Voice of Asia News

ہم جنس پرستی کو مسترد کرنے پر مسلمان فرانسیسی فٹ بالر سے یکجہتی مہم

فرانس(وائس آ ف ایشیا)فرانس کے بین الاقوامی فٹ بالر ادریس کی جانب سے ہم جنس پرستی کی مخالفت کرنے پر سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں مہم جاری ہے۔سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کی طرف سے ہم جنس پرستی کا علم نہ اٹھانے پر ان کی تحسین کی جا رہی ہے۔ادریس ا بابا فرانس کے ’پیرس سینٹ جرمین‘ کلب کے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے ہم جنس پرستی کے جھنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ ان کے عقائد اور مذہبی حکم کیخلاف ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ’ہم سب ادریسا گھانا ہیں‘ کے عنوان سے فرانسیسی کھلاڑی کی حمایت میں مہم شروع کی گئی ہے جس میں کھلاڑی کی حمایت اور اسلامی عقائد کے مطابق اپنی رائے دینے پر ان کی حمایت کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ایک اور ہیش ٹیگ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عالمی ٹرینڈ میں سرفہرست ہے۔بہت سے سعودی کلبوں نے ہیش ٹیگ کی حمایت کی اور ادریسا بابا کے لیے ان کے احترام اور عقل پر مبنی ان کے اسلامی عقائد پر فخر کا اظہار کیا۔جابر احمد عسیری نے ٹویٹ کی کہ عرب اور اسلامی ممالک کے کھیلوں کی فیڈریشنوں کو سینیگال کے اسٹار ادریس گانا کے ساتھ ان مہمات کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہم جنس پرستی کی حمایت میں کھڑے نہ ہونے پر انہیں فٹبال مقابلوں سے نکالا جا سکتا ہے۔مبارک الشہری نے کہا کہ فرنچ لیگ کے منتظمین جس تحریک کو تمام کھلاڑیوں کو اپنے گھناو نے منصوبے کی حمایت کرنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب ادریس گھانا ہیں، کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور انہوں نے انسانیت اور عقل کا ثبوت دیا ہے۔سینیگال کے صدر میکی سال نے بین الاقوامی اسٹار ادریسا گھانا جی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔دوسری جانب ادریسا بابا کے خلاف فرانسیسی میڈیا میں مہم جاری ہے۔ ان پر ہم جنس پرستوں کے لیے مونٹ پیلیئر کے خلاف میچ کے 37 ویں راو نڈ میں کھیلنے سے انکار پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پیرس سینٹ جرمین کی ٹیم نے مونٹ پیلیئر میچ کھیلا، جس میں ہم جنس پرستی کی حمایت میں سوڈومی بینر کے رنگوں والی شرٹس پہن رکھی تھیں۔مگر مسلمان فٹ بالر ادریس گھانا نے اسے مسترد کر دیا، کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقائد کے مطابق نہیں تھا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں