Voice of Asia News

شہباز شریف کی حکومت میں ”پٹرول بم“ کس کی سازش

وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف جو اِن دنوں ترکی کے دورے پر ملک وقوم کی خوشحالی اور معیشت کی بہتری کے لئے گئے ہیں اِن کے دورے سے قبل اس وقت پاکستان میں ترکی کی 1 ارب کی سرمایہ کاری ہے میاں شہباز شریف کے دورے میں شامل وفد کا ترکی میں والہانہ استقبال کیا گیا ترک صدر طیب اردگان کی طرف سے ان کی حکومت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ترکی پاکستان میں مزید 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے ترکی جن شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اس سے ملک کی معیشت کی بہتری کے علاوہ عوام کو روز گار بھی ملے گا جو بڑی خوش آئند بات ہے ترک صدر نے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ان کے وفد سے ملاقات کے دوران ترکی کے سرمایہ کا ر بھی موجود تھے ترک صدر نے اپنے خطاب میں بڑی گرم جوشی سے اس بات کا اظہار کیا کی ترکی پاکستان کا دوسرا گھر ہے اور دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لیکن سابقہ دور حکومت میں ان کے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے اچھا سلوک نہیں کیا گیا ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے،پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، ان کی نہ صرف تضحیک کی گئی بلکہ ان کا کروڑوں کا سامان بھی ضبط کر لیا گیا ہم سابقہ حکومت سے بھرپور تعاون کے طلب گار تھے لیکن سرمایہ کاروں کے ساتھ توہین آمیز سلوک نے ہمیں واپس لوٹنے پر مجبور کیا ہم برادر ملک پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں کشمیر ایشو پر ہم پاکستان کے ساتھ ہیں ہم نے کسی نازک موقع پر پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑا اس صورت حال کے پیش نظر ہمارے سرمایہ کار پاکستان میں مزید سرمایہ کاری سے بھاگ آئے اب آپ کی حکومت آئی ہے تو ہم پاکستان کی ترقی وخوشحالی اور معیشت کی بہتری کے لئے آپ سے مکمل تعاون کریں گے اس کے جواب میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے سابقہ دور میں ترکی کے سرمایہ کاروں سے ہونے والی زیادتیوں پر معذرت کر تے ہوئے مستقبل میں مکمل تعاون اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر ہال میں موجود ترک سرمایہ کاروں نے تالیاں بجا کر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا،قارئین سابقہ پی ٹی آئی حکومت میں ترکی کے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیارکیا گیا اس کا جواب تو اب کوئی پاکستانی نہیں دے سکتا اس لئے کہ اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کی غرض سے بیرونی ممالک سے آنے والوں سرمایہ کاروں سے بدتمیزی اور بدتہذیبی کا سلوک کیا جائے گا تو کون پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے آئے گا اس لئے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کا کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں بڑا اہم کردار ہو تا ہے اور پاکستا ن تو ویسے بھی مہمان نوازی میں دنیا بھر میں مشہور ہے اور ایسی باتیں تو پوری پاکستانی قوم کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے وہ کشمیر ایشو ہو یا کوئی اور پاکستان اور ترکی کی دوستی لازوال ہے سابقہ دور میں ترکی کی ایک کمپنی البراق کے خلاف جھوٹے مقدمات سابق وزیراعظم کے مشیر شہباز گل کے ایما پر بنائے گئے تھے لیکن اس وقت کے وزیراعظم نے ترکی کے سرمایہ کاروں کی کوئی مدد نہیں کی تھی اور نہ ہی انہیں تحفظ فراہم کیا گیا جس کے بعد ترکی کے سرمایہ کار پاکستان سے چلے گئے پاکستان کی سنگین معاشی صورت حال میں وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ایک بار پھر بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے اور وزیراعظم پاکستان ہونے کے ناطے اور بدترین مخالف ہونے کے باوجود عمران خان کو ملک کے وسیع تر مفاد اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے اور اگر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اب بھی مثبت جواب نہ دیا تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گی کہ عمران خان کو ملکی معاملات اور سنگین صورت حال سے کوئی سروکار نہیں انہیں صرف اقتدار چاہئے اور ان کا بار بار مارچ 2- کے لئے عدلیہ سے مکمل سیکیورٹی کے تقاضے اور مقتدر حلقوں پر 70 سالہ ڈکٹیشن پر ملک چلانے کا الزام سراسر جھوٹ پر مبنی اور حقائق کے منافی ہے اس لئے کہ مقتدر حلقے ملک کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ملک کو بہتر انداز میں چلانے کی خواہش رکھنے والے کو اقتدار کی سیڑھی پر چڑھاتے ہیں وہ کسی کو ڈکٹیشن نہیں دیتے ان کا کام ملک کی اندورنی اور بیرونی سرحدوں کے علاوہ عوام کے جان ومال کی حفاظت کرنا ہے ڈکٹیشن لینے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہمارے سیاست دان خود مقتدر حلقوں کی چاپ لوسی کرتے ہوئے ان سے رجوع کرتے ہیں مگر بدقسمتی کی بات ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہی وزیراعظم اور حکومت لینے والا شخص پھر ان مقتدر حلقوں کی ہرزہ سرائی کرکے دنیا میں اُن کا امیج خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے محسنوں کی کردار کشی کرائی جا رہی ہے ایسا ماضی میں بھی ہوا ہے اور اب بھی ہورہا ہے ہم اپنے گندے کپڑے باہر دھو رہے ہیں ملک کی سنگینی کے پیش نظر عمران خان کو اپنے مارچ ٹو کو وقتی طور پر موخر کرنے کے پیغامات پہنچا دیئے گئے ہیں اور صرف ہلکی پھلکی گولا باری کرنے کے لئے کہا گیا ہے اس لئے کہ سابق وزرائے اعظم اور موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف میں زمین و آسمان کا فرق ہے جو ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی بجائے مفاہمت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کرنے والے ہیں میاں شہباز شریف اندر سے اینیٹں کھا کربھی آگے بڑھ رہے ہیں وہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کے ایماء پر وزیر بننے والوں کے بھی تیر برداشت کر رہے ہیں گذشتہ دنوں وزیراعظم میاں شہباز شریف نے28 ارب کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تو اس کے جواب میں وفاقی وزیر احسن اقبال اور مصدق ملک نے وزیراعظم کے ریلیف کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ خزانہ خالی ہے اور زہر کھانے کو پیسہ نہیں اس سے زیادہ وزیراعظم کی اور کیا تضحیک ہو گی حالانکہ سب جانتے ہیں کہ میاں شہباز شریف نے ملک کو بخرانوں سے نکالنے کی ذمہ داری ”میاں نواز شریف یا مریم نواز یا ان کے حاشیہ برداروں“کے ایماء پر نہیں بلکہ سابق صدر آصف علی زرداری سے مشاورت کے بعد لی ہے اور وہ دونوں اندورنی مخالفت کے باوجود منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یہ ملک کے بگڑتی ہوئی صورت حال کو کنٹرول کر لیں گے اس وقت مخالفین یہ تنقید کر رہے ہیں کہ وزیراعظم کو بیرونی دورے نہیں کرنے چاہئیں تو بھائی ہاتھ پر ہاتھ دھرے ملک میں بیٹھے رہیں آئی ایم ایف سے امداد کے علاوہ دوست ممالک سے بھی ملک کی معیشت، مہنگائی اور بیروز گاری کو کنٹرول کرنے کے لئے مدد کی اشد ضرورت ہے اور اگر خدا نخواستہ ملک دیوالیہ ہوتا ہے تو پھر اپنے اور غیر سب کہیں گے کہ ہم نے موجودہ صورت حال میں حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالنے سے منع کیا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے بیرونی دوروں سے ملک کی معاشی حالت بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں بات عمران خان کے مارچ ٹو کی ہو رہی تھی اب عمران خان کو اپنے 25 مئی کے مارچ کی ناکامی کے بعد نظر ثانی کرنی ہوگی کہ اس مارچ میں لاہور سے کتنے اراکین قومی، صوبائی اور بڑے بڑے دعوے داروں کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا غائب ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عمران خان کوآرام کرنا چاہیے اس لئے کہ جو لیڈر اپنے کارکنوں کے خلاف یہ بیان دے کہ میرے کارکنوں کے پاس بھی اسلحہ ہے اور وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان یہ کہے کہ میں اپنی فورس کے ساتھ اسلام آباد جاؤں گا یہ ملک میں خانہ جنگی کا پیغام ہے اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اس کے بعد عدلیہ سے عمران خان کے مارچ ٹو کے شرکاء کیلئے سیکیورٹی کیسے ممکن ہو سکتی ہے اس وقت عمران خان کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی نے بھی عمران خان کو اسمبلی میں جانے کا مشورہ دے کر”مارچ ٹو“ سے جان چھڑائی ہے اس لیے کہ آصف علی زرداری کی چودھری شجاعت سے ملاقات کے بعد پنجاب کی صورت حال بھی تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور چودھری پرویز الٰہی کے سپیکر کے عہدے کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جو ن لیگ سے بذریعہ آصف علی زرداری مانگی جارہی ہے جس سے وزارت اعلیٰ پنجاب اور سپیکر پنجاب کے عہدے بچ جائیں گے ادھر عمران خان نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے ذریعے آصف علی زرداری کو اپنے مارچ کے دوران سیاسی مدد مانگنے کا پیغام بجھوانے کی تردید کر دی ہے جو عمران خان کے غیر سیاسی ہونے کا ثبوت ہے اگر ماضی میں ایک دوسرے کے بد ترین مخالف ہونے کے باوجود ن لیگ اور پیپلز پارٹی آج اکٹھے ہیں تو کل پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں اور پھر عمران خان کو اس بات کا بھی غور کرنا چاہئے کہ اس کی صفوں میں اداروں سے محاذ آرائی کرانے اور انہیں اقتدار سے الگ کرانے والے تو نہیں ہیں؟ اس لیے کہ کوئی سیاسی جماعت اداروں کو متنازعہ اور محاذ آرائی کر کے اقتدار میں نہ ہی ماضی میں آئی ہے اور نہ ہی مستقبل میں آئے گی اور عمران خان کا یہ کہنا کہ اگر موجودہ حکومت کی بجائے ملک پر ایٹم بم مار دیا جائے اور یہی نہیں ایک نجی چینل کے پروگرام میں عمران خان نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پاکستان کے تین ٹکڑے ہونے جارہے ہیں ایسا کیوں کہا جارہا ہے اور یہ عمران خان کس کے ایما پر کہہ رہا ہے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے بیرون ملک دورے کے دوران ملک میں عوام پر پٹرول بم روزانہ گرائے جا رہے ہیں جس سے میاں شہباز شریف ان کے حامی لکھاریوں اور چاہنے والوں کو سوشل میڈیا پر گالیوں اور بددعاؤں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایسا سلوک عوام سے کیوں کیا جارہا ہے اس کا جواب میاں شہباز شریف ہی دیں گے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں