؤسز۔ سے بھی ڈوریں ہلائی جاتی ہیں۔بلاول ہاؤسوں۔ جاتی امراؤں۔ خانقاہوں۔ گدیوں۔ کارپوریٹ دفتروں۔ آئی جی ہاؤسوں۔ کمشنریوں۔ ڈی سی کے دفتروں میں بھی پتلی تماشے ہوتے ہیں۔ پتلی تماشہ اب مقامی بھی ہوتا جارہا ہے۔ عالمی پتلی ماسٹروں نے ہر قوم میں مافیا تلاش کرلیے ہیں۔ مغربی پتلی ساز یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کٹھ پتلیاں بچوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اس کھیل کے ذریعے وہ اپنی شناخت حاصل کرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں،کالجوں ،سکولوں میں انگلش میڈیم کے ذریعے کٹھ پتلیاں تیار کی جارہی ہیں۔ قوموں کو ضرورت ہوتی ہے اپنے خالص خیالات اپنی خود مختار سوچ والے خوددار افراد کی۔ لیکن اپنی سوچ رکھنے والے اچھا نہیں ناچتے ،وہ پتلی تماشے کو خراب کردیتے ہیں اس لیے اپنے ذہن سے کام لینے والوں کو ڈور سے منسلک نہیں کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے اپنے تاریک کمروں میں دم توڑدیتے ہیں۔ یا انہیں تختہ دار پر لٹکاکر عبرت کا نشان بنادیا جاتا۔ سیاسی پارٹیاں جو قوم کو ترقی اور خوشحالی کی منزلوں کی طرف لے جانے کی دعویدار ہوتی ہیں وہاں بھی اپنی بصیرت رکھنے والوں کو ناچ میں شامل نہیں کیا جاتا۔ کچھ پتلیاں آرڈی ننس پر آرڈیننس لاتی رہتی ہیں۔ کچھ پتلیوں سے انہیں مسترد کروایا جاتا ہے، لانگ مارچ کروائے جاتے ہیں،عدم اعتماد کی تحریکیں لائی جاتی ہیں۔پاکستان میں جمہوریت کے اسٹیج پر کٹھ پتلی تماشہ برسوں سے جاری ہے، موجودہ کٹھ پتلی تماشہ پاکستان میں صدراتی نظام لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔کیونکہ اب دجال کے شیطانی نظام کو دنیا بھر میں رائج کرنے کے مشن پر گامزن تنظیموں فری میسن ، الومیناتی اور کمیٹی آف 300 کو پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں صدارتی نظام کی ضرورت ہے۔
پاک سر زمین کے کٹھ پتلی حکمران طبقے کے سیاسی نمائندوں میں یہ بڑھتا ہوا تناؤ اور بدتہذیبی بنیادی طور پر اس سارے طبقے کی اپنی ٹوٹ پھوٹ اور بحران کی غمازی کر رہی ہے۔ ایک طرف سرمایہ داروں، بڑے زمینداروں اور درمیانے کاروباری طبقے کے سیاست دان جبکہ دوسری طرف نودولتیوں اور شہری مڈل کلاس پر مبنی یہ سیاست دان جس کے ثقافتی معیار اور سماجی بنیادوں کو جاننے کے لیے اس کے نمائندوں کے نام ہی کافی ہیں۔یہ نئے پاکستان کے علمبردار اس مخصوص کردار اور ذہنیت کے حامل ہیں جو تھوڑے میں زیادہ پڑ جانے سے آنے والی امارت اور نودولتیوں کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ نیا نیا سیاسی اور معاشی مقام حاصل کرنے والے ایسے حکمران ایک جانب نیکی، پارسائی اور روحانیت کا ڈھونگ کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کے اندر رچی بسی ہوئی ولگیریٹی اور بدتہذیبی کا ایک ایسا ملغوبہ بن جاتا ہے جو متضاد شخصیات اور کردار استوار کر دیتا ہے۔ لیکن مروجہ سیاست کی تمام پارٹیوں کی تنزلی جہاں ان کے نظام کے زوال کی غمازی کرتی ہے وہاں ان کی سیاسی اقدار اور اخلاقیات کی گراوٹ کو بھی بے نقاب کر رہی ہے۔اس خطے میں بسنے والی قومیتوں کی قدیم ثقافتی روایات میں ایک اہم عنصر جگت بازی اور طنز و مزاح کا بھی رہا ہے۔ لیکن آج کے عمومی تاثر کے برعکس جگت کا مطلب بیہودگی ہرگز نہیں ہوتا بلکہ حاضر جوابی کیساتھ کیا گیا ایسا مزاح بڑا لطیف بھی ہو سکتا ہے۔ آج بھی ایسی جگتیں سننے کو ملتی ہیں جن میں گہری طنز کا عنصر پایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں جاگیرداری کی باقیات ابھی تک ثقافت اور رویوں پہ حاوی ہیں، ایسے میں نودولتیے بھی ’خاندانی‘ اور ’جدی پشتی زمیندار‘ ہونے کا تاثر اپنے لباس اور انداز سے دینے کی کوشش کرتے ہیں جو بڑا بھونڈا اور مصنوعی ہوتا ہے۔ اس بناوٹ اور منافقت کو عام انسان آسانی سے پہچان سکتا ہے۔اب یہاں پر جگتوں اور لطیفوں وغیرہ کی تخلیق کرنے والے فنکاروں کو بڑی ہی تضحیک کیساتھ بھانڈ یا میراثی کہہ کر ان کی غربت اور محرومی کا دلسوز مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ لیکن آج کی حقیقت یہ بھی ہے زیادہ تر سرکردہ سیاست دان اور پارٹیوں میں ترقی کرکے بڑے لیڈر بن جانے والے یہ حکمران انہی بھانڈوں اور مراثیوں کا بہت ہی گھٹیا چربہ معلوم ہوتے ہیں۔ اب پارٹیوں کی نمائندگی کا معیار صرف یہ بن گیا ہے کہ ٹیلی ویژن پروگراموں اور جلسے جلوسوں میں کون زیادہ گھٹیا جگت بازی کرتا ہے اور کون مدمقابل سیاستدانوں کی تضحیک کر سکتا ہے۔ایسے تنزلی کے ادوار میں عام لوگ بھی جب صحتمند تفریح، مزاح اور رونق سے محروم ہوجاتے ہیں تو پھر ان ٹاک شوز کو دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ڈرامہ، تھیٹر اور فلم کے معیار بھی اتنے ہی گر چکے ہیں۔ایسے میں عوام کو اپنے روز مرہ کے اذیت ناک مسائل اور ذلتوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کٹھ پتلی سیاستدانوں کی گھٹیا اور بے ہودہ جگت بازی والے ناٹکوں کی لت سی لگ جاتی ہے۔ لیکن یہ پروگرام بھی دل کو چین اور روح کی تازگی نہیں بخشتے بلکہ مزید پراگندگی اور خجالت سے ہی دوچار کر دیتے ہیں یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے ان میزبان خواتین و حضرات، پروگراموں میں شریک نام نہاد ماہرین اورکٹھ پتلی سیاستدانوں کی گری ہوئی گفتگو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس نظام کے رکھوالوں کے پاس معاشرے کو درپیش سنگین مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ نہ ہی عوام کے حق میں اصلاحات کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ یہ بس لوگوں کو ا س طلسم میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں کہ اپنے سلگتے ہوئے مسائل اور محرومیوں سے بھری زندگیوں کو وقتی طور پر فراموش کر دیں اور بس ان کی آنیاں جانیاں دیکھتے رہیں۔پاکستان میں کٹھ پتلی حکمران طبقے کی لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہیں۔ حکمران طبقے کی ان آپسی لڑائیوں کا مقصد محنت کشوں کو ایک یا دوسرے دھڑے کا حمایتی بنانا ہے۔ کوئی مظلوم بن کر حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کسی کو نجات دہندہ اور ہیرو بنا کر مقبول کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔محنت کش طبقے کی اکثریت گزشتہ لمبے عرصے سے اس کھلواڑ کا حصہ نہیں بنی ہے جس سے پتا چلتا ہے وہ یہاں کے نام نہاد ’’پڑھے لکھے‘‘ طبقات سے کہیں زیادہ سمجھدارہیں۔ لیکن ان کے اندر ایک لاوا بھی پک رہا ہے۔ اس نظام کی حاکمیت کے خلاف شدید نفرت موجود ہے۔دوسری جانب خود مختاری اور سا لمیت کی باتیں بھی محض فریب ہیں۔ آئی ایم ایف سے زیادہ سفاک ایک اور ادارہ بھی ہے۔ جس سے اس نظام میں کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہ عالمی منڈی ہے۔ جو یہ تک طے کرتی ہے کہ سندھ کے دور دراز علاقوں میں پیدا ہونے والی زرعی اجناس یا بلوچستان کے ویرانوں سے نکلنے والی معدنیات کی قیمت کیا ہوگی۔ جب تک اِس منڈی کے نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوتا سا لمیت ایک ڈھونگ اور فریب ہی رہے گی۔جب تک یہاں سرمایہ دارانہ معیشت رہے گی یہ اسی عالمی منڈی کی جکڑ میں رہے گی جس کے اصول اور قوانین پھر سامراجی قوتیں ہی طے کرتی ہیں۔ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی اقتدار میں صرف وہی آتے ہیں جنہیں عوام کے دُکھوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اس اقتدار میں آنے کے لیے بے حس، سفاک اور پتھر دل ہونا لازم ہے اور ہمارے تمام حکمران اس پر پورا اترتے ہیں۔
مہنگائی، معاشی بدحالی اور ساتھ ہی ’’جمہوریت‘‘ کے بے ثمر ہونے کے باعث عام لوگوں کے لئے انتخابات کی شفافیت بے معنی ہوچکی ہے۔ جہاں تک حقیقی جمہوریت کی بحالی کی بات ہے تو اس ملک میں موجود تمام سیاسی جماعتیں خود انتہائی غیر جمہوری ڈھانچوں پربراجمان ہیں۔ جہاں نہ تو کسی باڈی کو باقاعدہ جمہوری طریقے سے منتخب کیا جاتا ہے نہ ہی پارٹی پالیسیاں اور فیصلے جمہوری عمل کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ خاندانی اور مافیا طرز کی قیادتیں ‘ جمہوریت کے لفظ کو صرف عام لوگوں کے شعور کو گمراہ کرنے کیلئے استعمال کرتی چلی آ رہی ہیں۔ پھر جہاں سول اور ملٹری تعلقات کے تناظر میں جمہوریت کی بحالی کی بات کی جاتی ہے تو یہاں بھی ایک گہرا تضاد،بلکہ منافقت عیاں نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف کا خود اپنا وجود اور اس کی حکومت غیر جمہوری قوتوں کی ’سیاسی انجینئرنگ ‘کا شاخسانہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ حکومت برائے نام ہے اور پیچھے حقیقی حکمرانی انہی کی ہے جو اس حکومت کو بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ عمران خان چابی والا کھلونا ہے جس میں جیسی چابی بھری جاتی ہے ویسا کھیل تماشہ وہ کرتا پھرتا ہے۔ ملک کے عدل و انصاف کے ادارے روز اول سے ہی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے اصول کے تحت ’’انصاف ‘‘ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح اگر کارپوریٹ میڈیا کچھ شعبوں میں (اورکچھ وقت کے لیے ) ’آزاد‘ تھا بھی تو اس کی لگامیں کافی عرصہ پہلے سے کھینچی جا چکی ہیں۔ میڈیا کو خفیہ ہاتھ برسوں سے کنٹرول ہی نہیں کر رہا بلکہ پچھلی حکومتوں میں بھی ’’متوازی حکومت‘‘ نے معیشت، داخلہ، خارجہ، میڈیا اورعدلیہ سمیت متعدد محاذوں پر اپنی حاکمیت کے جھنڈے گاڑے ہوئے تھے۔ ایک مارشل لا سے دوسرے کے درمیان جتنی بھی حکومتیں آتی ہیں ان کی نام نہاد حاکمیت کا دائرہ کار محدود سے محدود تر ہوتا جا رہا ہے۔
جمہوریت ہمارے ہاں خاصی مبہم اصطلاح ہے۔ حکمران طبقے کی جمہوریت سے مراد بھی ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس سے فیض یاب ہونے کی صلاحیت بھی صرف کروڑپتیوں کے پاس ہی ہوتی ہے۔ جہاں تک عوام کا معاملہ ہے تو ان کو پانچ سال بعد ایک دن تپتی دھوپ میں لائن میں لگ کر دھتکار اور لاٹھیاں جھیلتے ہوئے اپنے حقوق کو غصب کرنے والے طبقے کے چند امیدواروں میں سے کسی ایک کے حق میں ووٹ دینا ہوتا ہے۔ مگر اسکامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ عوام کی اکثریت جس کو ووٹ دیں وہی کامیاب ہو۔ اب ایسی جمہوریت سے عوام کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟۔سامراجی پالیسیوں پر عمل درآمد کرکے عوام کی رگوں سے خون کے تمام قطرے نچوڑنا، محنت کش طبقے کی محنت کو لوٹنا، سامراجی اداروں کی ہدایت پر مسلسل معاشی حملے کرنا، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ کرناوہ واحد’ پیج‘ ہے جس پر’’ متوازی‘‘ اور’’ منتخب‘‘ حاکمیتیں ایک ہی جگہ پائی جاتی ہیں۔ اس لوٹ مارکے عمل کو یہ دونوں حاکمیتیں ’’نظام‘‘ کہتی ہیں۔ اسی نظام کو لاحق خطرے کو بھانپتے ہی یہ سب متحارب قوتیں یکایک تمام اختلاف بھلا کر ایک ہوجاتی ہیں۔ جب کوئی سیاسی رہنما یہ کہہ رہا ہو کہ ہم نظام کو بچانے کے لیے کسی بھی سطح پر جاسکتے ہیں تو اس کا واضح مقصد ہوتا ہے کہ اس لوٹ مارکے نظام اور طبقاتی تقسیم کو جاری رکھنا ان کا نصب العین ہے اور وہ اس کا خاتمہ نہ ہونے دینے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اس نظام کے بندھنوں میں جتنی بھی حکومتیں بدل جائیں کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ صرف تب سب کچھ بدل سکتا ہے جب یہ استحصالی نظام اکھاڑ کر محنت کش طبقے کا راج قائم ہو۔ کٹھ پتلیاں اور ان کی ڈوریاں ہلانے والے اسی وقت سے ڈر رہے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں