Voice of Asia News

"ماں جھوٹ نہیں بولتی”

کہتے ہیں کہ جسم کے حصےمیں کینسر ہو جائے تو جسم کا وہ حصہ کاٹ دینا چاہیے تاکہ یہ کینسر ناسور نہ بن جائے جس سے انسان کی موت واقع ہو جائے اور اگر اولاد نافرمان ہو جایے تو والدین کے لیے یہ کسی موت سے کم نہیں ہوتا جن نازوں سے اولاد کی والدین پرورش کرتے ہیں اسکی مثال بھی دنیا میں نہیں ملتی مگر ناخلف اولاد اک ایسی لڑکی یا لڑکے کے پیچھے لگ کر جسے ملے جمعہ جمعہ آٹھ روز نہیں ہوئے ہوتے اپنے ہی والدین کو جھوٹا قرار دینے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جس سے والدین کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی اس کے باوجود والدین اپنے بچوں کے ہر عیب پر پردہ ڈالتے رہتے کہ بچوں سے غلطی ہو جاتی ہے اور صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجایے گا ۔ جوانی کے جوش میں اولاد اپنے ہوش بھی کھو بیٹھتی ہیں اور جب ہوش آتا ہے تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے دوسرا ہمارے معاشرے کو تباہ کرنے میں موبائل فون کا بھی اہم کردار ہے جس رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیا ہے اور بچوں کو نہ یہ معلوم پڑتا ہے کہ دن یا رات اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ والدین سامنے بیٹھے ہیں موبائل چھوڑ کر والدین کو وقت دیے دے ایسے آجنبیوں سے باتوں معروف ہوتے کہ قریب بیھٹا اپنا کوئی نظر نہیں آتا۔ اسی طرح کا کراچی میں موبائل فون سے رونما ہونے والے واقع نے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میڈیا نے بھی اس واقعے پر جو کردار رہا وہ کوئی قابل تعریف نہیں رہا دعا ازھر کیس کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اس کیس کا فیصلہ کیا ہوا اس پر مجھے ہا کسی بھی باشعور انسان کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا مگر جو اس نومولود جوڑے نے ایک انٹرویو میں وکٹری کا نشان بنایا جسے انڈیا فتح کر لیا ہو اور جس طرح لڑکی نے اپنے والدین کو جھوٹا قرار دیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی اس لڑکی کا انٹرویو کا کچھ حصہ پیش کررہا ہوں "دعا کا کہنا تھا کہ وہ واقعی مطمئن اور محبت میں تھے جیسا کہ انہوں نے اپنے تعلقات کے بارے میں دنیا کو بتایا۔ اس نے مزید کہا کہ تین سال اور چار ماہ قبل میری اور ظہیر کی ملاقات ویڈیو گیم پب جی کے ذریعے ہوئی تھی۔ میرے والدین نے اس کے گیمنگ ڈیوائس کو دریافت کرنے کے بعد اسے ہٹا دیا۔
دعا نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ 17 سال کی ہیں۔ وہ اپنے والدین کی شادی کے اگلے سال پیدا ہوئی تھی۔ اس کے والد نے اس کی ملازمت اور شادی کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری دستاویزات میں اس کی عمر کو جھوٹا بنایا تھا۔اور اسی طرح میری ماں نے عدالت میں جج کے سامنے جھوٹ بولا تھا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں جبکہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔
میری خواہش ہے کہ اس کے والدین اسے معاف کر دیں اور ظہیر سے اس کی شادی کی منظوری دیں:اس نومولود لڑکی نے نہ صرف اپنے باپ ہی نہیں ماں کوبھی جھوٹا قرار دیے دیا اور پر افسوس کے قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے ان دونوں نومولود بچوں کو سمجھنے کی بجائے ان کی باتوں کو آسانی سے مان کر بچی کو والدین سے دور کردیا اور اس پر میڈیا کا کردار بھی بہت بھیانک رہا چسکے لیے لیے کر خبروں کی ہیڈلائنز ز پیش کرتے ہے اس سارے واقعہ دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ان دونوں بچوں کو بھی زندگی کے کسی موڑ پر یہ نہ دیکھنا سننا پر جائے کہ ان کی ماں جھوٹی ہے کیونکہ مقافات عمل اسی کو کہتے ہیں ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں