Voice of Asia News

؛عدم برداشت اور ہمارے سیاستدان؛

سیاست دان جس راستے پر نکل کھڑے ہوئے ہیں یہ راستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہے ۔سیاسی انتہاءپسندی روکنے کے لئے ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔سیاستدانوں کے بے بنیاد الزامات معاشرے کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔سیاسی وذاتی مفادات کی خاطر دوسروں کی کردار کشی کرنے والے روزمحشر جواب دہ ہونگے۔تب نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی ہمارامعاشرہ نظریات اسلام پسندی ،حب الوطنی اورانسانی ہمدری پر مبنی ہیں۔
مسائل کا حل سیاسی مخالفین کی کردار کشی سے نہیں باہمی تعاون اورمذاکرات سے ہی ممکن ہے۔امید ہے کہ کل کی اپوزیشن آج کی حکومت اپنے دعوے اوروعدوں پر قائم رہتے ہوئے عوام کی فلاح وبہبود کےلئے عملی اقدامات کرے گی۔وزیراعظم کی طرف سے غریب گھرانوں کے لئے 28ارب روپے کی ابتدائی ریلیف پیکیج کااعلان خوش آئند ہے۔ملکی استحکام اور میثاق معیشت کے حوالہ سے وزیر اعظم شہباز شریف کے عزم کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور آگے ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انکے ہاتھوں کو مظبوط کرنے ضرورت ہے۔ہماری سیاست سے برداشت اورشائستگی کافقدان بحیثیت قوم ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔سیاست دان رول ماڈل کے طور پر مذہبی تعلیمات ،حب الوطنی،سادگی،سچ، ایمانداری،وضع داری،اوراعلیٰ اخلاق کو اپنے اوپر نافذ کرلیں توامید ہے ہمارا معاشرہ اخلاقی، معاشی اوردفاعی لحاظ سے ترقی کرتاہوا نظر آئے گا۔افسوس سے کہناپڑتاہے کہ سیاسی اجتماعات میں جس طرح ایک دوسرے پر بے بنیاد الزامات اورذومعنی جملوں کااستعمال کیاجارہاہے اس پر ہرمحب الوطنی شہری پریشان اورفکرمند ہے۔ملکی استحکام کے لئے معاشرے سے ہرقسم کی شدت پسندی کاخاتمہ ناگزیر ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں