Voice of Asia News

بھارت انوکھا کیس :ایک سال میں بچہ پیدا کرو یاپھر پانچ کروڑ روپے جرمانہ دو

نئی دہلی(وائس آ ف ایشیا)بھارت میں ایک عمر رسیدہ جوڑے نے اپنے بیٹے اور بہو کے خلاف اپنی نوعیت کے انوکھے مقدمے میں عدالت سے رجوع کیا ہے۔ جوڑے کے وکیل اروند کمار کا کہنا ہے کہ ان کی درخواست پر عدالت 17 مئی کو سماعت کرے گی۔بوڑھے والدین نے مقدمے میں مطالبہ کیا کہ ان کا بیٹا ایک سال میں اگر انہیں پوتے یا پوتی کی نوید نہیں سناتا تو وہ پانچ کروڑ روپے جرمانہ ادا کرے۔سنجیو اور ان کی اہلیہ سدھانا پرساد کے مطابق وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی بیٹے پر خرچ کر کر کے تھک چکے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے قرضے لے کر اپنے بیٹے کی تعلیم مکمل کرائی، اسے امریکہ سے پائلٹ کا کورس کرایا اور اس کی شاہانہ انداز میں شادی کرائی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا بیٹا اس کی ادائیگی کرے۔بھارت کے شہر ڈیرہ دون کی ایک عدالت میں سنجیو اور ان کی اہلیہ نے گزشتہ ہفتے بیٹیاور بہو کے خلاف درخواست دائر کی۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے بیٹے کی شادی کو چھ برس بیت گئے ہیں لیکن انہوں نے اب تک بچہ پیدا کرنے کا نہیں سوچا۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی پوتا یا پوتی ہو جس کے ساتھ وہ وقت گزار سکیں تاکہ ان کی تکالیف میں کمی آئے۔سنجیو اور ان کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں بیٹے سے مختلف مد میں معاوضے کی واپسی کا تقاضہ کیا ہے۔ جس میں بیٹے کی فائیو اسٹار ہوٹل میں شادی، 80 ہزار ڈالر مالیت کی لگژری کار اور ہنی مون کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کی مد میں اخراجات شامل ہیں۔والدین نے اپنے بیٹے سے پائلٹ کی تربیت حاصل کرنے کے لیے امریکہ بھیجنے کی مد میں آنے والے 65 ہزار ڈالر کے اخراجات کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔درخواست کے مطابق سنجیو کے بیٹے نے امریکہ میں پائلٹ کی تربیت حاصل کی جہاں سے وہ بے روزگار ہی واپس لوٹے۔سنجیو اور ان کی اہلیہ کہتے ہیں کہ انہوں نے قرضہ حاصل کر کے اپنا گھر تعمیر کرایا اور اب اکیلے رہنے پر مجبور ہیں۔ ان کے بقول شدید مالی مشکلات سے دوچار ہونے کی وجہ سے وہ ذہنی تناو کا شکار ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں