Voice of Asia News

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عدالت میں چیلنج

لاہور (وائس آ ف ایشیاء) حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ، اس حوالے سے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر کی گی درخواست میں اوگرا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے کابینہ کی منظوری کی بغیر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا ، اس لیے حکومت کا یہ اقدام غیر قانونی ہے ، جس کی وجہ سے عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو کلعدم قرار دے۔ ادھر وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے پر پی ٹی آئی حکومت نے دستخط کیے تھے ، آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ، آئی ایم ایف اور پی ٹی آئی حکومت کی ڈیل کی تفصیلات سے متعلق جلد قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بہت جلد معاشی مشکلات سے نکلیں گے ، جن لوگوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ بدترین معاہدہ کیا ان کا ضمیر ہے یا نہیں؟ جن لوگوں نے برے معاشی فیصلے کیے ، ان میں سچ کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہے یا نہیں؟ وہ لوگ کیسے بے گناہ ہونے کا بہانہ کر سکتے ہیں جن کی وجہ سے قوم کرب سے گزررہی ہے۔ خیال رہے کہ حکومت نے عوام پر چند ہی دنوں میں تیسرا پٹرول بم گرا دیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 59 روپے تک اضافے کا اعلان کر دیا گیا ، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ پٹرول 24 روپے اور ڈیزل 59 روپے مہنگا ہو جائے گا ، جس کے بعد پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 233 روپے 89 پیسے ہو گی جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 263 روپے 61 پیسے مقرر کر دی گئی ۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے 15 دنوں کے دوران پٹرول کی قیمت میں 84 روپے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 115 روپے مہنگا کیا گیا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں