Voice of Asia News

نئی حلقہ بندیوں سے متعلق کیس ؛ الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد(وائس آ ف ایشیا) سپریم کورٹ نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ،پی ٹی آئی کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، جس میں سپریم کورٹ نے وکیل پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ، عدالت عظمیٰ نے فواد چوہدری کو بطور وکیل بات کرنے سے روک دیا ، اس حوالے سے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ درخواست کو پہلے نمبر لگنے دیں ، نمبر لگنے کے بعد نوٹس جاری کرنے کے معاملے کو دیکھا جائے گا ۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے شیڈول کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہوئی ہے ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ، اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول غیر آئینی قرار دیا جائے ، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے برخلاف ہے ، الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیر سے روکا جائے ، نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں ، قرار دیا جائے کہ 3 مئی 2018ء کی کرائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں ، درخواست میں وفاق، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو کو فریق بنایا گیا۔علاوہ ازیں اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے کہا تھا کہ اگلے عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہیں ، حلقہ بندیاں تب ہی ممکن ہے جب نئی مردم شماری کرائی جائے اور اعلان کیا کہ حلقہ بندی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا ، ان کا مؤقف تھا کہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہو گی اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو متنازعہ بنانے کے مشن پر گامزن ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں