Voice of Asia News

تنازع ریاست جموں وکشمیر ،اقوام متحدہ کا کردار،تحریر :زاہد شفیق طیب

1939 سے 1945 تک دوسری خوفناک عالمگیرجنگ کے نتیجے میں امن قائم کرنے کیلئے عالمی ادارے کے قیام پرغور کیا گیا تو 1941 میں برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر قیام امن کیلئے بنیادی اصولوں پر اتفاق کیا، جس کے بعد منشور او قیانوس جاری کیا، یکم جنوری 1942کو 20 ممالک نے اٹلانٹک چارٹر کی توسیع کی ، اس موقع پر پہلی بار اقوام متحدہ کی اصطلاح استعمال کی گئی، درحقیقت امریکہ اور برطانیہ کا چارٹر ہٹلر اور اس کے اتحادیوں کیخلاف تھا، اقوام متحدہ سے قبل عالمی سطح پر لیگ آف نینشنز کا ادارہ تھا،جس سے عالمی امن قائم رکھنے میں ناکامی پر ختم کردیا گیا تھا۔30 اکتوبر 1943 کو امریکہ، برطانیہ ، روس، چین نے اعلان ماسکو کے ذریعے ایک بین الاقوامی تنظیم قائم کرنے پر غور کیا، 25 اپریل سے 26 جون 1945 کے دوران سان فرانسسکو کے مقام پر اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم کے قیام کیلئے ایک کانفرنس میں منشور ترتیب دیا گیا، 26 جون 1945 کو 50 ممالک کے نمائندوں نے منشور کی دستاویز پر دستخط کیے، ہالینڈ نے 15 اکتوبر 1945 کو دستخط کیے اس طرح 51 ممالک یو این او کے بانی رکن کہلائے، 24 اکتوبر کو اقوام متحدہ کا چارٹر نافذ کیا گیا، ہرسال 24 اکتوبر کو ہی اقوام متحدہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے، برطانوی سامراج نے جب برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کیاتو افغانستان کے حکمران ظاہر شاہ نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے وہ تمام علاقے جو برطانوی سرکار نے ہندوستان کے شمال مغربی علاقے میں شامل کیے تھے افغانستان کو واپس کیے جائیں، حکومت برطانیہ نے ظاہر شاہ کے خط کو کوئی جواب نہ دیا، ظاہر شاہ نے دوبارہ برطانیہ کی حکومت کو خط لکھا کہ افغانستان اور ہندوستان کے درمیان ڈیورنڈ لائین کی جو سرحد مقرر کی گئی تھی وہ افغان حکومت کی مرضی کیخلاف تھی، افغان عوام ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے،ظاہر شاہ کو برطانوی حکومت نے دوسرے خط کا بھی جواب دینے کی زحمت نہ کی،افغان حکمران ظاہر شاہ نے ردعمل کے طور پر پشاور سمیت سرحد (کے پی کے) کے کئی شہروں پر قبضہ کرنے کا منصونہ بنایا ، مسلم لیگ کے سابق صدر سردار شوکت حیات اپنی کتاب( گم گشتہ قوم)میں لکھتے ہیں ہماری حکومت کو علم ہوا تو ہم نے قبائلی لشکروں کو سری نگر کا راستہ دکھانے کیلئے علما کی خدمات حاصل کیں ،قائداعظم کو اس منصوبے کا علم نہیں تھا۔ پیر مانکی شریف، پیر لانڈر، کپتان مہر بادشاہ محسود، اندار ملا، دانا پیر، بادشاہ گل محمد، پیرزکوڑی کی قیادت میں 18 قبائل وزیر محسود، سلیمان خیل دوڑ، بھٹنی، توری آف ، آفریدی،آدم خیل، مہمند، مینگل،کوچی،زوران،شنواری، پاوندہ، یوسفزئی سلارزئی، خلجی، کنڈی نے ریاست جموں وکشمیر
میں یلغار کردی، 22 اکتوبر1947 کو قبائلیوں نے ہندو مسلم کی تمیز کیے بغیر کشمیریوں کا وحشیانہ قتل عام کیا، جہاد کے نام پر لوٹ مار، سینکڑوں کشمیری خواتین کو اغوا، املاک کو نذر آتش کیا، فرانسکسن مشنریز نام کی ایک تبلیغی جماعت کی 14 راہباؤں کو جو فرانس، سپین، اٹلی، پرتگال ، سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتی تھیں، اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا، قبائلیوں کی یلغار کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہاراجہ ہری سنگھ جو بھارتی حکمرانوں اور کانگریسی لیڈروں سے سخت نفرت کرتا تھا مدد مانگنے پر مجبور ہوگیا، صرف 5 روز بعد 27 اکتوبر کو بھارتی فوج نے سری نگر ائیرپورٹ پر اپنی فوج اتار کر ریاست جموں و کشمیرکے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا۔
19نومبر 1947 کو وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور برطانوی وزیراعظم کو تجویز پیش کی کہ تنازعہ ریاست جموں و کشمیر کو حل کرنے کے لیے اسے اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا جائے ، 1 ماہ بعد جواہر لعل نہرو نے لیاقت علی خان کی تجویز ماننے سے انکار کردیا، لیکن 15 روز بعد یکم جنوری 1948 کو بھارت خود تنازعہ ریاست جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا، بھارت نے دعویٰ کیا کہ ریاست جموں و کشمیر نے بھارت سے الحاق کرلیا ، پاکستان خطے میں گڑبڑ کا ذمہ دار ہے سلامتی کونسل قبائلیوں کو ریاست میں داخل ہونے سے روکے، پاکستان نے بھارت کے جواب میں کشمیر کے الحاق کو چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ قبائلیوں کی مدد نہیں کررہا، اس کے ساتھ ہی پاکستان نے قبائلیوں کے داخلے کو روکنے سے معذوری ظاہر کردی۔
17 جنوری 1948کو سلامتی کونسل کے 229ویں اجلاس میں قرار داد نمبر 651/ Sمنظورہوئی۔ جس میں کہا گیا کشمیری عوام یعنی ریاست جموں و کشمیر کے اصل مالک اس تنازعہ میں کہیں نظر نہیں آتے ، بھارت اور پاکستان تنازع کے دو فریق قرار پائے۔ یکم جنوری سے 20 جنوری 1948 تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ جموں و کشمیر پر ہونیوالی بحث کا عنوان ، ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال پر بحث تھی۔ 20 جنوری کو پاکستان کے وزیرخارجہ سر محمد ظفراﷲ خان نے سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر بحث کے عنوان کو تبدیل کروا دیا۔سلامتی کو نسل کے لیٹر نمبر 655)،ایس(کے مطابق 20 جنوری 1948 سے اس بحث کے عنوان کو بھارت اور پاکستان کا مسئلہ میں تبدیل کیا گیا، عنوان کی تبدیلی سے تنازع جموں و کشمیر علاقائی مسئلہ بن گیا۔پندرہ جنوری1948کو بھارت کے نمائندے گوپال سوامی آئینکر نے اپنے خطاب کے دوران بھارتی حکومت کی طرف سے اعلان کیا کہ بھارت کشمیریوں کے اس حق کو تسلیم کرتاہے کہ وہ ریاست میں حا لات معمول پر آنے کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ وہ بھارت سے اپنے الحاق کو منسوخ کرکے پاکستان سے الحاق کریں یا خود مختار ہوکر اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کریں، گوپال سوامی آئینکر نے اپنے اس اعلان کو سلامتی کونسل میں تین فروری1948 کی تقریر میں بھی دہرایا۔ بھارتی وفد کے قائد کی پندرہ جنوری کی تقریر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنوری، فروری1948 کی کاروائی پر مشتمل فائل کے صفحہ نمبر انتیس پر درج ہے۔ بیس جنوری1948 کو سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کا ایک کمیشن (یواین این آئی) کے نام سے قائم کیا، کمیشن کو ہدایت جاری کی گئیں کہ وہ پاک بھارت حکومتوں سے بات چیت کرذریعے جنگ بندی کرائے۔21 اپریل1948کو سلامتی کونسل کے 286 ویں اجلاس میں قرارداد نمبر (S.726) چھ ممالک بلجیئم، ہالینڈ، چین، کمبوڈیا، برطانیہ اور امریکہ نے پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔ قرارداد میں ریاست سے قبائلیوں اور پاکستانی کشمیریوں کی واپسی 15 اگست 1947 کے بعد ریاست میں داخل ہونے والے بھارتی شہریوں کی واپسی ریاست جموں و کشمیر کے ان شہریوں کی وطن واپسی جو فسا دات کی وجہ سے گھربار چھوڑ جاچکے تھے۔یو این سی آئی پی کے ارکان کی تعداد تین سے بڑھاکر پانچ کردی گئی، تین ارکان کو سلامتی کونسل نے نامزد کیا۔بھارت نے چیکو سلواکیہ ،پاکستان نے ارجنٹائن کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔تنازع ریاست جموں و کشمیر کے بنیادی اصل فریق کشمیری عوام کی نمائندگی کیلئے کسی رکن کی نامزدگی کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔13 اگست1948کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈوپاک کی پہلی قرارداد نمبر (1100 یو این سی آئی پی۔ ایس) منظور ہوئی جسے اقوام متحدہ کے فیصلوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرار داد تین حصو ں پر مشتمل۔
1 – چونکہ پاکستان کی افواج کی ریاست جموں و کشمیر میں موجودگی سے اس صورتحال میں تبدیلی رونما ہوگئی ہے جو سلامتی کونسل میں حکومت ہند کی طرف سے دائر کی جانے والی شکایات کے وقت موجود تھی اس لئے حکومت پاکستان ریاست سے اپنی تمام افواج کو واپس بلانے کا اقرار کرتی ہے۔ نیز حکومت پاکستان نے ریاست سے تمام قبائلیوں اور ان تمام پاکستانیوں کو نکالنے کیلئے اپنی کوششیں عمل میں لائے گی جو ریاست میں جنگ کیلئے داخل ہوگئے ہیں۔
2 – جب کمیشن بھارت کو یہ اطلاع دے گا کہ وہ تمام قبائل اور پاکستانی شہری جن کا ذکر حصہ دوئم (الف) میں کیا گیا ریاست سے چلے گئے ہیں، اس طرح وہ صورتحال ختم ہوگئی ہے جس کی بنا پر حکومت ہند نے سلامتی کونسل سے رجوع کیا تھا اور جو بھارتی فوجیوں کی ریاست میں آمد کا سبب بنی تھی، نیز یہ کہ ریاست سے پاکستانی افواج کا انخلا عمل میں لایا جارہا ہے تو حکومت ہند ریاست سے اپنی مسلح افواج کے بڑے حصے کے مرحلہ وار انخلا کے آغاز پر آمادگی ظاہر کرتی ہے۔
3 -حکومت ہند اور پاکستان اپنی اس خواہش کا اظہار کرتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیرکے مستقبل کی حیثیت کا تعین عوام کی رائے کے مطابق کیاجائیگااور اس مقصد کیلئے التوائے جنگ کے معاہدے پر دستخط ہوجانے کے بعد دونوں حکومتیں کمیشن کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے کا اقرار کرتی ہیں تاکہ اس قسم کے سازگار حالات پیدا کیے جائیں جس میں عوام کے آزادانہ رائے کے استصواب کو یقینی بنایا جاسکے، اقوام متحدہ کے کمیشن کی تیرہ اگست1948 کی قرار دار کے نتیجے میں یکم جنور ی 1949 کوجنگ بندی عمل میں آئی۔
5 جنوری1949کو اقوام متحدہ کے کمیشن نے ایک اور قرارداد منظور کرکے دونوں حکومتوں کی رضامندی حاصل کی، جس میں پاک بھارت فوجوں کی ریاست جموں وکشمیر سے واپسی کے پروگرام کی تفصیلات طے تھیں، یہ قرارداد 13 اگست والی قرارداد سے اس لئے مختلف تھی کہ اس میں رائے شماری کے دوران کشمیریوں کے اختیار کو ریاست کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کو محدود کر دیا گیا تھا۔جبکہ 13 اگست 1948 والی قرار داد میں ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈوپاک (یو این سی آئی پی) حکومت ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے23 اور25 دسمبر1948 کو مراسلات موصول ہوئے جس میں انہوں نے حسب ذیل اصولوں کی منظوری کی اطلاع دی جوکہ 13اگست 1948 والی قراداد کا ضمیمہ کہلائیں گی۔ ہندوستان یا پاکستان سے ریاست جموں وکشمیرکے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقہ پر منعقدہ آزادانہ، غیرجانبدارانہ رائے شماری سے ہوگا، قراردار(10) دفعات پر مشتمل جس میں ریاست جموں و کشمیر سے پاک بھارت افواج کے انخلا، قبائلیوں کی واپسی کے بعد رائے شماری پر زور دیاگیاہے۔ 5 جنوری1949 کی قرارداد کی روشنی میں حق خودارادیت جوش و خروش سے منانے کی وجہ ریاست کے پاکستان سے الحاق کو محدود کیا گیالیکن قرارداد میں پاکستان اور بھارت دو فریقین ہیں، کشمیریوں کا کوئی نمائندہ شامل نہیں، دنیا بھر کی معروف لغات میں حق خودارادیت کی تشریح ایسے کی گئی۔
(کسی قوم کا یہ فیصلہ کرنے کا حق کہ وہ خودمختار رہنا چاہتے ہیں یا کسی مملکت کا حصہ بننا چاہتے ہیں)۔حق خودارادیت مسلمہ حق جس کا تعلق علاقے کے عوام کے اس حق سے ہے جس میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خودآزادی سے کریں ، یہ تصور امریکہ کے 1776 کے اعلان آزادی فرانس کے اعلان انسانی حقوق میں مضمر ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور، جنیوا کنوینشن کے فیصلے کے مطابق قوموں کے درمیان معاہدات کسی زمانی تحدیدٹائم لیمٹ
کے پابند نہیں ہوتے۔ ایسا ہوتا تو قانون کھیل بن جاتا ، معاہدے بے معنی ہوجاتے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 24.25.33 کے تحت سلامتی کونسل پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عالمی امن کوبرقرار رکھتے تنازعہ کے تمام فریقوں کو پابند کرے کہ وہ خود یا عالمی ادارے کے ذریعے تمام تنازعات کے پرامن حل کیلئے مناسب اقدام کریں۔
14 مارچ 1950میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر (S.1469 )میں سلامتی کونسل کے مقاصد کی ان الفاظ میں وضاحت کی گئی تھی، ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے مین عوامی خواہشات کے مطابق آخری فیصلے کا تعین جوکہ عوام کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے کے ذریعے کیاگیاہو قبول کیا جائیگا۔ اس اصول کو پاک بھارت دونوں حکومتوں نے تسلیم کیا، 30 مارچ 1951 میں سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد نمبر (S.2017 ) میں اس اصول کو پھر دہرایا۔ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ ، عوامی رائے لوگوں کی خواہش کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی میں جمہوری طریقے سے کرائے گئے آزادانہ، غیر جانبدارانہ استصواب رائے سے کیا جائے گا۔ 27اکتوبر 1950 کوجب آل جموں و کشمیرنیشنل کانفرنس کی جنرل کونسل نے ایک قرارداد میں آئین ساز اسمبلی کا اجلاس بلاکر ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی سفارش کی تو اقوام متحدہ نے سختی سے نوٹس لیا اور30 مارچ1951والی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہ کہ متذکرہ آئین ساز اسمبلی ریاست جموں و کشمیر یااس کے کسی حصے کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی قدم اٹھائے، اس کا سلامتی کونسل میں طے شدہ فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔اور ریاست کے مستقبل کا فیصلہ طے شدہ اصولوں کے مطابق ہی ہوسکے گا۔ 24 جنوری1957 کو سلامتی کونسل کی قرار داد (S.3779) کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو یاد دلایا گیا کہ جن اصولوں کو سلامتی کونسل کی 21اپریل1948 ، تین جون 1948، 14 مارچ 1950، 30 مارچ1951، (یو این سی آئی پی) اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈو پاک کی تیرہ اگست 1948 ، 5جون 1949 میں بڑے واضح انداز میں سمویا گیا ، جن کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ عوام کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی میں کروائی گئی رائے شماری کے ذریعے کیا جائیگا۔2 دسمبر1957کو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر (S.3922) میں گنریارنگ کی رپورٹ نمبر (S.3821) موصول ہونے کے بعد ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا، حکومت ہند اور حکومت پاکستان17 جنوری 1948 کی قرارداد نمبر (S.651)یو این سی آئی پی کی 13 اگست 1948 کی قرار داد نمبر (S.1100) ،5 جنوری1949 کی قرارداد نمبر (S.1100) کے مندرجات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی منظوری دے چکی ہیں جن میں ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے تعین کیلئے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی کرئے گئے آزادانہ، غیرجانبدارانہ استصواب کے ذریعے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 1951سے1958 تک سلامتی کونسل کے صدر جنرل میکناٹن، دیگر نمائندوں سراون ڈکسن، گنریازنگ اور ڈاکٹر فرنگیاگراہم نے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کو حل کرانے کیلئے پاک بھارت حکومتوں سے مذاکرات کیے لیکن انہیں رائے شماری کرانے پر متفق کرنے میں ناکام رہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے1957اور1962میں دو قراردادیں پیش کیں۔ جن مین متنازع ریاست جموں و کشمیر کو حل ہونے سے روکنے کیلئے روس نے ان قراردادوں کو ویٹو کردیا۔ روس کے ویٹو کرنے پر سلامتی کونسل تنازع کشمیر پر کوئی قرارداد منظور نہ کرسکی ، متنازع ریاست جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل میں آخری قرارداد20 ستمبر1965میں پیش کی گئی، پاک بھارت جنگ کے دوران ریاست جموں و کشمیر کا نام لیے بغیر پاکستان اور بھارت کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کریں۔
shafiqjarral2698@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے