Voice of Asia News

آج ختم ہو یا کل یہ حکومت اب نہیں رہے گی شیخ رشید نے اسلام آباد میں خصوصی گفتگو

اسلام آباد(وائس آ ف ایشیاء) سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ آج ختم ہو یا کل یہ حکومت اب نہیں رہے گی۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اب نہیں بچ سکتی،معیشت بچانے کے لیے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے،معیشت بچانے کے لیے عدلیہ اور دیگر اداروں کو آگے آنا ہوگا اور فیصلے کرنے ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ 30روپے فی لیٹر پیٹرول مہنگا کرنے کے بعد2ہزارروپے مہینے کی خیرات معیشت کو تباہی سے نہیں روک سکتی۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ 20کروڑروپے میں رکن کو خرید کر بھی اپنی حکومت نہیں بچاسکتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لوگ چوروں کے اس فرسودہ نظام کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔ان کاکہا ہے کہ جو وزیراعظم کرپشن پر فخر کریں اور ایف آئی اے ہاتھ جوڑ کرکھڑی تو انصاف کا اللہ ہی حافظ ہے۔وزیراعظم سمیت سب کرپشن کےمقدمات والے عنقریب جیلوں میں جائیں گے۔گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ بھارت نے 30 روپے پیٹرول سستا کیا ہے اور امپورٹڈ حکومت نے 30 روپے پیٹرول مہنگا کردیا ، چور اکٹھے ہوجائیں تو مسئلے کا حل مذاکرات نہیں قربانیوں سے نکلتا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ 25 مئی اسلام آباد کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب سویلین بیٹیوں اور بیٹوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو ڈٹے رہے اور آزادی کی تحریک میں اپنا حصہ ڈالا ۔شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ نیب اور الیکشن میں ترامیم کے بعد قوم کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ لوگ اپنے منی لانڈرنگ اور کرپشن کے کیسز ختم کروانے آئے ہیں ، جب 11 سیاسی پارٹیوں کے چور سیاست دان قبضہ گروپ ایک شخض عمران خان کے خلاف اکٹھے ہوجائیں تو مسئلے کا حل کبھی مذاکرات سے نہیں بلکہ قربانیوں سے نکلتا ہے ، ایک ووٹ کی اکثریت کا فرد جرم زدہ شہباز وزیراعظم اور 1 ووٹ کی اکثریت کا فرد جرم زدہ بیٹا چیف منسٹر ہے ، یہ 22 کروڑ عوام کے منہ پہ سیاسی تمانچہ ہے ۔گزشتہ روز عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ حکومتی پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں‘ ایک ووٹ کی حکومت ہے جو منٹ میں ختم ہوسکتی ہے ، دوبارہ لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی اور چند دنوں میں مثبت حل نکل آئے گا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کارکنوں کو روکا گیا، کہتے ہیں لوگ کدھر ہیں، کیسے آتے جب ہر طرف رکاوٹیں تھیں ، کہا تھا لانگ مارچ خونی ہوگا ، 5 افراد جاں بحق ہوئے، زمینی حقائق بدلے ہوئے ہیں ، لوگوں کی آنکھوں میں خون ہے ، بہتر ہے معاملات صلح صفائی سے طے پاجائیں، حکومتی پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، یہ ایک ووٹ کی حکومت ہے جو منٹ میں ختم ہوسکتی ہے ۔سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لیے اور بھی سارے لوگ ہوتے ہیں ، اب لوگوں کو متحرک کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ، حکومت فیصلے تو انگلینڈ سے ہی لیتی رہی لیکن وہ بھی کیا مشورہ دیں گے کیوں کہ نواز شریف اگر باہمت یا بہادر ہوتے تو انہیں اس وقت پاکستان میں ہونا چاہیے تھا لیکن نواز شریف نے لندن سے سازش تیار کی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں