Breaking News
Voice of Asia News

مقصود چپڑاسی، ڈاکٹر رضوان کے انتقال کے بعد مختلف خدشات کا اظہار شہباز گل

اسلام آباد(وائس آ ف ایشیاء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے مقصود چپڑاسی کے انتقال کے بعد مختلف خدشات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مقصود چپڑاسی، ڈاکٹر رضوان اور نوید یہ تینوں لوگ شریفوں کے منی لانڈرنگ کے اہم کردار ہیں۔ تینوں کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ دو ہلاک کر دئیے گئے اور نوید زندگی موت کے درمیان لٹک رہا ہے۔ شہباز گل نے کہا کہ خدشہ ہے کہ تمام لوگوں کو خاص قسم کے کیمکل ان کے کھانے میں دے کر یہ ہارٹ اٹیک کروائے گئے۔ شہباز گل نے الزام رائد کیا کہ ان کو قتل کیا گیا ہے۔ ۔خیال رہے کہ منی لانڈرنگ کے اہم کردار مقصود چپڑاسی انتقال کرگئے۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے اہم کردار مقصود چپڑاسی انتقال کر گئے۔ مقصود چپڑاسی حرکت قبل بند ہونے سے بیرون ملک میں انتقال کر گئے۔وہ حالیہ دنوں میں بیرون ملک مقیم تھے۔پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں شہزاد اکبر نے مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے نکلنے کا دعویٰ کیا تھا۔ شہباز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس تھا۔مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں پیسے آنے کے بعد ان کو منی لانڈرنگ کیس میں شامل کیا گیا تھا۔ قبل ازیں وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) سے معلوم ہوا کہ مقصود چپڑاسی کے اکاونٹس میں 3 ارب 9 کروڑ سے زائد روپے کی ترسیلات ہوئیں۔ ایف آئی اے کی دستاویز سے پتہ چلا کہ مقصود چپڑاسی کی 2004 میں تنخواہ 7 ہزار اور 2017 میں 25 ہزارروپے تھی ، مقصود چپڑاسی کے نام پر کمپنی رجسٹرڈ ہوئی اس کے بعد اکاؤنٹس بنائے گئے۔ 13مئی 2010ء کو مسلم ٹاون برانچ میں مقصود اینڈ کمپنی کے نام سے اکاؤنٹ کھولا گیا جہاں مقصود نے اوپننگ اکاؤنٹ میں ٹرن اوور ایک کروڑ درج کیا جب کہ مجموعی ٹرن اوور 74 کروڑ 10 لاکھ روپے رہا جب کہ مقصود اینڈ کمپنی کے نام کا ایک اکاؤنٹ 2015 میں چنیوٹ فیصل آباد میں کھولا گیا ، اس اکاونٹ میں سالانہ ٹرن اوور زیادہ سے زیادہ 15 لاکھ روپے ظاہر کیا گیا ، اکاؤنٹ میں 2015ء سے 2018ء تک 77 کروڑ 20 لاکھ روپے ٹرن اوور رہا۔ 30 جنوری 2017ء کو چینیوٹ میں ہی مقصود اینڈ کمپنی کے نام پر ایک اور اکاؤنٹ کھولا گیا ، اس اکاونٹ میں سالانہ ٹرن اوور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ظاہر کیا گیا لیکن اس اکاؤنٹ میں صرف ایک سال کے دوران ٹرن اوور 46 کروڑ 30 لاکھ روپے رہا۔ ایف آئی اے حکام کہتے ہیں کہ 2 اپریل 2015ء کو چنیوٹ میں مقصود احمد نے اپنے ذاتی نام سے اکاونٹ کھولا ، مقصود احمد کے اکاونٹ کا اس اکاؤنٹ کا سالانہ ٹرن اوور 13 لاکھ روپے ظاہر کیا گیا جب کہ ملک مقصود کے اس ذاتی اکاؤنٹ میں 2015ء سے 2017ء تک ٹرن اوور ایک ارب 5 کروڑ 40 لاکھ روپے رہا۔ دستاویزات کے مطابق 25 جنوری 2017ء کو چنیوٹ میں مقصود اینڈ کمپنی کا سیلری اکاؤنٹ کھولا گیا ، اکاؤنٹ میں ماہانہ 70 ہزار اور 13 لاکھ روپے سالانہ ٹرن اوور ظاہر کیا گیا تاہم مقصود اینڈ کمپنی کے اس اکاؤنٹ میں ایک سال میں 30 کروڑ 60 لاکھ روپے ٹرن اوور رہا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں