Voice of Asia News

جاپان نے پاکستان میں بے شمار ترقیاتی کام کروائے،رپورٹ:ذیشان جمیل بھٹی

 

جاپان کا شمار پاکستان کے دیرینہ اور مخلص ترین دوستوں کی فہرست میں ہوتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے رشتہ کو 68سال کا طویل عرصہ بیت گیا ہے۔ جاپان حکومت کسی بھی ملک میں اپنی جاپانی تنظیم ،جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے ذریعے فلاحی منصوبے مکمل کرتا ہے۔گورنمنٹ آف جاپان کی جانب سے پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے کیا جانے والا کام دونوں ملکوں کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری بین الاقومی برادری کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔جاپان حکومت نے کولمبو پلان کی روشنی میں اپنی تنظیم برائے بین الاقوامی تعاون ،جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے ذریعے تکنیکی تربیت فراہم کرتے ہوئے 1954 میں پاکستان میں سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) کا آغاز کیاتھا جبکہ پہلا جاپانی سرکاری ترقیاتی امداد کا قرض 1961 میں دیا گیا اور 1970 میں امدادی گرانٹ پیش کی گئی۔ پاکستان میں 70 فی صد آبادی زرعی سرگرمیوں سے منسلک ہے جبکہ زرعی پیداوار کا کم معیار اور فصلوں کا پیداواری عمل غریب گھرانوں کی روزی کو متاثر کررہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ، خوراک کا تحفظ پاکستان میں ایک تشویش کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے جس پر قابو پانے کیلئے طلب اور رسد کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک رسد کا تعلق ہے، ہزارہا چیلنجوں کی وجہ سے آب پاشی کا نظام شدت سے متاثر ہوکر پانی کی کمی اور اس کی غیر موزوں تقسیم کی وجہ بن رہاہے جس کے نتیجے میں زرعی پیداواری عمل کمی کی جانب راغب ہے۔جائیکا پانی کے وسائل کو دیرپا بنیاد پر تشکیل دیتے ہوئے اور شرکتی آب پاشی انتقامی نظام کے ذریعے پانی کے تقسیم کاری نظام کو بہتر کرتے ہوئے زرعی اور آب پاشی کے اثاثوں کی بحالی کیلئے تعاون کررہاہے۔ جائیکا نے پانی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کیلئے آب پاشی کے 53,00 کلومیٹر مختلف نالوں کی بحالی اور حد بندی کا کام کیا ہے جبکہ مویشیوں اور باغات کے شعبے میں تعاون کے ذریعے کاشت کاروں کی روزی اور آمدنی میں بہتری کا مقصد حاصل کرنے کیلئے زرعی اور پرسیسڈ پیداوار کے معیار کی بہتری سمیت ویلیو ایڈیڈ مقامی اشیاء کی تشکیل پر توجہ دی گئی ہے۔اضافی پیداوار اور ویلیوایڈیڈ مقامی پیداوار کی ترقی کیلئے پانی کے وسیلے کا مشترکہ انتظام غربت میں کمی اور بہتر خوراکی تحفظ میں مدد دے رہا ہے۔
پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد کوپینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور واسا کاسسٹم بھی ٹھیک نہیں ہے تو اس حوالے سے جاپان نے پاکستان کی بہت مدد کی ہے ۔ پاکستان کی تقریباً 65 فی صد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے۔عوام کوپینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے جاپان نے پاکستان میں کافی کام کیا ہے۔ جائیکا معاشی اور سماجی طور پر ایسے اہم اور بڑے شہروں میں جواب عملی طور پر آبادی میں بڑھتے ہوئے مسلسل اضافے سے دوچار ہیں ترجیحی بنیاد پر پانی کی فراہمی کی عملی سہولتیں فراہم کررہی ہے۔ عملی طور پر پانی کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ جائیکا، پانی اور حفظان صحت کے اداروں (واسا) کی استعداد سازی میں بھی تعاون کررہی ہے۔ فی الوقت جائیکا کی جانب سے شروع کئے جانے والے پینے کے صاف پانی کے منصوبوں سے 2.4 ملین سے زائد افراد استفادہ کررہے ہیں جبکہ 3.1 ملین سے زائد آبادی گندے پانی کے نکاس اور پانی کے بہاؤ کے ان منصوبوں سے استفادہ کررہے ہیں جو جائیکا کے تعاون سے مکمل کیے گئے ہیں۔پاکستان کے ان شہری علاقوں کیلئے پانی کی دیرپا سہولت فراہم کی جارہی ہے جنہیں آبادی میں بے پناہ اضافے کاسامنا ہے۔ اس مقصد کیلئے پانی کے آپریٹرز کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔فیصل آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام میں وسعت،کراچی میں پانی کی فراہمی میں بہتری کا منصوبہ ،ایبٹ آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے منصوبہ،واسا لاہور اور واسا فیصل آباد کیلئے ادارتی اصلاحات،لاہور میں نکاسی آب کیلئے امدادی گرانٹ کی فراہمی اور فیصل آباد میں نکاسی آب اور پانی کے بہاؤ کیلئے میکانیکل نظام کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہے۔فیصل آباد میں جاپانی حکومت نے اربوں روپے کے فنڈز سے وہاں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر دیئے ہیں۔ فیصل آباد کے بعد لاہور کے مضافاتی علاقوں میں بھی جاپانی حکومت نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے ہیں۔ جاپانی حکومت نے لاہورمیں 150 سے زائد ٹیوب ویل لگائے ہیں۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں اور مزید لگائے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد شہر میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے تین بلین سے زا ئد رقم خرچ کی گئی ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد اور تھر میں بھی لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ لاہور میں جائیکا جاپان کے تعاون سے 2351 ملین کی لاگت سے پرانے، کم ڈسچارج،زیادہ بجلی خرچ کرنیوالے105 ٹیوب ویلوں کی تبدیلی مکمل کی گئی۔جائیکا اور واسا فیصل آباد کی مالیاتی پوزیشن اور واٹر سپلائی وسیوریج نظام کی اپ گریڈیشن بھی کی گئی ہے۔ واسا کو جن شعبوں اور منصوبوں کی اپ گریڈیشن اور امپر وومنٹ اور بحالی کی ضرورت تھی ان میں اپ گریڈیشن آف ماسٹر پلان ¾ بحالی واٹر ورکس جھال خانوآنہ ¾ بحالی سیور ٹریٹ منٹ پونڈ ز چکیر ہ ¾ تبدیلی پمپنگ مشینری ویل فیلڈ ایر یا ¾ بحالی بالائی ٹینکیاں اور سٹارم واٹر چینلز کی ری ماڈلنگ شامل ہے۔اس کے علاوہ جائیکا نے سندھ کے علاقے تھر میں بھی پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلئے کام کیا ہے۔
پاکستان میں ہیلتھ کے شعبے کو بہتر بنانے میں بھی جاپان نے پاکستان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں جائیکا کے تعاون سے قائم ماں اور بچے کی صحت کا مرکز اور اسلام آباد، چلڈرن ہسپتال، اسلام آباد میں ماں اور بچے کی صحت کیلئے سرکاری شعبے میں واحد سہولت جو آزاد کشمیر، خیبر پختون خواہ اور صوبہ پنجاب کے ایک بڑے حصے کی آبادی کی ضروریات کو پورا کررہی ہے۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں میں ، 1996 سے 2013 تک اقوام متحدہ ادارہ اطفال (یونیسیف) میں جائیکا کی جانب سے دی جانے والی کل گرانٹ تقریباً 90.95 ملین امریکی ڈالر ہے جس سے اب تک پولیو کے قطروں کی شکل میں دی جانے والی کل ویکسین کا تقریباً 25 فی صد حصہ حاصل کیا گیا ہے۔ جاپان حکومت نے اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت میں پولیو کے خاتمے کیلئے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کے آلات کی خریداری کیلئے بتیس لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔اس سے مولیکیولر بائیولوجی کے جدید آلات کی خریداری سے لیبارٹری میں سیمپل پراسسینگ کی گنجائش بڑی حد تک بڑھائی جاسکے گی۔ نئی گرانٹ سے پولیو کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک سے پولیو کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ ٹی بی کنٹرول منصوبہ میں تکنیکی تعاون فراہم کیا ۔جاپان تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے اور تعلیم کو ہی ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔جاپان نے پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام کی مضبوطی کے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ مسائل کی ایک مختلف رینج پر توجہ دی ہے۔ خواندگی ،غیررسمی تعلیم، پرائمری سے اعلیٰ تعلیم اور تکنیکی تعلیم اور ووکیشنل تربیت (ٹی ای وی ٹی) کے شعبوں پر توجہ میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے بہت سے منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔غیر رسمی تعلیم کے فروغ کیلئے جائیکا پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں ممکنہ طالبعلموں اور اساتذہ تک رسائی حاصل کررہاہے ۔ جبکہ سندھ میں جائیکا نے لڑکیوں کے 12 پرائمری سکولوں کو سکینڈری سکول کا درجہ دینے میں تعاون فراہم کیا ہے۔ جائیکا اضافی تعاون کے ساتھ (ٹی ای وی ٹی) شعبے کیلئے بڑی معاشی نشوونماء اور استحکام کو فروغ دے رہا ہے، جو پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ لاہور میں ریلوے روڈ پر واقع گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (جی سی ٹی) کوسینٹر آف ایکسی لینسی کا درجہ دے دیا گیا ہے، جو اب پنجاب میں سرکاری شعبے کی دیگر اداروں کے برابری کرنے کیلئے ایک درست پیمانہ ہے۔
جاپان آٹو سپیئر پارٹس کی صنعت میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے تو جاپانی حکومت نے پاکستان میں آٹو سپیئر پارٹس کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے بھی بے شمار اقدامات کئے ہیں۔جس کی وجہ سے آٹو سپیئر پارٹس کی صنعت پاکستان میں بڑی تیز ی سے ترقی کر رہی ہے لیکن افسوس کہ تکینکی مہارت اور پیداواری جدت طرازی کے فقدان کی وجہ سے اس انڈسٹری کو عالمی منڈی میں پذیرائی نہیں مل پا رہی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے سمیڈا نے پاپام کے ساتھ ملکر جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا ) کے تعاون سے پہلی بارچار سال پر محیط ایک طویل المدتی پروگرام شروع کیا ۔جاپان کی تکنیکی معاونت سے پاکستان کی آٹو پارٹس مینوفیچرنگ انڈسٹری کی مصنوعات میں کوالٹی کے حوالے سے خاطر خواہ بہتری آئی ہے جس کی بدولت مقامی آٹو پارٹس اب عالمی منڈی میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں گے۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا )نے پاکستان کی آٹو پارٹس انڈسٹری کیلئے چا لیس سال سے زائد تجربہ رکھنے والے پانچ جاپانی ماہرین کی ٹیم چا ر سال کیلئے پاکستان میں تعینات کی ہے۔ پاپام نے مذکورہ منصوبے کیلئے کل 39 یونٹو ں کی نشاندہی کی تھی جن میں سے 22 فیکٹریوں کو منتخب کیا گیا ہے۔تاہم دیگر یونٹو ں کو اس منصوبے سے مستفید کرنے کیلئے جاپانی ماہرین کی زیر نگرانی مقامی ماہرین کی ایک ٹیم تیار کی جارہی ہے جو جاپانی ٹیم کے اخراج کے بعد ان کے بتائے ہوئے طریقوں اور تربیت کے مطابق یہ پروگرام جاری رکھے گی۔
جاپان نے پاکستان میں ذرائع آمد ورفعت کے حوالے سے بھی بڑا کام کیا ہے۔جائیکا کے تعاون نے انڈس ہائی وے کے 92 فی صد (1024 کلومیٹر میں سے 945 کلومیٹر) حصے کی تعمیر اور بحالی کرتے ہوئے پاکستان کے جنوبی اور شمالی حصوں کو آپس میں منسلک کردیا ہے۔ مزید برآں، انڈس ہائی وے پر تعمیر کی جانے والی پہلی جدید ترین 1.9 کلومیٹر لمبی کوہاٹ سرنگ نے فاصلے کو خاصا کم اور انسانوں اور گاڑیوں کے تحفظ میں اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان میں آمدورفت کے مطابق کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے جائیکا نے مختلف منصوبوں کے ذریعے امداد فراہم کی ہے۔پلاننگ کمیشن کے زیر نگرانی قومی تجارتی راہداری کی بہتری کے پروگرام پر عملدرآمد ہورہا ہے جبکہ ترقیاتی شراکت دار اس پروگرام میں معاونت کررہے ہیں۔ قومی تجارتی راہداری کی ترقی کا مقصد کراچی سے پشاور تک شاہراہ کو مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے کاروباری نقل و حمل پراٹھنے والے اخراجات کوم کم کرنا ہے۔ انڈس ہائی وے منصوبہ کے تحت اضافہ کیرج وے کی تعمیر قومی تجارتی راہداری کی ترقی کا لازمی حصہ ہوگی۔ انڈس ہائی وے کی بحالی سے کراچی اور پشاور کے درمیان فاصلہ نیشنل ہائی وے کی روایتی مین روٹ کے مقابلے میں 500 کلومیٹر کم ہوکر رہ جائے گا۔ کوہاٹ ٹنل سرکاری ترقیاتی امداد کے قرضے کے تحت شروع کیا جانے والا منصوبہ درہ کوہاٹ کیلئے ایک متبادل روٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سفر کیلئے فاصلے کو کم کرنا، ٹریفک جام کا خاتمہ کرنا اور وڈسیفٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں دیہی سڑکوں کی تعمیر سے صوبے کے دیہات میں رہنے والی آبادی کی زندگی میں بہتری آنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں ٹیکنالوجی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (امداد گرانٹ کے تحت منصوبہ) کی تعمیر پاکستان، جاپان دوستی کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ مؤثر اور جامع تعمیراتی ٹیکنالوجی سے وابستہ تکنیکی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ یہ مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لئے معیاری روک فورس کی بھرتی میں وزارت مواصلات کی معاونت کرتا ہے۔دیہاتوں کو شہروں کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے کل 1000 کلومیٹر لمبی دیہاتوی سڑکوں تعمیر کی گئی اور بحال کی گئی ہیں تاکہ دیہاتوں میں زندگی گزارنے کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے منسلک ٹریفک کے دباؤ سے نمٹنے کیلئے، جائیکا نے کراچی اور لاہور میں ٹرانسپورٹ کیلئے ایک مجموعی ماسٹر پلان تشکیل دینے میں مدد کی ہے تاکہ شہری علاقے ایک دیر پا اور منصوبہ بندی کے انداز میں پروان چرھ سکیں اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کیلئے زیادہ متحرک ہوتے ہوئے انہیں اپنی جانب متوجہ کرسکیں۔جاپا ن حکومت نے بلوچستان کو پنجاب کے ساتھ ملانے کیلئے 13ارب 75کروڑ روپے سے زائد لاگت سے بارہ کلو میٹر طویل سٹیل کے پل تعمیر کئے ہیں۔
جاپان ن کی ترقیاتی ایجنسی جائیکا کے تکنیکی تربیتی پروگرام میں ترقی پذیر ممالک اور خطوں میں تربیت کے اہم منتظمین، ٹیکنیشنز اور محققین کیلئے علم اور ٹیکنالوجی کی درکار منتقلی شامل ہے۔ یہ جائیکا کی جانب سے لاگو کردہ سب سے زیادہ بنیادی انسانی نشوونماء کے پراگراموں میں سے ایک ہے۔ یہ تربیت دور حاضر کے اہم عالمی مسائل، جیسا کہ ماحول، ایچ آئی وی( ایڈز) جمہوریت کیلئے حمایت اور مارکیٹ کی معیشتوں وغیرہ کی تبدیلی کے لئے فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ یہ تربیت بنیادی ترقیاتی شعبوں جیسا کہ انتظامی امور، عوامی کاموں، انفراسٹرکچر، زراعت، جنگلات، ماہی گیری، تعلیم، صحت وطبی دیکھ بھال، کان کنی، اور صنعت وغیرہ میں بھی فراہم کی جاتی ہے۔1954 میں آغاز کے بعد سے اب تک، 5000 سے زائد سرکاری اہل کاروں کو مختلف شعبوں میں جاپان میں تربیت فراہم کی جاچکی ہے جب کہ ہرسال، تقریباً 180 سرکاری اہل کار 2009 سے 2013 کے درمیان جائیکا کی جانب سے پیش کئے جانے والے کئی قسم کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کیلئے جاپان جا چکے ہیں۔ جن اقسام کی تربیت پیش کی جاتی ہے ان میں گروپ تربیتی کورس ملک پر متوجہ تربیت،طویل المدت تربیت ،اندرون ملک تربیتی پروگرام اور توجوان قائدین پروگرام شامل ہیں۔جائیکا کے تربیتی پروگرام میں ترقی پذیر ممالک اور خطوں میں کلیدی حکام، ٹیکنیشنز اور محققین کی تربیت کے ذریعے متعلقہ ملکوں کو درکار معلومات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔ یہ جائیکا کی طرف سے انسانی ترقی کے فروغ کا سب سے بنیادی پروگرام ہے جس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ 1954ء میں شامل کئے جانے والے اس پروگرام کی نہ صرف وسعت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نصاب میں بھی نکھار آیا ہے جائیکا اب تک تین لاکھ سے زائد افراد کو تربیت فراہم کرچکی ہے۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے ، اس حوالے سے جاپان نے پاکستان کی بہت مدد کی ہے۔فضا اور پانی کی آلودگی کی مانیٹرنگ اور تکنیکی طور پر بہتر بنیاد پر ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا کام پاکستان کیلئے جائیکا کے تعاون کا ایک اہم جز ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں، چاروں صوبائی دارالخلافوں (لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ) اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں فضائی معیاری مانیٹرنگ اور پانی کی ٹیسٹنگ سہولتوں کا ایک نیٹ ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کام کے ذمہ دار ماحولیاتی تحفظ کے اداروں (ای پی اے) کے عملے کی استعداد کو استعداد سازی کے ایک منصوبے کے تحت مضبوط کیا گیا ہے۔ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک اور ایسا مسئلہ ہے جس نے پاکستان کیلئے ماحولیاتی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانے میں بھی جاپان تعاون کر رہا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے