Voice of Asia News

روس نے ‘مغربی صحافیوں ‘ کو دھمکی کیوں دی

ماسکو(وائس آ ف ایشیاء)  ترجمان ماریا زخورووا نے بتایا کہ اس میں یوکرین میں فوجی مداخلت کا معاملہ بھی شامل ہے، ان کی بریفنگ کے مندرجات کو بلاک کرنے کے خلاف وزارت خارجہ نے یوٹیوب کو متنبہ کردیا ہے۔ادھر روسی خبر رساں ادارے ‘طاس’ نے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر آپ نے ہماری دوسری بریفنگ کو بلاک کیا تو صحافی یا کسی امریکی ذرائع ابلاغ کے ادارے کو گھر بھیج دیا جائے گا۔روسی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہی روز قبل روسی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی مغربی ملک روسی میڈیا کے خلاف ‘غیر دوستانہ’ رویہ اپناتا ہے، تو استغاثہ کو ماسکو میں موجود غیر ملکی میڈیا کے دفاتر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔تاہم مزید تفصیل دیئے بغیر روسی وزیر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ روس، انگریزی زبان کے کچھ میڈیا اداروں کے خلاف اقدامات پر غور کر رہا ہے، جن کی بیرونی حکومتوں نے روسی اخباری اداروں کے خلاف غیر دوستانہ اقدام کیا ہے۔یاد رہے کہ مارچ میں صدر ولادیمیر پوتین نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس میں فوج کے خلاف جان بوجھ کر’جعلی” خبریں دینے پر پندرہ برس قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جس پر مغربی میڈیا نے اپنے کئی صحافیوں کو روس سے واپس بلا لیا تھا، تاہم، رائٹرز سمیت دیگر مغربی ادارے روس میں موجود ہیں اور وہاں سے خبریں بھیجتے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں