Voice of Asia News

بے سمت نظامِ تعلیم: عنصر اقبال

آزادی کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کو انگریز کے تعلیمی اثر کے باوجود اپنی اپنی قومی تعمیر کے نظریہ کے تحت تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نے اپنے بھرپور وسائل تعلیمی میدان میں صرف کرتے ہوئے بہترین تعلیمی پالیسی تشکیل دی جبکہ مسائل میں گھرا ہوا پاکستان ایسا کرنے میں ناکام رہا ۔پاکستان کا قیام چونکہ ہندو اور انگریز کے عزائم کی شکست تھا چناچہ اسے ورثے میں اتنے مسائل دیے گئے کہ نو زائدہ ریاست قائم نہ رہ سکے اور بھارت کی جھولی میں آگرے۔فوجی وسائل سے لے کر خزانہ اور پھر سرحددوں کی غلط تقسیم سمیت پاکستان کا قیام ایسی صورتِ حال میں عمل میں آیا کہ اس کا علیحدہ ریاست کی صورت زندہ رہنا ایک معجزے سے کم نہ تھا ۔ پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی انگریز بہادر کے پٹہ یافتہ خان بہادروں کی ملکیت بن گیا اور نظرئیہ پاکستان کو بانیء پاکستان کے ساتھ ہی کراچی کے فٹ پاتھ پر ابدی نیند سلانے کی کوشش کی گئی ۔جس طرح قائداعظم کو ہسپتال پہچانے والی ایمبولینس راستے میں خراب ہوئی اسی طرح ہماری کوئی بھی پالیسی منزلِ مقصود تک نہ پہنچ پائی اور ہم آج تہتر سال بعد بھی قومی زندگی کے ہر شعبے میں تجرباتی عمل سے گزررہے ہیں جس میں تعلیمی نظام سرِ فہرست ہے۔ اپنے قیام کے بعد پاکستان چند وڈیروں اور جاگیرداروں کی جاگیر بن گیا جن کے قبضے میں تمام زمینیں اور سرمایہ تھا ۔پچھلے چالیس سالوں میں تبدیلی محض اتنی ہوئی کہ چند کاروباری خاندان بھی اس کلب کا حصہ بنے۔یہی کلب آمریت کا بھی شراکت دار ٹھہرااور نام نہاد جمہوریت کا بھی ۔اس استحصالی ٹولے کے ڈیزائن میں عام آدمی کو تعلیم سے روشناس کرنا ہی نہ تھا کیونکہ تعلیم شعور دیتی ہے اور شعور غلامی کو ختم کر تا ہے جبکہ اس طبقے کو تو صرف غلاموں کی ضرورت تھی۔آج بھی پاکستان میں باقاعدہ تعلیم شہروں یا اُن سے منسلک چھوٹے علاقوں میں نظر آتی ہے جہاں ان وڈیروں اور جاگیر داروں کا اثر قدرے کم ہے ۔اندرونِ سند ھ ،بلوچستان ،فاٹا اور پنجاب کے دوردراز علاقوں میں کوئی بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد آبادی میں بے تحاشہ اضافہ بھی وسائل اور مسائل میں توازن بگڑنے کی ایک بڑی وجہ ثابت ہوا۔ آبادی کے سیلاب کوروکنے کے لیے کچھ عالمی اداروں کے اشتراک سے مختلف حکومتوں نے بہت سی بے سود کوششیں کیں۔ لیکن ہمارے حکمران اور اُن پر حکومت کرنے والے یہ نہ سمجھ پائے کہ اس مسئلے کا حل بھی تعلیم عام کرنا ہے۔1951کی مردم شماری کے مطابق مغربی یا موجودہ پاکستان کی آبادی تین کڑوڑ سینتیس لاکھ تھی اگر اس میں بتدریج تین فیصد سالانہ اضافہ ہوتا تو 2020میں اس آبادی کو دس کڑوڑ پچھتر لاکھ نفوس تک محدود ہونا چاہیے تھا جبکہ یہ آبادی بائیس کڑوڑ سے تجاوز کرچکی ہے ۔آبادی کا یہ سونامی ہمارے ملکی وسائل کو اس طرح نگل گیا کہ خوارک اور دیگر مسائل نے تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے وسائل ہی نہ چھوڑے کیونکہ تعلیم بہرحال روٹی، کپڑے اور مکان کے بعد کی ترجیح ہے۔اس ضمن میں انتہائی افسوس ناک کردار ہمارے علماء کا بھی رہا جنہوں نے عوام کو اسلام کا اصل سبق پڑھانے کی بجائے مسلکی اختلافات میں اُلجھنے کو ترجیح دی ۔ اسلام کا تو بنیادی نقطہ ہی تعلیم ہے ۔قرآنِ پاک کا آغاز ’’اقرا ئـ‘‘ سے ہوتا ہے ۔فتحِ بدر کے بعد نبی کریم ﷺ نے پڑھے لکھے کفار قیدیوں کی رہائی کو مسلمانوں کی تعلیم سے مشروط فرمایا ۔ آج سوچ کر پریشانی ہوتی ہے کہ اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیم کی اہمیت کی خلیج کس قدر وسیع ہے۔آبادی میں اضافے اور تعلیمی نصاب کے ضمن میں ہمارے علمائے کرام اور ریاستِ پاکستان آج تک ایک پیج پر نہیں آسکے ۔جہاں تک سوال اس ضمن میں ریاست کی ذمہ داری کا ہے تو ریاستِ پاکستان کبھی بھی تعلیم کو اپنی ترجیح قرار نہیں دے پائی ۔پہلی قومی تعلیمی کانفرس 1947 جس کی صدارت قائداعظم نے خود فرمائی اُس کے بعد قومی کمیشن برائے تعلیم 1959،نئی تعلیمی پالیسی 1970،تعلیمی پالیسی 1972،قومی تعلیمی پالیسی 1979، قومی تعلیمی پالیسی1992، قومی تعلیمی پالیسی 1998اور اصلاحاتِ شعبہء تعلیم 2005کے باوجود ریاست واضح تعلیمی پالیسی وضع کرنے سے قاصر ہے۔موجودہ حکومت کا کورنا کی پہلی لہر کے بعد 2020میں تعلیمی میدان میں ایک حیران کن اور ناقابلِ فہم تجربہ سمارٹ سلیبس کی صورت میں کر چکی ہے ۔سمارٹ سلیبس دراصل شارٹ سلیبس ہے۔میرے ذاتی خیال میں شارٹ کو سمارٹ کہنا بد دیانتی ہے اور تعلیمی نظام میں بددیانتی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔سمارٹ سلیبس کے تحت بچوں سے کہا گیا کہ ان کے لیے امتحان سے نصاب کا تقریباً چالیس فیصد حصہ حذف کردیا گیا ہے ۔ میرا علمی سوال یہ ہے کہ اگر یہ چالیس فیصد نصاب اضافی یا غیر ضروری ہے یا اسے پڑھے بغیر بھی بچے کا تعلیمی مرحلہ مکمل ہو سکتا ہے تو اسے شاملِ نصاب کر کے طلبہ پر بوجھ کیوں ڈالا گیا اور اگر یہ ناگزیر ہے تو اسے پاس نہ کرنے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں کیوں کر کم تر قرار نہ پائیں گے اور جب یہی بچے عملی میدان میں آئے توان کی تعلیمی قابلیت کیسے معتبر قرار پائی گی ۔ اس کے بعد موجودہ حکومت ایک اور تجربہ واحد قومی نصاب کی شکل میں کرنے جا رہی ہے جس کے تحت 2021سے پانچویں جماعت تک پورے ملک میں ایک نصاب پڑھایا جائے گا ۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا یا یہ حکومت
قائم رہی تو اگلے سال سے میٹرک تک تمام نصاب یکساں ہو جائے گا بصورتِ دیگر ہماری نوجوان نسل کو پھر ایک نئے تجربے کی بھینٹ چڑھا دیا جائے گا۔
ansariqbalpost@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے