Voice of Asia News

جوبائیڈن ، پاکستان اور مقبوضہ جموں وکشمیر ، محمد قیصر چوہان

امریکہ میں نسل پرست اور متلون مزاج ری پبلکن صدر ٹرمپ کی شکست اور نسبتاً اعتدال پسند ڈیموکریٹک صدر جوبائیڈن کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کیلئے امریکی پالیسیوں میں معقولیت آنے خصوصاً عالمی امن جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حق میں مدبرانہ اقدامات کی جو توقع کی جارہی ہے اْس کا صحیح اندازہ تو اْس وقت لگایا جائے گا جب اہم عہدوں پر تقرریاں مکمل ہونے کے بعد نئی انتظامیہ کی شکل و صورت واضح ہوگی اور نئے عہدیداروں کی سوچ اور رویے کا پتا چلے گا۔ روشن خیال ڈیموکریٹ امریکی سربراہ جو بائیڈن ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں جو صدر باراک اوباما کے ساتھ جب نائب صدر تھے تو دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ پاکستان کے حالات اور اِس خطے میں اُسے درپیش چیلنجوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اِس لئے پاکستانی قوم اُن سے بہتر رویے کی توقع کر سکتی ہے۔ اُنہوں نے نئی امریکی انتظامیہ کیلئے اب تک جو تقرریاں کی ہیں اْن کا مثبت پہلو یہ ہے کہ نریندر مودی کی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے حامی بھارتی نڑاد امریکیوں کو نظرانداز کرکے انہوں نے آزاد خیال لوگوں کا تقرر کیا ہے جن میں سے دو کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ دونوں خواتین ہیں۔ اِس کا یہ مطلب لیا جارہا ہے کہ نئی امریکی حکومت کے دورانیے میں انسانی حقوق کے ادارے مقبوضہ کشمیر میں متحرک ہو سکتے ہیں۔ نئی انتظامیہ میں 20بھارت نژاد امریکیوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ اُن کے مقابلے میں پاکستانی نژاد امریکیوں کی تعداد کم ہے جس سے امریکہ میں مقیم 5لاکھ سے زائد پاکستانی مایوس ہوئے ہیں لیکن صدر جوبائیڈن سمیت اصل طاقت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اُن کا ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بھارت کی طرف رجحان نسبتاً کم بتایا جاتا ہے کیونکہ وہ اب تک پاک بھارت تعلقات اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر مثبت بیانات دیتے آئے ہیں جس سے سیاسی مبصرین کو اِس خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کے حوالے سے اُمید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ بائیڈن کی انتخابی مہم کے دوران دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا جو ذکر کیا گیا اْن میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال نمایاں تھی۔ بائیڈن انتظامیہ میں دو کشمیریوں کی تقرری سے بھی یہ پیغام ملا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 73سال سے انسانی حقوق کی پامالی کا حل نکالنا ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن امریکہ ماضی میں غیر مشروط وفاداری کے باوجود مشکل وقت میں پاکستان کے کام نہیں آیا اور مستقبل میں بھی اس سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں، اْس کے ساتھ شراکت داری کے حوالے سے ہر قدم سوچ سمجھ کر اور قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر اْٹھانا چاہئے۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے سی آئی اے چیف، وزیر خارجہ سمیت دس اہم ترین عہدے یہودیوں کے حوالے کر دیئے ہیں۔ جوبائیڈن کی سربراہی میں بارک اوباما کی ٹیم دوبارہ واپس آگئی ہے۔ بارک اوباما کا دور پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی تلخ رہا۔ اسی دور میں قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے، سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی فوجی حملہ جس کے نتیجے میں نیٹو سپلائی کی بندش، لاہور میں سی آئی اے کے دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور ایبٹ آباد پر حملہ جیسے واقعات شامل ہیں۔ جوبائیڈن پاکستان کے سیاسی کرداروں سے براہ راست بھی واقف ہیں۔ اس عرصے میں خطے کی سیاست میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ عالمی سیاست میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے والی نئی طاقتوں کی وجہ سے پاکستان جیسے مسلم ممالک کیلئے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کی رخصتی کا جشن منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ امت مسلمہ کا کھلا دشمن تھا جبکہ باقی امریکی قیادت کے دلوں اور دماغوں میں چھپی ہوئی دشمنی ظاہری دشمنی سے بھی زیادہ شدید ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کی نظر پاکستان میں مستقبل کے سیاسی نقشے پر رہے گی۔ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ یہ رہی کہ یہ بے جوڑ شادی کی مانند چل رہے ہں، یہ بندھن نسل در نسل سے جاری ہے۔ امریکہ کی ہمارے لیے یقین دہانیوں کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے، اس کے گرین کارڈ کا اپنا ایک الگ چسکا ہے جس کیلئے ہمارے ریٹائرڈ بیوروکریٹس، فوجی افسران اور سفارت کاروں کی ایک بڑی تعداد وہاں جابسی ہے، امریکی ڈالر ہماری معیشت کو جکڑے ہوئے ہے۔ ملک میں مہنگائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا کورونا کے سامنے بے بسی کا شکار ہوچکی ہے۔ نومنتخب امریکی صدر کی اوّلین ترجیح بھی صحتِ عامہ ہوگی، مگر حلف برداری سے پہلے وہاں کے سیاسی نظام کی صحت سے متعلق بہت سے سوالات اٹھے ہوئے ہیں۔ امریکیوں کی یہی شامتِ اعمال انہیں دنیا میں کمزور کردے گی۔ یہ خلفشار اب امریکہ کو چمٹ گیا ہے، اس کا وائرس اپنی شکلیں بدل بدل کر حملہ آور ہوتا رہے گا، مستقبل میں امریکی معاشرے میں ایسے سیاسی جھگڑے اب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ نومنتخب صدر جوبائیڈن امریکی سیاسی تہذیب کو کس قدر بچا سکیں گے؟ یہ سوال چار سال بعد ضرور سامنے آئے گا۔ اس وقت وہاں صحت کا نظام اور ملکی معیشت بدحال ہے، امریکہ پوری طرح کالے اور گورے میں تقسیم ہوچکا ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر تقسیم رہا، مگر فیصلہ ساز قوتیں معاشرے کی سوچ پر حاوی رہی ہیں، لہٰذا پاک امریکہ نشیب و فراز کے ساتھ پاک امریکہ تعلقات چل رہے ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کے تجزیے کا ایک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی سپر پاورکے ساتھ 73سال سے ہمارے تعلقات ہیں تو ہم معاشی لحاظ سے غربت کی لکیر سے نیچے کیوں ہیں؟ بے روزگاری اورقرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی جارہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ باہمی اعتماد کا عالم یہ ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں باوقار برابری نہیں مل سکی، مگر ہم سات عشروں سے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے