Voice of Asia News

فاشٹ مودی کی اسلام دشمنی

  امت مسلمہ کی آقا محمدؐ کے لئے محبت جزو ایمان ہے آقا کریم ؐ کے لیے ہماری محبت دنیا کی ہر چیز پر مقدم ہے ہر مسلمان اپنے آقا کریمؐ کی محبت اور ان کی ناموس کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے بھارت کی برسر اقتدار پارٹی کے ترجمان نے جو نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کہ ہے اس پر پورا عالم اسلام تکلیف میں ہے او آئی سی کو اس واقعے پر مزید موثر آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے مودی کا ماضی سب کے سامنے ہے اور گذشتہ روز بے جی پی کے ترجمان نورپور شرمااور نوین کمار جندال کی جانب سے حضرت محمد ؐ کی توہین والا واقعہ بھارتی حکومت، مودی اور بے جی پی کی سوچی سمجھی سازش، مسلم دشمنی اور اسلامو فوبیا کا شاخسانہ ہے بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی، بدترین قتل وغارتگری، کشمیر یوں کیلئے زمین تنگ کرنے،آسام، بہار،اترپردیش سمیت کئی ریاستوں میں مساجد، مدارس اور گھروں پر بلڈوزر چلانے،مسلم طالبات کو پردہ اور اسکارف پہننے پر پابندی کے واقعات کے بعد فاشسٹ پارٹی کے ترجمان نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی اسلام دشمنی اورمسلمانوں کے جذبات کومجروح کیا ہے انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی ہزاروں سال پرانی مساجد کو مندروں میں تبدیل،مدارس کو غیرقانونی قرار دیکر ثابت کردیا ہے کہ وہ دنیا میں مسلم دشمنی میں سب سے آگے ہے،بارہا بی جے پی کے رہنماو ں اورعہدے داروں کے توہین آمیزاورمتنازعہ بیانات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور یہ بیانات ہندوستان میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے عکاس ہیں جس سے نہ صرف بھارت میں بسنے والے 20کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو بھی مجروح کیا گیا بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے اربوں مسلمانوں کو پی جے پی کا رویہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے اور آئی سی نے بھی اس پر سخت رد عمل دیا ہے کہ کسی کے جذبات مجروح کرنا کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے لیکن بھارتی حکومتی پارٹی نے اب تمام حدیں پار کر دی ہیں عالمی طاقتیں،انسانی حقوق کی تنظیمیں اسطرح کے گھناؤنے اقدامات کا نوٹس لیں حضرت محمد ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی پارٹی رکنیت معطل کرنا ناکافی ہے اب بھارتی جنتا پارٹی کو مسلم دشمنی اور فاشسٹ ہندوتوا نظریے سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی مگر مودی حکومت نے بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیخلاف دھرتی تنگ کردی گئی ہے بی جے پی کے فاشسٹ اور نازی ازم سے دنیا بھر کا امن داؤپر لگا ہوا ہے مودی کے نفرت انگیزہندوتوا فلسفے کے تحت بھارت اپنی تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں کو پامال اوران پربلاامتیازظلم کررہا ہے۔ بی جے پی کی خاتون ترجمان نورپورشرما کے نبی کریمؐکی شان میں توہین آمیز ریمارکس کی پوری دنیا سخت ترین الفاظ میں مذمت میں کررہی ہے مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن نبی رحمت ؐ کی شان اقدس میں کوئی گستاخی کرے کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی بی جے پی کی تر جمان کے بیان سے دنیا بھر میں اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں بھارت سیکوکر اسٹیٹ کہلاتی ہے اس کے حکمرانوں کو چاہئے کہ اسلام دشمن جارحانہ طرزعمل چھوڑ کر مذہبی اقلیتوں جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ بندکریں اور ان کی جان و مال کا تحفظ کریں اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی دی جائے مگر ایسے بیانات ہندوستان میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے عکاس ہیں ’توہین آمیز بیان دینے پر محض پارٹی عہدیداروں کو معطل کرنا اور نکال دینا کافی نہیں بلکہ بی جے پی کو اپنے انتہا پسند اور فاشسٹ ہندو نظریئے سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہو گی، مودی کے نفرت انگیز ہندو فلسفے کے تحت بھارت اپنی تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں کو پامال کر رہا ہے اور ان پر بلاامتیاز ظلم کیا جا رہا ہے اس طرح کے اسلامو فوبیا کے بیانات کی اجازت دینا انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سنگین خطرہ ہے اسکے ساتھ ساتھ مودی حکومت مسلمانوں کیخلاف اشتعال انگیزی اور نفرت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں پر حملے کرائے جا رہے ہیں نبی کریم ؐ کی گستاخی مسلمانوں کیلئے بہت تکلیف دہ ہے اس لیے عالمی برادری بھارت میں اسلامو فوبیا کی سنگین صورت حال کا فوری نوٹس لے اور ہندوستان کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے اپنے عقیدے اور مذہبی عقائد پر عمل کرنے کے حقوق سلب کرنے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے،دنیا کو ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی سے بچانے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے اقوام عالم اور بالخصوص OICاس ضمن میں جرأت مندانہ کردار ادا کرے اور بھارت کے انتہاپسندانہ طرزعمل کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا بھر میں رہنے والے ہندو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور حالات کی تمام تر سنگینی کی ذمہ داری مودی پر عائد ہوگی ہم ہندوستان سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں ہماری حکومت بھی چاہتی ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی پالیسیاں بنائی جائیں بلخصوص پنجاب حکومت بھارت کے ساتھ تجارتی پالیسیوں پر بھی نظر ثانی کررہی ہے اور ان حالات میں ایسے بیانات کا منظر عام پر آنا انتہائی افسوس ناک ہے مودی اور اسکے دہشت گرد حواری چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہے اور دن بدن بھارت میں بڑھتی ہوئی غربت سے عوام خانہ جنگی شروع ہو یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے غنڈے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے میں مصروف اور انکے مظالم سے ہندوستان میں بسنے والی اقلیتیں محفوظ ہیں اور نہ ہی کشمیر کے معصوم اور بے گناہ مسلمان انکی وحشت اور درندگی سے محفوظ ہیں بھارت کی طرف سے 25 مئی کو یاسین ملک کے حوالے سے بھی بری خبر ملی تھی۔(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)

image_pdfimage_print
شیئرکریں