Breaking News
Voice of Asia News

سوچیے گا ضرور ۔ ۔

 
 
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو عدم اعتماد کے زریعے اقتدار سے الگ کردیا گیا مگر جاتے جاتے عمران خان ان سب کو اکٹھا کرگیا جو ایک دوسرے پر نہ جانے کیا کیا الزامات لگاتے رہے سڑکوں پر گھسیٹنے سمیت پیٹ پھاڑنے والی باتیں بھی کرتے رہے چلو مان لیتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی تماشاہوتا ہے جو ہر پارٹی ،ہر لیڈر اور ہر ورکر اپنے مخالفین کے لیے لگاتا ہے میں نے اسمبلی کی پریس گیلری میں بیٹھ کر کئی سال رپورٹنگ کی جتنا خوبصورت تحریک عدم اعتماد والا اجلاس چلا شائد ہی کوئی اور اجلاس اتنے شاندار طریقے سے چلا ہو اکثر اجلاس مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتے تھے حکومتی بنچوں سے کی جانے والی تقریریں اپوزیشن سننا گوارا نہیں کرتی تھی اور اپوزیشن کے گلے سے نکلنے والا احتجاج حکومتی اراکین سننا گوارا نہیں کرتے تھے 9اپریل کی صبح ساڑھے 10بجے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس رات11بجکر 58منٹ پر ختم کیا گیامگر اس دن حکومت نے موجودہ حکومت اور سابق اپوزیشن کو خوب رگڑا لگایا مجال ہے کسی رکن نے اف بھی کی ہو اپوزیشن نے بھی جواب دیا مگر حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہوئے افراد نے بھی کوئی چوں چاں نہیں کی اجلاس رات بارہ بجے تک چلتا ہے پھر ختم ہو جاتا ہے10اپریل کو یعنی دو منٹ بعد ہی دوبارہ اجلاس کی کاروائی شروع ہوتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلیے اراکین کی گنتی کا عمل شروع کیا جاتا ہے وزیر اعظم کی مخالفت میں 174 ووٹ ڈالے جاتے جسکے بعد یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ عہدے کا حلف اٹھایا تھا تحریک انصاف نے 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 149 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی عمران خان نے اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر آزاد ارکان کو شامل کرکے حکومت بنائی تھی وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ کا سنہرا دور اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے وزارت عظمی سے علیحدگی کے بعد عمران خان بڑی شان و شوکت کے ساتھ مسکراتے ہوئے پرائم منسٹر ہاؤس سے روانہ ہو گئے نہ انہوں نے ” مجھے کیوں نکالا ” کا نعرہ لگایا اور نہ کسی ادارے کو گالی دی یہی ان کا وقار تھا جو انہوں نے آخری وقت تک قائم رکھا عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس سے روانگی کے وقت مسکراتے ہوئے جو وکٹری کا نشان بنایا وہ بہت سے سوالات کو بھی جنم دے گیا جاتے وقت انہوں نے ” مجھے کیوں نکالا ” کی بجائے مسکراتے ہوئے قوم کو صرف یہ بتایا کہ مجھے کیسے نکالا اور یہی وہ قوم کو بتانا چاہتے تھے ایک ماہ کی اعصاب شکن جنگ کے بعد عمران خان ہارنے کے بعد بھی جیت گئے اور اپوزیشن جیت کر بھی ہار گئی آج کی اعصابی جنگ بہت سے سوالات کو جنم دے گئی کہ رات 11 بجے اچانک ریاستی مشینری حرکت میں آجاتی ہے پارلیمنٹ کو گھیر لیا جاتا ہے رینجرز کے دستے حرکت میں آ جاتے ہیں ملک کے تمام ایئرپورٹس پہ ہائی الرٹ کر دیا جاتا ہے کہ کوئی شخص ملک سے باہر نہ جانے پائے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ اسلام آباد کھل جاتے ہیں جسٹس صاحبان کرسیاں سنبھال لیتے ہیں جبکہ دن کے وقت حکومت کی رٹ کو یہ کہ کر واپس کر دیا جاتاہے کہ آپ لیٹ ہو گئے لیکن رات 11 بجے رٹ پہ کاروائی کیلئے عدالت کے دروازے کھل جاتے ہیں رٹ پٹیشن دائر کر دی جاتی ہے کہ آرمی چیف کو نہ ہٹایا جائے عمران خان کے پرائم منسٹر ہونے کے باوجود تمام ریاستی مشینری عمران خان کے ساتھ تعاون نہیں کر تی عمران خان کے پرائم منسٹر ہوتے ہوئے کس طاقت نے ریاستی مشینری کو احکامات دینا شروع کر دیئے آرٹیکل 190 کی گونج بھی سنائی دیتی ہے اور ساتھ ساتھ پارلیمینٹ کے باہر قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی بھی پہنچ جاتی ہیں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو عمران خان صحافیوں کے ساتھ بیٹھے گپ شپ کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ آج ہی ووٹنگ ہو جائے گی جب آرمی چیف کی رٹ پٹیشن دائر ہونے کی خبر آتی ہے تو عمران خان معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ صحافیوں سے پوچھتے ہیں کہ ” کوئی رہ تو نہیں گیا ” جو ابھی سامنے نہ آیا ہو جیسے ہی سپیکر نے استعفیٰ دیا تو پرائم منسٹر نے ڈائری اٹھائی اور بنی گالہ روانہ ہو گئے پرائم منسٹر ہاؤس میں بس یہی ڈائری ان کی ملکیت تھی سوچنے کی بات ہے کہ کونسی طاقت ور شخصیت تھی کہ جس کے احکامات پہ اچانک ملک میں بھونچال آ گیا عمران خان نے ایک ہی دن میں ان تمام قوتوں کو ایکسپوز کر دیا جو اس سازش کا حصہ تھیں اور شروع دن سے درپردہ کام کر ر ہی تھیں یہ ایک اعصاب کی جنگ تھی خوفناک اعصاب کی جنگ جس میں تمام سازشی کرداروں کے اعصاب رات 11بجے تک ہی ساتھ دے سکے پھر اعصاب ٹوٹنا شروع ہو گئے اور جیسے ہی اعصاب کی جنگ میں ہارے تو خود کو ایکسپوز کر بیٹھے یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے دل میں جنم لے رہے ہیں کہ کون اتنا طاقتور تھا جس نے 11 سے 12 بجے تک ریاستی مشینری کو کنٹرول کیا؟سوچئے گا ضرور……..(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)

image_pdfimage_print
شیئرکریں